بسم اللہ الرحمن الرحيم
ادعونى استجب لكم
اس ایت کریمہ میں اللہ رب العزت کہہ رہا ہے کہ" تم
مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہم کچھ چاہتے ہیں اور پوری شدت سے چاہتے ہیں لیکن وہ ہمیں بروقت حاصل نہیں ہوتا ہے پھر ہم کوشش کرتے ہیں کہ جو بھی قبولیت کا وقت بتایا گیا ہے ہم اس میں دعا کریں اور اللہ سے پوری امید کے ساتھ دعا کریں کہ یہ تو دعاؤں کی قبولیت کی گھڑی ہے اس میں میری دعا قبول ہوگی ہم پورے شدت سے وہ ساری چیزیں کرتے ہیں جس سے ہم کو وہ چیز حاصل ہو جائے اور دعا بھی کرتے رہتے ہیں پھر کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ وقت محدود نکل جاتا ہے جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے پھر اس وقت ہمارے دل و دماغ میں منفی سوچ پیدا ہونے لگتی ہے یہ اللہ ہماری دعائیں نہیں سنتا وہ ہماری دعائیں قبول نہیں کرتا جب وہ جانتا ہے کہ ہم نے وہ چیز کتنی شدت سے چاہی تھی پھر بھی اللہ نے مجھے وہ نہیں دی وغیرہ وغیرہ۔
مگر افسوس کبھی ہم یہ نہیں سوچتے کہ اللہ نے ہمیں اس چیز سے کیوں نہیں نوازا کیا وہ ہمارے لیے نہیں تھی یا ہم اس کے قابل تھے بھی یا نہیں؟
جبکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے یہ غور و فکر کا مقام ہے کہ اللہ نے ہمیں اس چیز سے کیوں نہیں نوازا جبکہ اللہ تعالی نے خود اپنے مقدس کلام قران مجید میں فرمایا ہےکہ ادعونی استجب لکم تم، مجھ دعا کرو میں تمہاری دعا کو قبول کروں گا تو کیوں ایسا ہوتا ہے کہ ہماری شدت قلب سے کی گئی دعا قبول نہیں ہوتی تو یہ وقت وہ نہیں ہوتا کہ ہم دل و دماغ میں منفی سوچ پیدا کریں بلکہ یہ سوچنے اور سمجھنے کا وقت ہوتا ہے کہ وہ رب جو ہمیں ہمارے شہرک سے بھی زیادہ جاننے والا ہے اس نے ہمیں اس چیز سے نہیں نوازا تو کوئی تو حکمت ہے کوئی تو مصلحت ہوگی نا اس میں یا ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ جس چیز کی ہم خواہش کر رہے تھے وہ ہمارے لیے بہتر نہ ہو کیونکہ ہم تو بہتر کی تلاش کرنے والے ہیں اور اللہ بہترین کرنے والا ہے۔
دعائے قبول ہوتی ہیں آج نہیں تو کل ہوں گی لیکن ہوں گی ضرور جب اس کا صحیح وقت ہوگا اس بات کو ہم ہاجرہ علیہ السلام سے سیکھ سکتے ہیں کہ وہ بے بیان صحرا میں ایک معصوم بچے یعنی حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ تھیں کہ ان کا توشہ ختم ہو جاتا ہے اور اسماعیل علیہ السلام پیاس و بھوک سے بلکنے لگتے ہیں اور ہاجرہ علیہ السلام پانی کی تلاش میں صفا عمرو کا چکر لگاتی ہیں اور اپنے رب سے مسلسل دعا بھی کرتی ہیں اللہ تعالی نے ان کی دعا قبول کی لیکن وقت بھی لگا جب ان کی دعا قبول ہوئی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پیرو تلے زم کا چشمہ پھوٹا اس وقت تک حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے صفا و مروہ کا ساتھ چکر لگایا تھا انہیں نے نہ دعا کرنی چھوڑی اور نہ اللہ سے شکایت کی اور ہاجرہ علیہ السلام کی کوشش اور صبر اللہ تعالی کو اس حد تک پسند ایا کہ ان کے اس عمل کو حج اور عمرہ کے ارکان میں شامل کر دیا جس کے بغیر کوئی بھی حج اور عمرہ نہیں کر سکتا اس سے کہتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے ۔
لہذا ہمیں دعائیں کرتی رہنی چاہیے دعائیں قبول ہوں گی اور جتنا وقت لگتا ہے دعاؤں کے قبول ہونے میں وہ اتنی ہی بہتر اور خوبصورت شکل میں ملتی ہے خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہم ہمیں دعا کرنی چاہیے اور پوری امید اور خشوع و خضو کے ساتھ اور قبولیت کی تاخیر سے گھبرانا نہیں چاہیے اور جو ہمیں لاکھ دعاؤں سے بھی نہ ملے یہ سمجھ کر صبر کرنا چاہیے کہ وہ میرے لیے تھا ہی نہیں کیونکہ صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے ہمیں شکایت نہیں کرنی ہے اللہ سے دعا ہے کہ اے اللہ رب العالمین ہماری دعاؤں کو قبول فرما اور ہمیں صبر 
کی توفیق عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔