جب بھی ہم کسی شخص کو دیکھتے ہیں تو وہ اپنے مسائل، اپنے معاملات اور اپنے معاشرتی حالات کی وجہ سے پریشان نظر آتا ہے۔ دراصل یہی زندگی ہے کہ اس مختصر سی زندگی میں کبھی خوشی اور کبھی غم، کبھی آسانی اور کبھی مشکل کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ زندگی درحقیقت اللہ رب العزت کی امانت ہے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہیں ہماری روح قبض فرما سکتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ صرف سانس کے رکنے کی دیر ہے۔
اللہ رب العزت نے جس طرح انسان کو اس دنیا میں بھیجا ہے، اسی طرح اس کے تقدیری فیصلے بھی فرما دیے ہیں کہ یہ شخص کتنی سانسیں لے گا، کتنی مدت تک زندہ رہے گا، کون کون سے امتحانات سے گزرے گا اور کتنا رزق اس کے مقدر میں ہوگا۔ یہ سب فیصلے اللہ جل شانہ پہلے ہی انسان کی پوری زندگی کے بارے میں کر چکے ہیں۔
اور اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عطا کی ہوئی زندگی کا حساب لیں گے کہ اس امانت کو کہاں خرچ کیا، کس نیکی میں لگایا اور کس بدکاری میں ضائع کیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں ڈرایا اور یومِ آخرت کی طرف متوجہ فرمایا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ۖ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
(البقرۃ: 281)
"اور ڈرو اس دن سے جب تم سب اللہ کے پاس لوٹائے جاؤ گے، پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کچھ بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔"
ہر شخص کو اپنی متعینہ زندگی پوری کرنے کے بعد یومِ آخرت کی طرف لوٹنا ہے۔ جس نے جیسا عمل کیا ہوگا، وہ اپنے ہی اعمال کا بدلہ پائے گا اور اللہ رب العزت کے سامنے حساب دے گا۔ اُس دن کسی پر کسی بھی قسم کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔
بلاشبہ یہ زندگی اللہ رب العزت کی امانت ہے۔ ہمارے جسم کا ایک ایک عضو اللہ کے حق میں ہے۔ حتیٰ کہ ہماری حرکت و سکون اور یہ چہل پہل بھی اللہ ہی کے حکم سے ہے۔ اسی لیے ہمارا جسم بھی اس بات کا محتاج ہے کہ ہم اپنی زندگی، اپنی زبان اور اپنے اعضا کو صرف اللہ کے لیے خرچ کریں: عبادتوں کے ذریعے، اللہ اور اس کے محبوب ﷺ کی اطاعت کے ذریعے، اور صبر و شکر کے ذریعے۔
ہماری ہر پریشانی کا حل قربِ الٰہی میں ہے، محبوبِ الٰہی میں ہے، اطاعتِ الٰہی میں ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے میں ہے۔ ہماری زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا محتاج ہے، اور کیوں نہ ہو!
اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
(آلِ عمران: 132)
اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اللہ ہم سب کو اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے، نیز ہمیں حمد، صبر اور شکر کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔