ومن الناس من یشتری نفسہ ابتغاء مر ضاۃ اللہ،و اللہ رؤف بالعباد (البقرہ 207)
ترجمہ ، بعض لوگ ایسے ہیں جو اللہ کی رضا و خوشنودی کے بدلہ میں اپنی جان تک بیچ دیتے ہیں ،
اور اللہ رب العزت بندوں پر بہت مہربان ہے ،
یہ آیت کریمہ مشہور صحابی حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ کے متعلق نازل ہوئی ہے ،یہ بہت مالدار تھے ، بڑے گھرانے کے لوگوں میں شمار تھا ، قیمتی قیمتی کپڑے زیب تن فرمایا کرتے تھے ، کئ کئ سو درہم کے جوڑے پہنا کر تے ، لیکن جب اسلام لائے اور ہجرت کا ارادہ کیا تو کفار نے آپ رضی اللہ عنہ کو پریشان کیا اور ہجرت سے روکنا شروع کیا ، ،اور مکہ سے باہر آپ کا تعاقب کیا اسوقت آپ رضی اللہ عنہ کفار کو جواب دیا کہ: میں ایک ماہر تیر انداز ہوں مجھ سے مقابلہ کرنا تمہارے لیے دشوار ہے ، کیونکہ کہ جب تک تیر کمان میرے پاس رہیں گیں تب تک میں مقابلہ کرتا رہوں گا ، اور پھر میرے پاس تلوار بھی ہے جب تک تلوار ٹوٹے گی نہیں اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹوں گا ، اسلیے مجھ سے مقابلہ کیلئے سوچنا بھی مت ،ہاں : اگر تمہیں میرا مال چاہیے ،میری ساری جائیداد پر قبضہ چاہیے تو جاؤ ، فلاں فلاں جگہ پر میری پوری جائداد موجود ہے ،لے لو، کفار تو مال ہی کے لالچ میں تھے ، آپ رضی اللہ عنہ نے کفار کو مال کے لالچ کا حوالہ دیا تو ان سبھوں نے آپ کا راستہ چھوڑ کر مال کے قبضے کے پیچھے ہولۓ،
حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے ہجرت کرکے مدینہ پاک تشریف لائے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آکے مل گیۓ ، یہ مذکورہ بالا آیت انہیں کی شان اور توصیف میں نازل ہوئی ،
اسلام لانے کے بعد ان پر ایسے حالات اۓ کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچا اور وہ خالی ہاتھ ہو گۓ ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر پورا واقعہ بتایا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت آپ کے متعلق ارشاد فرمایا کہ !ربح البیع أبایحی ، ربح البیع أبایحی ،
تمہارا کاروبار اور تجارت نفع بخش ہے
اپنی جان بیچ نے کا مطلب اور کمال ایمان کا معیار
ومن الناس من یشتری نفسہ ابتغاء مرضاۃ اللہ ،
اور بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی کے بدلہ میں اپنی جان تک بیچ دیتے ہیں ،
اپنے نفس اور جان بیچ نے کا کیا مطلب ہے ؟
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں لگا دے ، جس طرح دکاندار کسی شی کو فروخت کردیتا ہے ،اور پھر اس سامان پر اسے کوئی اختیار اور حق تصرف باقی نہیں رہتا ہے اسی طرح سے مومنین اپنی جانوں کو اللہ کی رضا کے لیے بیچ کر اللہ کی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں ، اس کی اجازت کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھاتے ہیں ،جو اس کے مرضی کے خلاف کام ہو ،اور یہی کمال ایمان کا معیار ہے جو تمام اہل ایمان کی شان ہونی چاہیے ،حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ،
ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ،(التوبہ 111)
بے شک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو خرید لیا ہے اس بات کے عوض کہ ان کو جنت ملے گی ،
بندوں پر اللہ کی مہربانی کا مطلب کیا ہے ،
واللہ رؤوف بالعباد اور اللہ تعالیٰ بندوں پر بہت مہربان ہے ،
اللہ تعالیٰ کی مہربانی بندوں پر اس معنی کر کے ہے کہ: اللہ اس سے انابت الی اللہ کی توفیق عطا فرمائے ، دین و ایمان اور قرآن کریم کی سمجھ اور فہم عطا فرمائے ، یہ نہیں کہ بندہ جو چاہے اس کا سارا کام پورا ہو جائے ،