​لسان سے کیا مراد ہے؟
​Langue/Parole لسان/کلام

​لسان زبان کا وہ نظام ہے جس کی وجہ سے اور جس کے تحت ہر قسم کا زبانی یا تحریری کلام ممکن ہوتا ہے۔۔۔
​لسان زبان کا لاشعور ہے تو کلام شعور ہے، اور جس طرح لاشعور تک براہِ راست رسائی نہیں ہو سکتی، اس تک رسائی کا ذریعہ شعور ہی ہے، اسی طرح لسان تک پہنچنے کے لیے کلام کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔۔۔
​سوسیئر لانگ تک پہنچنے کے لیے کلام کو یعنی زبان کے مادی رخ کو واسطہ بناتا ہے جو قابلِ مشاہدہ حقیقت ہے، مگر یہ خود اپنے آپ میں قائم نہیں۔۔۔
​ادب میں شعریات کا تصور لسان ہی کی دین ہے۔ شعریات کے تصور میں اس انفرادیت کی گنجائش نہیں جس کا تصور رومانویت نے دیا تھا۔۔۔
​موضوعات کی فہرست
​لسان سے کیا مراد ہے؟
​لسان یا لانگ
​کلام
​حواشی
​لسان سے کیا مراد ہے؟
​لسان یا لانگ
​سوسیئر نے نشان کی طرح زبان کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک کو لسان یا لانگ اور دوسرے کو کلام یا پارول کہا۔
​لسان زبان کا وہ نظام ہے جس کی وجہ سے اور جس کے تحت ہر قسم کا زبانی یا تحریری کلام ممکن ہوتا ہے۔ لسان یا لانگ کو جامع تجریدی نظام بھی کہا گیا ہے کہ یہ خفیہ یا پس منظر میں رہ کر ہر قسم کے تکلم اور اظہار کو ممکن بناتا ہے اور اسے کنٹرول کرتا ہے۔
​لسان/لانگ کا مفہوم بڑی حد تک وہی ہے جو گرامر کا ہے، یعنی زبان کے قواعد و ضوابط کا نظام۔ اس ضمن میں سوسیئر کی عطا یہ ہے کہ اس نے انسان کو سماجی رسمیات اور ثقافتی ضابطوں کی پیداوار قرار دیا، نیز اس نے یہ باور کرایا کہ زبان کی ماہیت میں ثنویت شامل ہے۔
​کلام
​لسان اگر زبان کا تجریدی/غیر مادی رخ ہے تو کلام اس کا جسمی مادی پہلو ہے۔ لسان اجتماعی ہے تو کلام انفرادی ہے۔ لسان کو بلا ارادہ حاصل کیا جاتا (مادری زبان کی حد تک) اور کلام ایک ارادی فعل ہے۔
​لسان زبان کا لاشعور ہے تو کلام شعور ہے، اور جس طرح لاشعور تک براہِ راست رسائی نہیں ہو سکتی، اس تک رسائی کا ذریعہ شعور ہی ہے، اسی طرح لسان تک پہنچنے کے لیے کلام کا تجزیہ کیا جاتا ہے، یعنی تقسیم کے راستے سے تجرید کو گرفت میں لیا جاتا ہے۔ شاید اسی لیے لاکان نے انسانی لاشعور کو زبان کی طرح کی ساخت کا حامل قرار دیا تھا۔ تاہم واضح رہے کہ لاشعور، شعور کے پیدا کردہ ابطال کا نتیجہ ہے جب کہ لسان میں، کلام کا زائدہ کوئی ابطال نہیں ہوتا۔
​سوسیئر نے زبان کو جب تقسیم کیا تو دونوں حصوں کی درجہ بندی بھی کی۔ لسان کو فوقیت دی اور کلام کو ثانوی درجہ دیا۔ اس سے رچرڈ بارلینڈ جیسے لوگوں کو حیرت ہوتی ہے کہ سوسیئر لسانیات کو سائنس بنانا چاہتا تھا اور سائنس قابلِ مشاہدہ اور مادی حقائق کو اپنی تحقیق اور تجزیے کا مواد بناتی ہے، جب کہ سوسیئر نے ایک تجریدی حقیقت کو اولیت دے کر اپنی لسانی سائنسی تھیوری وضع کی ہے۔ ان صاحب نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ سوسیئر کا مقصود زبان کی کلیت کو سائنسی طریقے سے گرفت میں لینا ہے اور کلیت، لانگ اور پارول سے عبارت ہے۔
​اس کے وجود کا انحصار لسان یا لانگ پر ہے۔ پارول متنوع اور کثیر ہے۔ یہ انتشار میں تبدیل ہونے کا میلان رکھتی ہے۔ یہ لانگ ہی ہے جو پارول کے تنوع کو منظم کرتی ہے اور اسے ایک بامعنی وحدت میں بدلتی ہے۔ اسی لیے اصولی طور پر لانگ اول ہے۔ کلام یا پارول کا درجہ اس کے بعد ہے۔
​لسان یا جامع تجریدی نظام کے نظریے نے ادب، بشریات، نفسیات، تاریخیت پر غیر معمولی اثرات مرتب کیے۔ لسان کے نظریے نے یہ باور کرایا کہ ادب، اساطیر، انسانی سائیکی، تاریخ کی تہہ میں ایک جامع نظام موجود ہوتا ہے جو ان سب کی کارکردگی اور ان کے تنوع کو ممکن بناتا ہے۔ جامع نظام ان سب کو وجود میں لاتا، انہیں صنفی شناخت دیتا، انہیں صنفی شناخت کے اندر محدود انفرادیت ودیعت کرتا ہے۔
​ادب میں شعریات (رُک) کا تصور لسان ہی کی دین ہے۔ شعریات کے تصور میں اس انفرادیت کی گنجائش نہیں جس کا تصور رومانویت نے دیا تھا۔
​نوام چومسکی نے لسان اور کلام کی جگہ بالترتیب لسانی استعداد (Competence) اور لسانی کارگزاری (Performance) کی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔ وہ لسانی استعداد کو کسی زبان کو بولنے والوں کے خلقی علم کے مفہوم میں لیتا ہے اور لسانی کارگزاری کو اس علم کے عملی اظہار کے مفہوم میں۔ وہ لسانی استعداد میں ایک زبان کے تمام قواعدی اصولوں اور ان تمام امکانات کو شامل کرتا ہے جن کی وجہ سے طرح طرح کا نظم، طرح طرح کے مواقع پرممکن ہوتا
ہے۔