بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ

ستائیسویں رجب / شبِ معراج میں کی جانے والی بدعات:

                         رجب کی ستائیسویں شب میں موجودہ زمانے میں طرح طرح کی خرافات پائی جاتی ہیں، اس رات حلوہ پکانا،رنگین جھنڈیاں ، آتش بازی اور مٹی کے چراغوں کو جلا کے گھروں کے درو دیوار پر رکھنا وغیرہ وغیرہ،جن کا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اِن کو عبادت اور ثواب سمجھ کے کیا جاتا ہے تو یہ بدعت کہلائیں گی؛کیونکہ نہ تو اِن سب اُمور کو ہمارے نبی کریم ﷺ نے خودکیا ہے ،نہ ان کے کرنے کا حکم کیا اور نہ ہی آپ ﷺ کے اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کیا ، اور نہ ہی کرنے کا حکم کیا۔اور اگر ان اُمور کو عبادت سمجھ کے نہیں کیا جاتا؛ بلکہ بطورِ رسم کیا جاتا ہے تو ان میں فضول خرچی اور اسراف ہے جو کہ شرعاً حرام ہیں۔

          اِن تمام اُمور کو اِس بنیاد پر سرانجام دیا جاتا ہے کہ ۲۷ ویں رجب میں نبیِ کریم ﷺ کو سفرِ معراج کروایا گیا،عوام کے اس رات اِس اہتمام سے پتہ چلتا ہے کہ رجب کی ستائیسویں شب کو ہی یقینی طور پر شبِ معراج مان لیا ۔
حالانکہ آپ ﷺ کو سفرِ معراج کب کروایا گیا؟ 
اِس بارے میں تاریخ،مہینے؛بلکہ سال میں بھی بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے؛جسکی بناء پر ستائیسویں شب کو ہی شبِ معراج قرار دینا بالکل غلط ہے،اگرچہ مشہور قول یہی ہے۔

          دوسری بات ! شبِ معراج جِس رات یا مہینے میں بھی ہو ،اُس رات میں کسی قسم کی بھی متعین عبادت شریعت میں منقول نہیں ہے،یہ الگ بات ہے کہ اِس رات میں حضرت محمد ﷺ کو بہت بڑا شرف بخشا گیا،آپ کے ساتھ بڑے اعزاز و اکرام والا معاملہ کیا گیااور آپ ﷺ کو آسمانوں پر بُلا کے بہت سے ہدیے دئے گئے؛ لیکن امت کے لیے اس بارے میں کسی قسم کی کوئی فضیلت والی بات کسی نے نقل نہیں کی۔
واللّٰہ اعلم بالصواب 
     اللّٰہ تعالٰی ہماری ان بدعات سے حفاظت فرماۓ۔آمین
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ