،تکبر کا انجام،
اموی خاندان کا ایک مغرور بادشاہ گزرا ہے جس کا نام یزید بن ملک ہے ،اس نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں زندگی میں کوئی دن خوشی اور سکون سے نہیں گزرتی ،کوئی نا کوئی غم ضرور درپیش رہتا ہے ،
ایک دن اس نے درباریوں کو فرمان جاری کیا کہ آج کے دن کوئی بھی شخص میرے پاس ملکی اور غیر ملکی خبر میرے پاس نا لیکر آئے چاہے ملک پر بڑا سا بڑا حملہ ہو جائے آج میں دکھلاتا ہوں کہ زندگی میں آدمی جس دن چاہے اپنے لیے خوشی کا دن تجویز کرلے اسے کوئی غم لاحق نا ہو گا ،چنانچہ اس نے اپنی ایک حسین و جمیل لونڈی کو لیکر محل کے بالا خانوں میں چلا گیا اور اس کے ساتھ خوش طبعی اور دلگی کرنے لگا اور اپنے تکبر کے نشہ میں مست و مگن ہو کر خوشیاں منانے کی تیاری میں مصروف ہوگیا اور اس لونڈی کو اپنی گود میں بٹھا کر اس کےمنھ میں انگور کا دانہ ڈال کر مزے سے کھلا رہا تھا کہ ناگاہ لونڈی کو کسی بات پر ہنسی آئی اور انگور کا دانہ اس کے سانس کی نلی میں جاکر پھنس گیا اور اس کی وہیں پر آنا فانا موت واقع ہوگئی ، یزید بن ملک کی زندگی کاجو سب سے زیادہ خوشی کا دن تھا وہی اس کے غم کا دن ثابت ہوا ،
بادشاہ اس کے فراق میں پاگل و دیوانہ ہو گیا اسے تین دن تک دفن ہونے نہیں دیا،جب نعش سڑنے لگی تو اہل خانہ نے زبردستی دفن کیا بالآخر وہ بھی مر گیا ،،
،،تکبر کا انجام خاک ہے،،