*غربت کس کو کہتے ہیں*


ایک بوڑھے شخص سے کسی نے پوچھا کے آج کل اتنی غربت کیوں ہے؟


جواب دیا اور بہت خوبصورت جواب دیا،

میرے خیال میں آج اتنی غربت نہیں جتنا لوگوں نے شور مچا رکھا ہے،

آج کل ہم جس کو غربت بولتے ہیں وہ دراصل خواہشات کا پورا نہ ہونا ہے،

پھر بزرگ نے بولنا شروع کیا اور سمجھایا غربت کے بارے میں کہ غربت کس کو کہتے ہیں...


بیان کرتے ہیں، ‏ہم نے غربت کے وہ دن بھی دیکھیں ہیں کہ اسکول میں تختی پر پوتنے کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو مٹی لگایا کرتے تھے، لکھنے کے لئے قلم نہیں ہوتا تھا اور ناہی خریدنے کے پیسے ہوتے تھے کنکر استعمال کرتے تھے،اسکول کے کپڑے جو لیتے تھے وہی عید پر بھی پہن لیتے تھے،

‏اگر کسی شادی بیاہ کے لیے کپڑے لیتے تھے تو اسکول کلر کے ہی لیتے تھے، تاکہ وہ یونیفارم کا بھی کام کرے، اور کپڑے اگر پھٹ جاتے تو سلائی کر کے بار بار پہنتے تھے،

جوتا بھی اگر پھٹ جاتا بار بار سلائی کرواتے تھے،اور جوتا باٹا کا یا پلاسٹک کا ہوتا تھا جو پہننے میں سخت اور پاؤں کو زخمی کر دیا کرتا تھا، لیکن پھر بھی انکو پہنتے تھے، اور اللہ کا شکریہ ادا کرتے تھے...

اور بیٹا حالت وہ بھی ہوتی تھی کہ ‏گھر میں اگر مہمان آجاتا تو پڑوس کے کسی گھر سے گھی کسی سے مرچ کسی سے نمک مانگ کر لاتے تھے،اور مہمان کے کھانے کا انتظام کیا کرتے تھے،اور فقط معمولی سبزی سے وہ مہمان اپنی بہت بڑی میزبانی سمجھتا تھا،اور دعائیں دیتا تھا،بسے اوقات تو بیٹا روٹی اور پیاز مہمان کو دے دیا جاتا تھا وہ کھاتا تھا اور خوش ہو کر پوری پوری رات دعاؤں میں گذار دیتا تھا...


آج تو ماشاء اللہ ہر گھر میں ایک ایک ماہ کا سامان پڑا ہوتا ہے, مہمان تو کیا پوری بارات کا سامان موجود ہوتا ہے،

آج تو اسکول کے بچوں کی دو یا تین یونیفارم ضرور ہوتی ہیں،‏آج اگر کسی کی شادی میں شرکت کرنا ہو تو مہندی بارات اور ولیمے کے لیے الگ الگ کپڑے اور جوتے خریدے جاتے ہیں،

ہمارے دور میں ایک چلتا پھرتا انسان جسکے ساتھ پورا پریوار(بیوی، بچے،والدین)ہوتا تھا لیکن جیب میں پیسے نہیں ہوتے تھے جیب خالی ہوتی تھی، لیکن وقت پر کھانے ملنے کو غنیمت سمجھا کرتے تھے،اور اللہ کا شکریہ ادا کرتے تھے،اور خوشی سے زندگی گزارا کرتے تھے،اور خوشی سے رہا کرتے تھے،

لیکن ‏آج کا چلتا پھرتا نوجوان جو غربت کا رونا رو رہا ہوتا ہے اُسکی جیب میں تیس ہزار کا موبائل، کپڑے کم سے کم دو ہزار کے، عموما تین چار سو والی چپل ہوتی ہے...


غربت کے دن تو وہ تھے جب گھر میں بتّی جلانے کے لیے تیل نہیں ہوتا تھا اور پوری پوری رات بغیر بسترکےکاٹ دیا کرتے تھے اور حد تو اس وقت ہو جاتی تھی جب ٹھنڈ کے سخت موسم میں چادر کا تھوڑا سا ٹکڑا دیکر امی کہ دیتی تھی بیٹا اسکو اوڑو اور سو جاؤ پھر امی سے پوچھتے تھے آپ کیسے سوو گی تو کہتی تھیں بیٹا میں آگ کے پاس سوؤں گی مجھے ٹھنڈ نہیں لگی گی، اگر برداشت نہیں ہوگا میں آپکے پاس آ جاؤں گی، اسی طرح سمجھا کر ہمیں سلا دیتی تھیں، پھر اپنے آباؤ اجداد کے باتیں بتاتی اور روتیں، خدا کا شکریہ ادا کرتیں، اور پوری رات بسر کر دیتی تھیں،

کافی دیر گفتگو کے بعد بولے بیٹا حقیقت یہ ہے، کہ ‏آج کے دور میں خواہشوں کی غربت ہے،

اور اب حالت یہ ہے کہ اگر کسی کی شادی میں شامل ہونے کے لیے تین جوڑی کپڑے یا عید کے لیے تین جوڑی کپڑے نہ سلا سکے تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم غریب ہیں،

آج خواہشات کا پورا نہ ہونے کا نام غربت ہے...


ہم ناشکرے ہوگئے ہیں, اسی لئے برکتیں اٹھ گئی ہیں,

ایک بڑی عجیب جملہ کہا بیٹا غربت تو وہ تھی جب روٹی پک جایا کرتی تھی اور ترکاری کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک پیاز ہوتی تھی یا لہسن، یا مرچ اور امی کہتی تھیں بیٹا رکو میں سب بھائیوں کو بانٹ کر دوں گی 😢اور خود صرف بغیر نمک کی روٹی چولہے پر بیٹھ کر کھاتی تھیں اور ہر لقمہ پے الحمد للہ، سبحان اللہ، ماشاء اللہ، کا ورد کیا کرتی تھیں....


*پھر کچھ نصیحتیں*

بیٹا یاد رکھنا جب انسان

خواہشات کا غلام بن جائے تو زندگی اجیرن ہو جاتی ہے اور اسکی مثال اس انسان کی طرح ہو جاتی ہے جو اپنے پاؤں پر کلہاڑی سے وار کرکے زخمی ہوکر تڑپتا ہے، ٹھیک اسی طرح سادگی کو چھوڑ کر اسائش کی خواہشات کرنا در اصل پریشانیوں کا طوق گلے میں ڈالنا ہے، اور بولے میں نے تو یہاں تک سنا ہے اپنے بڑوں سے کہ خواہشات پورا کرنے والے بادشاہ بھی گداگر بن جاتے ہیں،لیکن بیٹا ایک بات بتاؤں اس وقت خوشحالی بہت تھی حسد و کنا و بغض کو لوگ جانتے بھی نہیں تھے, اور خوشی سے زندگی گذارا کرتے تھے...


اللہ کریم ہمیں اپنے اکابرین کی زندگیوں سے سبق حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے.....

آمین یارب العالمین بجاہ النبی الکریم صلی علیہ وسلم.......


✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ ✍️