یہ سوال میرے دل کو اس طرح کاٹتا ہے جیسے تیز دھار چھری گوشت کو کاٹ دیتی ہے، یہ سوال میری راتوں کو بے خواب کر دیتا ہے، یہ سوال میرے قلم کو خون میں ڈبو دیتا ہے۔ آخر وہ نسل جسے قوم کی آنکھوں کا تارا ہونا چاہیے تھا وہی نسل کیوں اپنی آنکھوں میں دھندلاہٹ لیے، اپنے قدموں میں لرزش لیے اور اپنے خوابوں کو قبرستانوں میں دفن کرتی پھر رہی ہے؟ نوجوانوں کی محفلیں کبھی علم و ہنر کا مرکز ہوا کرتی تھیں آج وہی محفلیں نشے کے دھوئیں اور موبائل اسکرینوں کے زہر سے بھری ہیں، کبھی ان کے ہاتھ کتابوں کے اوراق پلٹتے تھے آج وہی ہاتھ فحاشی کے کلپس پر اسکرول کرتے ہیں، کبھی ان کی زبانوں سے اذکار کی خوشبو نکلتی تھی آج وہی زبانیں گالیوں اور بازاری جملوں سے بدبو دیتی ہیں اور کبھی ان کے قدم جہادِ علم کے میدانوں میں پڑتے تھے آج وہی قدم سنیما گھروں اور بے مقصد گلیوں میں گھسٹتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

یہ بربادی کہاں سے شروع ہوئی؟ گھر سے جہاں ماں باپ نے بچوں کو وقت دینے کے بجائے فون اور ٹی وی دے دیے، اسکول سے جہاں تعلیم علم کے بجائے محض نمبروں کی دوڑ بن گئی، گلی کوچوں سے جہاں دوستی کا مطلب فسق و فجور میں شریک ہونا رہ گیا اور میڈیا سے جہاں ہر چینل زہر اگلتا ہے، ہر اشتہار عزت لوٹتا ہے، ہر ڈرامہ شرم کا کفن پھاڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 نوجوان برباد ہیں کیونکہ ان کے سامنے آئیڈیل وہ اداکار ہیں جو خود بے ہنر ہیں کیونکہ ان کے خواب وہ سڑکیں ہیں جو تباہی کی طرف جاتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس رہنما وہ یوٹیوبر ہیں جو صرف ہنسی بیچتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس دین کا سرمایہ ہو کر بھی وہ کنگال ہیں۔

مگر اے جوان! ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، ابھی بھی تیری راتیں سجدے کی خوشبو سے مہک سکتی ہیں، ابھی بھی تیرے قدم لائبریری اور مسجد کے فرش پر جم سکتے ہیں، ابھی بھی تیری آنکھوں سے نکلتے آنسو تیری گندگی کو دھو سکتے ہیں، ابھی بھی تیرا دل قرآن کے نور سے زندہ ہو سکتا ہے، ابھی بھی تیرے بازو امت کے پرچم کو اٹھا سکتے ہیں، ابھی بھی تیرے قلم سے قوم کے مستقبل کے چراغ جل سکتے ہیں۔ ہاں! شرط یہ ہے کہ تو اپنے دوست بدل دے، اپنا وقت بدل دے، اپنی آنکھوں کے نظارے بدل دے، اپنی زبان کے جملے بدل دے اور اپنے دل کا قبلہ بدل دے۔ یقین مان، بس ایک توبہ، ایک آنسو، ایک فیصلہ کافی ہے کہ کل کا برباد نوجوان آج کا قائد اور کل کا نجات دہندہ بن جائے۔۔۔۔۔۔۔


https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B