پنج وقتہ فرائض اور جمعہ کی پابندی اور حضور قلب کے ساتھ نماز کی ادائیگی کا اہتمام:
ایمان کے بعد اسلام میں سب سے اہم عمل پانچ وقت کی فرض نمازوں کا بجالا نا ہے ، نماز کی فضیلت اور خوبیاں قرآن وحدیث میں بے شمار ذکر ہوئ ہیں ، اور ان خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ نماز کی برکت سے گناہوں کی بخشش ہو جاتی ہے، اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:واقم الصلواۃ طرفی النہار و زلفا من اللیل ان الحسنات یذھبن السیات ذالک ذکری للذکرین (ہود:114)
دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو ، بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ،یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے یاد دہانی ہے 
بعض مفسرین کا بیان ہے کہ دو کناروں سے مراد فجر اور مغرب کی نماز ہے اور رات کے حصے کی نماز سے مراد عشاء کی نماز ہے ،ان اوقات میں نماز کی ادائیگی قدرے دشوار گزر تی ہے اسلیے اسے خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ،
دوسرے بعض مفسرین نے دو کناروں سے مراد ظہر اور عصرلی ہے اور رات کے حصے سے فجر. مغرب اور عشاء کی نمازیں مراد لی ہیں ، ایسی صورت میں پانچوں نمازوں کی ادائیگی کا ثبوت اسی آیت سے ملتا ہے 
 اللہ رب العزت نے اس آیت کریمہ میں فرض نمازوں کی ادایگی کااہتمام کرنے کی بنیاد پر گناہوں کو نامہ اعمال کے دفتر سے مٹا نے کا وعدہ فرمایا ہے کہ نماز کے برکت سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا کر نیکیاں لکھ دیتے ہیں ، جس طرح سے دوائیں انسان کو طاقت و قوت بخشتی ہے اور بیماری کے اثر کو زائل کر دیتی ہے ، اسی طرح نیکیاں بھی ثواب پہنچاتی ہیں اور گناہ کے اثر کو ختم کر دیتی ہیں ،
یہ آیت ایک خاص واقعہ کے تحت نازل ہوئی ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صاحب نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ لے لیا ،مگر فوراً غلطی کا احساس ہوا ،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر اپنی غلطی کا اعتراف کیا ، ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے قصور کی تلافی کی صورت معلوم کی ،تو اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں کہا گیا کہ پانچوں وقت کے فرض نماز کا اہتمام کرو ، انہیں نیکیوں کی برکت سے گناہ معاف ہو جائیں گے ،اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ گناہ کی یہ تلافی کی صورت صرف میرے ساتھ خاص ہے ؟آپ علیہ الصلواۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ، حکم عام ہے ،
نماز میں گناہوں کے مٹانے کی جو تاثیر ہے ،اس کا ذکر احادیث میں بھی ملتا ہے ،
چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حضرور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ آپ نے فرمایا 
 أرایتم لوأن نہرا بباب احدکم یغتسل فیہ کل یوم خمس مرۃ ،ھل یبقی من درنہ شیئ ،قالوا لایبقی من درنہ شیئ ،قال فذلک مثل الصلواۃ الخمس یمحو اللہ بھن الخطایا (رواہ البخاری 528)
لوگو بتلاؤ!اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر جاری ہو جس میں روزانہ وہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل کچیل باقی رہے گا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کچھ بھی نہیں باقی رہے گا ،آپ نے ارشاد فرمایا! بلکل یہی مثال پانچ نمازوں کی ہے ، اللہ تعالٰی ان کے ذریعہ خطاؤں کو دھوتا اور مٹاتا ہے ،
نماز پڑھنے والا گویا نور کے سمندر میں غوطہ لگا تا ہے ،جس طرح دن میں پانچ مرتبہ نہانے سے بدن پر کوئی میل کچیل نہیں رہتا ہے اسی طرح پانچوں فرض نماز ادا کرنے کے بعد اس کے روح کو نور کے موجوں سے دھل کر پاک و صاف ہوجاتاہے ، اور گناہ اس کے نامہ اعمال سے مٹ جاتی ہے ،بس شرط ہے کہ اخلاص کے ساتھ نماز پڑھا ہو