بسم اللہ الرحمن الرحیم
واقعۂ معراج - عقل، سائنس اور قرآن کی روشنی میں
(ایک فکری، مثبت اور عصری مطالعہ)
مضمون (71)
واقعۂ معراجِ مصطفیٰ ﷺ تاریخِ انسانیت کا وہ عظیم الشان واقعہ ہے جو ایمان، عقل اور علم — تینوں کو ایک ہی نکتے پر جمع کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ نہ عقل سے متصادم ہے، نہ سائنس سے متحارب، بلکہ انسانی فہم کو اس کی حدود دکھا کر قدرتِ الٰہی کی وسعت سے روشناس کراتا ہے۔
قرآن کی روشنی میں معراج
قرآنِ کریم نے واقعۂ معراج کو نہ تمثیل کہا، نہ خواب قرار دیا، بلکہ حقیقتِ قطعیہ کے طور پر بیان فرمایا:
سُبْحٰنَ الَّذِي أَسْرٰى بِعَبْدِهٖ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْاَقْصَى…
(سورۃ الاسراء: 1)
یہاں لفظ عبدِهٖ نہایت غور طلب ہے۔ قرآن نے ؛؛ روح ؛ یا ؛؛ نفس؛ نہیں فرمایا بلکہ عبد کہا - اور عبد، روح و جسم دونوں کے مجموعے کا نام ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معراج محض روحانی تجربہ نہیں بلکہ جسمانی اور روحانی دونوں تھی۔
مزید یہ کہ آیت کا آغاز سبحٰن سے کیا گیا، یعنی اللہ اپنی ذات کو ہر کمزوری اور ناممکن کے تصور سے پاک قرار دے رہا ہے۔ گویا قرآن خود اعلان کر رہا ہے کہ یہ سفر اللہ کی قدرت کی نشانی ہے، اور قدرتِ الٰہی کے سامنے ناممکن کا تصور ہی باطل ہو جاتا ہے۔
اب ذرا اپنے ذہن کو اس دور کی طرف لے جائیے جس میں رسولِ اکرم ﷺ تشریف لائے۔
وہ زمانہ نہ ہوائی جہاز جانتا تھا، نہ فلائٹس کا تصور رکھتا تھا، اور نہ آسمانوں کو چیرنے والی سواریوں سے واقف تھا۔
نہ اسے یہ معلوم تھا کہ ایک اسکرین پر بیٹھا انسان ہزاروں میل دور کا منظر براہِ راست دیکھ سکتا ہے،
نہ یہ تصور تھا کہ آواز اور تصویر بغیر کسی ظاہری واسطے کے لمحوں میں ایک موبائل اسکرین تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ سب آج انسان کے لیے معمول ہیں، مگر کل یہی چیزیں ناقابلِ فہم سمجھی جاتی تھیں۔
جب مخلوق کی محدود عقل ان مثالوں کو آج قبول کر چکی ہے، تو پھر یہ ماننے میں کیا تردد کہ قادرِ مطلق کے لیے وہ سب ممکن ہے جو انسان کی سوچ سے بھی ماورا ہے؟
اس دور کے انسان کے لیے اگر یہ کہا جاتا کہ ایک انسان رات کے مختصر حصے میں بیت اللہ سے بیت المقدس جائے، پھر آسمانوں کی سیر کر کے واپس آ جائے، تو یہ بات ناقابلِ تصور محسوس ہوتی - جیسے آج سے چند صدیاں پہلے انسان کے لیے آسمان میں اڑنا ایک محال خواب تھا۔
مگر آج کیا حقیقت ہے؟
آج وہی انسان گھنٹوں میں براعظم بدل لیتا ہے، ہزاروں میل کا فاصلہ چند لمحوں میں طے کر لیتا ہے، اور آسمان اس کے لیے اجنبی نہیں رہا۔
تو سوال یہ نہیں کہ معراج کیسے ہوئی؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم عقل کو کس حد تک مانتے ہیں اور اللہ کی قدرت کو کس حد تک محدود سمجھ بیٹھے ہیں؟
یہ بھی یاد رہے کہ رسولِ اکرم ﷺ خود نہیں گئے،
بلکہ خالقِ کائنات نے بلایا۔
یہ سفر انسانی کوشش نہیں تھا بلکہ الٰہی بلاوا تھا۔
جب بلانے والا وہ ہو جس کے بارے میں قرآن اعلان کرے:
اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
(سورۃ البقرۃ: 20)
بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے
تو پھر عقل کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ قدرتِ الٰہی کو اپنے محدود پیمانوں میں قید کرے۔
سائنس کی روشنی میں اطمینان
جدید سائنس بھی آج یہ ماننے پر مجبور ہے کہ وقت مطلق (Absolute) نہیں، فاصلہ حتمی رکاوٹ نہیں، اور Space و Time قابلِ تغیر ہیں۔
Time Dilation، Relativity اور دیگر سائنسی نظریات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو چیز کل ناممکن سمجھی جاتی تھی، آج ممکن ہے، اور جو آج ممکن نہیں، وہ کل حقیقت بن سکتی ہے۔
پس معراج سائنس کی نفی نہیں بلکہ سائنس کے غرور کی نفی ہے۔
تفصیل کے لیے “جدید سائنس اور معجزۂ معراج” اور “فلسفۂ معراج النبی ﷺ” جیسی کتب کا مطالعہ مفید رہے گا۔
واقعۂ معراج ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عقل اگر عاجزی اختیار کرے تو ایمان بن جاتی ہے، علم اگر وحی کے تابع ہو تو ہدایت بن جاتا ہے، اور ایمان اگر یقین میں بدل جائے تو معراجِ فکر عطا کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں انکار نہیں بلکہ اطمینان دیتا ہے، اور شک نہیں بلکہ یقین عطا کرتا ہے۔
معراج نہ عقل کے خلاف ہے، نہ سائنس کے منافی، بلکہ یہ قدرتِ الٰہی کا اعلان، رسالتِ محمدی ﷺ کی صداقت، اور انسانی عقل کی حد بندی کا نام ہے۔
جو عقل خدا کی قدرت کو ناپنے لگے، وہ بھٹک جاتی ہے، اور جو عقل خدا کی قدرت کے سامنے جھک جائے، وہ ایمان پا لیتی ہے۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ بعض اہلِ علم معراج کو جدید سائنسی تصورات سے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر یہ سائنسی ثبوت نہیں بلکہ صرف عقلی توضیحات ہیں، کیونکہ معراج ایک معجزہ ہے جو فطری قوانین سے ماورا ہے، اور یہ ایسی حقیقت ہے جسے سائنس سے نہیں بلکہ دلی ایمان سے مانا جاتا ہے۔
واقعۂ معراج ہمیں یہ یقین عطا کرتا ہے کہ ایمان اور عقل میں تصادم نہیں بلکہ حد بندی ہے۔
انسان کی عقل جہاں ختم ہوتی ہے، وہیں سے قدرتِ الٰہی کا ظہور شروع ہوتا ہے۔
معراج دراصل یہ پیغام ہے کہ جو ذات کائنات کی خالق ہے، اس کے لیے ناممکن کا تصور ہی بے معنی ہے - 
اور جو اس حقیقت کو مان لے، وہ شک سے نکل کر یقین کی معراج پا لیتا ہے۔
   بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com