سبق پھر پڑھ صداقت کا ،عدالت کا ،شجاعت کا
17 جنوری، 2026
طالب علم ،علم نبوت کے وارث
طالب علم یعنی علم کے طالب، وہی علم جو انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے ،حاصل کرنے والے کسی بھی معاشرے کے وہ معزز افراد ہوتے ہیں کہ جو مستقبل میں انبیاء علیہم السلام کے وارثوں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوں گے۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ علم کے ان طالبوں اور انبیاء کرام کے ان وارثوں کے اندر وہ خصوصیات موجود ہوں جو نبیوں کی خصوصیات ہیں۔ مثلاً سچائی، ایمانداری، حق گوئی ،بےباک کی بہادری، رحم دلی، انسانیت نوازی، انسانیت پسندی، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے پیار، سب سے پیارو محبت ،کینہ و بغض سے نفرت، وغیرہ۔
مگر آج اگر ہم معاشرے کی طلبہ و طالبات پر نظر ڈالیں تو ہمیں ان میں درج بالا خصوصیات کا بڑی حد تک فقدان نظر آتا ہے ۔وہ امتحانات کے دنوں میں نقل کر کے پاس ہونے کو کوئی برا کام نہیں سمجھتے ۔خدا جانے وہ یہ کرکے استاد کو دھوکا دیتے ہیں یا خود کو۔وہ نہ اساتذہ کی قدر کرتے ہیں اور نہ ہی والدین کا احترام ۔ان کے نزدیک استاد و شاگرد کا محترم و پاکیزہ رشتہ بھی محض ایک تجارت کی طرح ہو گیا ہے کہ ہم نے فیس ادا کی ہے اور ٹیچر ہمیں علم دے رہا ہے، ہم پر کوئی احسان نہیں کررہا۔والدین کی نصیحتیں انہیں دقیانوسی باتیں لگتی ہیں ،رشتہ دار ان کی ترقی میں حائل بڑی رکاوٹیں ہیں ،جن سے ملاقات کرنا بھی وقت کا ضیاع ہے۔ جب اساتذہ ،والدین اور رشتےداروں کے ساتھ ان کا یہ رویہ ہے تو دیگر بڑوں کے ساتھ ان کے رویہ کے کا ادراک آپ خود کر سکتے ہیں ۔
پھر جب آپ ان سے سوال کریں کہ آخر آپ تعلیم حاصل کیوں کر رہے ہیں؟ تو ان میں سے بڑی اکثریت کا جواب ہوگا کسی بڑی کمپنی یا فرم میں جاب حاصل کرنے کے لیے تاکہ ہمیں اچھی تنخواہ ملے اور ہم ایک خوشحال زندگی گزار سکیں۔
کیا ہم 20-22 سال تعلیم ،نوکری حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں؟ کیا کسی کا نوکر بننے کے لیے ہمارے والدین ہمیں چار پانچ سال کی عمر میں بڑے بڑے اور مہنگے ترین اسکولوں میں داخل کراتے ہیں؟ کیا ہمارے بچپن کی معصومیت اور شرارتیں اور لڑکپن اور نوجوانی کے امنگیں اور خواب کسی کا نوکر بننے کے لیے بھینٹ چڑھا دیے جاتے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے میں آزاد بچے نہیں بلکہ نوکر پیدا ہو رہے ہیں؟نہیں ایسا نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو طلبہ و طالبات کے ساتھ نوکروں کا رویہ اختیار کیا جاتا اور اسکولوں یونیورسٹیوں کو غلاموں اور نوکروں کو پیدا کرنے والے اڈہ کے طور پر دیکھا جاتا شاید بالواسطہ دیکھا بھی جا رہا ہے۔
مگر کیا درحقیقت ان عالی شان اور عالمی شہرت یافتہ یونیورسٹیوں کی بنیاد اور تعمیر کا مقصد وقت کے نوکروں اور غلاموں کو پیدا کرنا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں، ان یونیورسٹیوں کا مقصد قوم کے رہبران اور رہنماؤں کی تربیت کرنا ہے، یہاں قوم کے معمار تربیت پاتے ہیں۔ یہ یونیورسٹیاں اور کالج بہترین انسانوں کی تربیت گاہیں ہیں ۔
یہاں پروان چڑھنے والے محترم افراد کی کاندھوں پر اقوام عالم کی تربیت نو کی ذمہ داریاں ہیں۔ یہاں تیار ہونے والے عظیم انسانوں کو انسانیت کے لئے بہترین مثالیں بننا ہے۔ ان کی زندگی صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی زندگی کا مقصد لوگوں کو زندگی کے اصل مقاصد سے ہم کنار کراناہونا چاہیے ۔
انہیں صداقت کا علمبردار اور اسلام کا سپاہی بننا ہے ۔انہیں انسانیت پسند اور انسانیت نواز معاشرے کی تعمیر نو کرنی ہے۔انہیں اپنے کردار و اعمال سے لوگوں کو اسلام کی اصل روح سے متعارف کرانا ہے۔ اس دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا ہے۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ ہم ابھی سے اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت پر بھی دھیان دیں اور اپنے اندر وہ خصوصیات پیدا کریں جو عظیم افراد اور بہترین انسانوں کی پہچان ہیں یعنی اخلاقِ کریمہ اور اوصافِ عظیمہ۔
شاعر مشرق علامہ اقبال نےکیا خوب فرمایا ہے
سبق پھر پڑھ صداقت کا ،عدالت کا ،شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا