(اسم مشتق کی تعریف اور اقسام) کا مکمل متن درج ذیل ہے:
اسم مشتق کی تعریف اور اقسام
موضوعات کی فہرست:
اسم مشتق کی تعریف اور اقسام
اسم مشتق کی قسمیں
اسم فاعل کی قسمیں
(1) اسم فاعل قیاسی
(2) اسم فاعل سماعی
اسم فاعل اور فاعل میں فرق
اسم مفعول اور مفعول میں فرق
اسم حالیہ
حاصل مصدر
اسم مشتق کی قسمیں
اسم مشتق کی پانچ قسمیں ہوتی ہیں:
اسم فاعل
اسم مفعول
اسم حالیہ
اسم حاصل مصدر
اسم معاوضہ
اسم فاعل کی قسمیں
اسم فاعل کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
(1) اسم فاعل قیاسی:
مصدر کے آخر سے "الف" ہٹا کر "نے"، "والا" یا "ی" والی لگانے سے اسم فاعل قیاسی وجود میں آتا ہے۔ جیسے: پڑھنے والا، بولنے والی۔ اس میں "پڑھنے والا" اور "بولنے والی" بولنا مصدر سے بنے ہیں۔
(2) اسم فاعل سماعی:
یہ اسم فاعل کسی خاص طریقے سے نہیں بنتا، بلکہ زبان کے بولنے والے مختلف علامتیں لگا کر اسے اسم فاعل بنا لیتے ہیں۔ جیسے: رکھوالا، لکڑہارا، موچی، جوہری وغیرہ۔
اسم فاعل اور فاعل میں فرق
فاعل بنایا نہیں جاتا مگر اسم فاعل بنایا جاتا ہے۔
اسم فاعل ایسا اسم ہے جو فاعل کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ فاعل کام کرنے والے کے معنی دیتا ہے۔
اسم فاعل، فاعل کی جگہ پر استعمال ہو سکتا ہے لیکن فاعل کبھی اسم فاعل کی جگہ نہیں لے سکتا۔
اسم مفعول کی قسمیں
اسم مفعول کی دو قسمیں ہوتی ہیں:
(1) اسم مفعول قیاسی:
جس مصدر سے اسم مفعول بنانا ہو، اس کی ماضی مطلق کے آخر میں "ہوا" کا اضافہ کرنے سے اسم مفعول بن جاتا ہے۔ جیسے: پڑھنا مصدر سے "پڑھا ہوا"، لکھنا مصدر سے "لکھا ہوا"۔
(2) اسم مفعول سماعی:
یہ اسم مفعول کسی خاص قاعدے سے بنایا تو نہیں جاتا مگر یہ معنی اسم مفعول کے دیتا ہے اور اہل زبان اس کو خلق کرتے ہیں۔ جیسے: نکٹا (ناک کٹا)، دکھی (ستایا ہوا) وغیرہ۔
اسم مفعول اور مفعول میں فرق
اسم مفعول ایسا اسم ہے جس سے مفعول کی نشاندہی ہوتی ہے، جبکہ مفعول ایسا اسم ہے جس پر کوئی فعل واقع ہوا ہو۔
مفعول کسی مصدر وغیرہ سے نہیں بنتا، جبکہ اسم مفعول کسی مصدر سے بنایا جاتا ہے۔
اسم مفعول کسی مفعول کی جگہ آ سکتا ہے، مگر مفعول کبھی اسم مفعول کی جگہ نہیں لے سکتا۔
اسم حالیہ
حالیہ ایسا اسم مشتق ہے جو کسی فاعل یا مفعول کی حالت بیان کرے۔
جیسے: "سرمد روتا ہوا آیا"۔
"آمنہ نے فہد کو سوتے ہوئے دیکھا"۔
پہلے جملے میں "روتا ہوا" فاعل (سرمد) کی حالت بیان کر رہا ہے، دوسرے جملے میں "سوتے ہوئے" فہد (جو مفعول ہے) کی حالت بیان کر رہا ہے۔ "روتا ہوا" اور "سوتے ہوئے" دونوں اسم حالیہ ہیں۔
حاصل مصدر
حاصل مصدر ایسا اسم مشتق ہے جو مصدر نہ ہو، مگر معنی اور اثر مصدر کا ظاہر کرے۔ جیسے: آہٹ (آنا سے)۔
مثالیں: لڑائی (لڑنا)، دباؤ (دبنا)۔ آہٹ، لڑائی اور دباؤ حاصل مصدر ہیں۔
حاصل مصدر بنانے کے طریقے:
بعض مصادر کے آخر سے "الف" ہٹانے سے حاصل مصدر بن جاتا ہے، جیسے: جلنا سے "جلن"، چھننا سے "چھن"۔
بعض مصادر کے آخر سے "نا" ہٹانے سے حاصل مصدر بن جاتا ہے، جیسے: دوڑنا سے "دوڑ"، بھاگنا سے "بھاگ"۔
بعض مصادر کے آخر سے "نا" ہٹا کر "وٹ" لگانے سے حاصل مصدر بن جاتا ہے، جیسے: ملانا سے "ملاوٹ"، سجانا سے "سجاوٹ"۔
بعض مصادر کے آخر سے "نا" ہٹا کر "اؤ" لگانے سے حاصل مصدر بن جاتا ہے، جیسے: جھکنا سے "جھکاؤ"، لگانا سے "لگاؤ"۔