ڈونگر پاڑہ، بھیونڈی: انتخابی وعدوں کی خاموش حقیقت اور شہر ی انصاف کا فقدان
18 جنوری، 2026
ڈونگر پاڑہ، بھیونڈی: انتخابی وعدوں کی خاموش حقیقت اور شہری انصاف کا فقدان
آج 15 جنوری کو مہاراشٹر میں شہری بلدیاتی انتخابات کا مرحلہ جاری ہے، اور خاص طور پر بھیونڈی نظام پور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات ایک حساس لمحے میں ہو رہے ہیں، جب شہری بنیادی سہولیات، شفاف حکمرانی اور مؤثر مقامی نمائندگی کے شدید خواہاں ہیں۔ یہ انتخابات صرف کونسلروں کے انتخاب تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ شہری علاقوں کی ترقی کس سمت جائے گی، محروم بستیوں کو انصاف ملے گا یا نہیں، اور عوام کی آواز واقعی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ پائے گی یا نہیں۔ اسی انتخابی منظرنامے میں‘‘ ڈونگر پاڑہ’’ ایک تلخ حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ نوری نگر، گائتری نگر اور چاوندررا سے گھرا ہوا یہ چھوٹا سا علاقہ بھیونڈی کے بڑے شہر کا حصہ ہونے کے باوجود آج بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم ہے۔ یہاں کی آبادی زیادہ تر غریب، محنت کش اور یومیہ اجرت پر گزارا کرنے والوں پر مشتمل ہے، جن کی زندگی صاف راستوں، صاف پانی، صحت مند ماحول، تعلیم اور روزگار کے مواقع سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔ افسوس کہ یہ تمام ضروریات آج بھی ایک خواب کی صورت میں موجود ہیں۔
ہر الیکشن کے موقع پر سیاست دان اس علاقے کا رخ کرتے ہیں، وعدے کرتے ہیں اور ترقی کے سبز باغ دکھاتے ہیں، مگر انتخاب ختم ہوتے ہی ڈونگر پاڑہ ایک بار پھر نظرانداز ہو جاتا ہے۔ اس بار کا بلدیاتی انتخاب اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ میونسپل کارپوریشن وہ ادارہ ہے جو سڑک، صفائی، پانی، صحت، تعلیم اور شہری منصوبہ بندی جیسے بنیادی معاملات کا براہِ راست ذمہ دار ہے۔ لہٰذا یہ الیکشن ڈونگر پاڑہ کے عوام کے لیے محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ اپنے حقوق، اپنی محرومی اور اپنے مستقبل کے لیے فیصلہ کن لمحہ ہے۔ آج دیا جانے والا ووٹ اس سوال کا جواب بھی ہے: کیا ڈونگر پاڑہ بھیونڈی کا ایک برابر اور باوقار شہری علاقہ سمجھا جائے گا یا اسے ہمیشہ حاشیے پر ہی رکھا جائے گا؟
آئینِ ہند کا آرٹیکل 14 ہر شہری کو قانون کے سامنے برابر کا حق دیتا ہے، مگر بھیونڈی کے ڈونگر پاڑہ کے حالات اس آئینی حق کی خلاف ورزی کی حقیقت دکھاتے ہیں۔ شہر کے دیگر علاقوں میں سڑکیں پکی، پانی کی فراہمی، گٹر، بجلی، صحت اور تعلیمی سہولیات موجود ہیں، مگر ڈونگر پاڑہ ان سب سے محروم ہے۔ ٹوٹے راستے، ناکارہ گٹر، ناکافی صحت مراکز اور ناقص تعلیمی ماحول وہاں کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو مشکل بنا رہے ہیں۔ یہ علاقے کے غریب، محنت کش اور یومیہ مزدور لوگ خیرات نہیں، اپنا جائز حق مانگ رہے ہیں۔ آئین کی روشنی میں حکومت پر لازم ہے کہ شہری سہولیات میں تفریق ختم کرے اور ڈونگر پاڑہ کو باقی شہر کے برابر ترقی دے۔ نوجوانوں کے لیے تربیتی مراکز، روزگار کے مواقع اور تعلیم کے برابر وسائل فراہم کرنا شہری انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔
جب تک ڈونگر پاڑہ کو بنیادی سہولیات میں برابر نہیں رکھا جاتا، شہری انصاف اور آئینی مساوات محض کاغذوں تک محدود رہیں گی۔ یہ حکومت اور منتخب نمائندوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے: شہری حقوق سب کے لیے برابر ہونے چاہئیں، اور کسی کو بھی محروم نہیں چھوڑا جا سکتا۔
آئینِ ہند کا آرٹیکل 21 ہر شہری کو صرف زندہ رہنے کا حق نہیں دیتا بلکہ باعزت، محفوظ اور صحت مند زندگی کا حق فراہم کرتا ہے۔ ڈونگر پاڑہ کے حالات اس حق کی سنگین خلاف ورزی کی حقیقت سامنے لاتے ہیں۔ یہاں گندے راستے، کھلے نالے، ناقص گٹر اور پانی کی کمی شہریوں کی زندگی اور صحت کے لیے خطرہ ہیں۔ آئین کی روشنی میں حکومت اور بلدیاتی اداروں پر لازم ہے کہ صاف پانی، نکاسی آب کا مضبوط نظام اور صاف ماحول یقینی بنایا جائے، کیونکہ آلودہ ماحول میں زندگی گزارنا انسانی وقار کے تصور کے خلاف ہے۔
صحت کی بنیادی سہولیات بھی آرٹیکل 21 کا حصہ ہیں۔ ڈونگر پاڑہ میں پرائمری ہیلتھ سینٹر، ڈسپنسری، موبائل میڈیکل یونٹ اور ایمرجنسی ایمبولینس سروس کا انتظام لازمی ہے۔ علاج اور دوا تک رسائی نہ ہونا زندگی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ تعلیم بھی باعزت زندگی کا لازمی عنصر ہے۔ بچوں کے لیے محفوظ اسکول، صاف تعلیمی ماحول، بیت الخلا، پانی اور اساتذہ کی دستیابی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ روزگار اور ہنر کے مواقع بھی انسانی وقار سے جڑے ہیں۔ نوجوانوں کو ہنر، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا لازمی ہے۔ ڈونگر پاڑہ کے عوام صرف زندہ نہیں رہنا چاہتے بلکہ باوقار انسانی زندگی چاہتے ہیں۔ آرٹیکل 21 کے تحت ریاست پر لازم ہے کہ وہ یہ تمام سہولیات فراہم کرے، ورنہ انسانی وقار اور آئینی حق کی پامالی ہوگی۔
آئینِ ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو اپنے ضمیر کی آزادی، اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ اور اس کی پیروی کرنے کا حق دیتا ہے۔ یہ حق صرف عبادت تک محدود نہیں بلکہ اس بات کی ضمانت ہے کہ کسی بھی مذہبی طبقے کو سیاسی استحصال کا شکار نہیں بنایا جائے، نظرانداز نہ کیا جائے، اور صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ ڈونگر پاڑہ، جہاں مسلم آبادی کی اکثریت ہے، اس آرٹیکل کی روشنی میں خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ یہاں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ مسلم شہریوں کو صرف الیکشن کے وقت یاد کیا جاتا ہے، وعدے کیے جاتے ہیں اور جذبات ابھارے جاتے ہیں، مگر عملی سطح پر مستقل منصوبہ بندی یا ترقیاتی اقدامات نظر نہیں آتے۔
آرٹیکل 25 کی روح یہ ہے کہ مذہب کو سیاست کے لیے ہتھیار نہ بنایا جائے اور کسی شہری کے اعتماد سے کھلواڑ نہ کیا جائے۔ ڈونگر پاڑہ کے مذہبی اور سماجی ادارے جیسے مساجد، مدارس، مکاتب اور کمیونٹی سینٹرز، آئین کے مطابق قانونی تحفظ اور بنیادی سہولیات کے مستحق ہیں۔ یہ ادارے صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ تعلیم، سماجی اصلاح، اخلاقی تربیت اور کمیونٹی بیداری کے مراکز بھی بن سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ مذہبی اکثریت والے علاقوں میں ترقیاتی کام روک دینا یا سست روی رکھنا آئینی روح کے خلاف ہے۔ شہریوں کو اپنی مذہبی شناخت کے ساتھ باوقار اور محفوظ زندگی گزارنے دیا جانا چاہیے، نہ کہ مسلسل محرومی کے احساس میں رکھا جائے۔ آرٹیکل 25 ڈونگر پاڑہ کے عوام کو یہ بھی حق دیتا ہے کہ وہ پرامن اور آئینی طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں، عوامی نمائندوں سے جواب طلب کریں اور مذہب کے نام پر ہونے والی منافقانہ سیاست کو بے نقاب کریں۔ ایمانداری سے عمل ہونے پر ڈونگر پاڑہ کے لوگ محض ووٹر نہیں بلکہ باوقار شہری تسلیم کیے جائیں گے، اور ان کی مذہبی و شہری آزادی مؤثر اور محفوظ ہوگی۔
آئینِ ہند کے آرٹیکل 38 اور 39 ریاست کو پابند کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسا سماجی و معاشی نظام قائم کرے جس میں سماجی انصاف، معاشی برابری اور کمزور طبقات کا تحفظ یقینی ہو۔ یہ اصول عدالت میں براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں، مگر ریاستی پالیسی اور حکمرانی کی بنیاد انہی اصولوں پر استوار ہونی چاہیے۔ ڈونگر پاڑہ جیسے غریب اور پسماندہ علاقے کے لیے یہ آرٹیکلز ایک مضبوط آئینی اور اخلاقی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
آرٹیکل 38 ریاست کو ہدایت دیتا ہے کہ دولت اور سہولیات چند ہاتھوں تک محدود نہ رہیں بلکہ سماج کے ہر طبقے تک پہنچیں۔ اس اصول کی روشنی میں ڈونگر پاڑہ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج، علیحدہ بجٹ الاٹمنٹ اور ترجیحی اسکیمیں نافذ کی جا سکتی ہیں، تاکہ پسماندگی کا ازالہ ہو اور یہ علاقہ شہر کے دیگر حصوں کے برابر لایا جا سکے۔ آرٹیکل 39 خاص طور پر کمزور طبقات کی بات کرتا ہے۔ ڈونگر پاڑہ کے مزدور، یومیہ محنت کش، خواتین اور بچے اس آرٹیکل کے تحت ریاستی توجہ کے مستحق ہیں۔ خواتین کے لیے خود روزگاری منصوبے، بچوں کے لیے غذائی تحفظ اور آنگن واڑی مراکز قائم کرنا اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح آئینِ ہند کی 74 ویں آئینی ترمیم (آرٹیکل 243W) شہری بلدیاتی اداروں کو بااختیار بناتی ہے۔ میونسپل کارپوریشن اور میونسپل کونسل کو شہری منصوبہ بندی، ترقیاتی کام اور بنیادی سہولیات کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ڈونگر پاڑہ کے لیے یہ آرٹیکل عملی تبدیلی کی سب سے مضبوط بنیاد ہے۔ اس کے تحت وارڈ سطح پر مائیکرو پلاننگ کی جا سکتی ہے، جہاں ہر منصوبہ علاقے کی اصل ضرورتوں کے مطابق تیار ہو۔ مقامی سطح پر سروے، وارڈ کمیٹیاں، ترقیاتی فنڈز اور وقت پر مکمل ہونے والے منصوبے اس شق کے تحت ممکن ہیں۔
آرٹیکل 243W کے مطابق شہری ترقی اوپر سے نہیں بلکہ نیچے سے شروع ہوتی ہے۔ ڈونگر پاڑہ کے باشعور شہری، سماجی کارکن اور مقامی نمائندے اپنے علاقوں کی ترقی میں شریک ہو سکتے ہیں، منصوبوں کی نگرانی کر سکتے ہیں اور بدعنوانی و لاپروائی کو روک سکتے ہیں۔ اس شفاف اور جوابدہ نظام کے ذریعے
ڈونگر پاڑہ محض شکایت کنندہ نہیں بلکہ ترقی کا حصہ بن سکتا ہے۔مختصراً، آرٹیکل 38، 39 اور 243W کی روشنی میں ریاست پر لازم ہے کہ ڈونگر پاڑہ کو محرومی سے نکال کر ترقی، برابری اور شہری خودمختاری کا حقیقی مظہر بنایا جائے۔ یہ علاقے کے عوام کے لیے خیرات نہیں بلکہ منصوبہ بند سماجی، معاشی اور شہری انصاف فراہم کرنے کا وقت ہے، تاکہ ڈونگر پاڑہ غربت کی علامت کے بجائے ترقی اور خود اعتمادی کی مثال بن سکے۔
الغرض! ڈونگر پاڑہ جیسے علاقوں کی موجودہ حالت کسی ایک حکومت، ایک نمائندے یا ایک انتخاب کی ناکامی نہیں بلکہ مسلسل غفلت، غیر سنجیدہ سیاست اور عوامی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ آئینِ ہند نے حکومت اور سیاست دانوں کو واضح طور پر یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ ہر شہری کو مساوی حقوق، باعزت زندگی، سماجی انصاف اور بنیادی سہولیات فراہم کریں۔ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اور منتخب نمائندے محض وعدوں اور اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی، شفاف اور جوابدہ طرزِ حکمرانی اختیار کریں۔ ڈونگر پاڑہ کو ووٹ بینک نہیں بلکہ ایک زندہ، باوقار اور ترقی کے حق دار شہری علاقے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ ترقیاتی منصوبے کاغذوں میں نہیں، زمین پر نظر آنے چاہئیں، اور فنڈز کا استعمال عوام کے سامنے جوابدہی کے ساتھ ہو۔
دوسری طرف، ڈونگر پاڑہ کے عوام الناس کے لیے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے۔ وقتی لالچ، معمولی رقم یا جھوٹے وعدوں کے بدلے اپنے ووٹ اور ضمیر کا سودا کرنا دراصل اپنے بچوں کے مستقبل کو گروی رکھنا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے حقوق کو پہچانیں، آئینی زبان میں سوال کریں، اجتماعی طور پر آواز بلند کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو خدمت کو عبادت سمجھیں۔ خاموشی اور مجبوری کو تقدیر مان لینا تبدیلی کا راستہ نہیں۔ یہ پیغام واضح ہونا چاہیے کہ ترقی خیرات نہیں، حق ہے۔ حکومت اگر اپنی آئینی ذمہ داری نبھائے اور عوام اگر اپنی ذمہ داری کو پہچان لیں تو ڈونگر پاڑہ محرومی کی علامت نہیں بلکہ بیداری، خودداری اور آئینی شعور کی مثال بن سکتا ہے۔ یہی اس جدوجہد کا اصل مقصد اور حقیقی کامیابی ہے۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرلا
بتاریخ: 15/01/2026
25/رجب المرجب/1447