مطالعہ علم کے حصول کا بنیادی ذریعہ ہے، مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم مطالعہ کے وقت مقدار (Quantity) کو معیار (Quality) پر ترجیح دینے لگتے ہیں۔ ہماری خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ صفحات، زیادہ سے زیادہ کتب اور زیادہ سے زیادہ مضامین جلدی جلدی پڑھ لیے جائیں۔ بلاشبہ یہ شوق اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ مفید اور مؤثر طریقہ یہ ہے کہ کم پڑھا جائے مگر سمجھ کر، غور و فکر کے ساتھ اور دل جمعی سے پڑھا جائے۔
حقیقی مطالعہ وہ ہے جس میں قاری کتاب کے الفاظ ہی نہیں بلکہ اس کے معانی، مقاصد اور اشارات تک رسائی حاصل کرے۔ اسی لیے اہلِ علم نے ہمیشہ Quantity کے بجائے Quality پر زور دیا ہے۔ ایک اچھی، جامع اور مستند کتاب کا انتخاب کر کے اسے بار بار پڑھنا، اس پر تدبر کرنا اور اس کے نکات کو ذہن نشین کرنا، سطحی طور پر کئی کتابیں پڑھ لینے سے کہیں بہتر ہے۔
یہی بات ایک دانشمندانہ جملے میں یوں بیان کی گئی ہے کہ:
“کسی ایک موضوع پر ایک کتاب کو تین مرتبہ پڑھنا، اسی موضوع پر تین مختلف کتابیں پڑھنے سے بہتر ہے۔”
کیونکہ جلدبازی میں پڑھی گئی کتب اکثر محض نظروں سے گزر جاتی ہیں، جبکہ بار بار پڑھنے سے کتاب اپنے خزانے خود قاری پر کھول دیتی ہے۔
مطالعہ کے لیے ماحول کا سازگار ہونا بھی نہایت ضروری ہے۔ پرسکون، خاموش اور صاف ستھرا ماحول، اور اگر ممکن ہو تو ہریالی سے بھرپور جگہ، ذہن کو تازگی اور یکسوئی عطا کرتی ہے جس سے مطالعہ نہ صرف آسان بلکہ خوشگوار بھی بن جاتا ہے۔
اکابرِ امت کے حالاتِ زندگی میں مطالعہ کی جو مثالیں ملتی ہیں وہ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ جب یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ بعض بزرگوں نے صحیح بخاری شریف کا سات سو مرتبہ مطالعہ کیا تو عقل حیران رہ جاتی ہے کہ ان پر کتنے دقیق اور لطیف علمی نکات منکشف ہوئے ہوں گے۔ یہ سب کچھ اسی گہرے، مسلسل اور بامقصد مطالعہ کا ثمر تھا۔
لفظ مطالعہ عربی زبان میں بابِ مفاعلہ سے ہے، جس میں دونوں طرف سے عمل کا ہونا پایا جاتا ہے، جیسے مکالمہ اور مقاتلہ۔ اس اعتبار سے مطالعہ کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اگر طالب علم پوری توجہ، اخلاص اور دل جمعی سے کتاب کا مطالعہ کرے گا تو کتاب بھی اس کے سامنے اپنے علوم و معارف کے دروازے کھول دے گی۔
لہٰذا دینی طلبہ و طالبات کے لیے ضروری ہے کہ وہ مطالعہ کو محض ایک عادت نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک زندہ عمل بنائیں۔ کم پڑھیں، مگر ایسا پڑھیں کہ علم دل و دماغ میں راسخ ہو جائے، کیونکہ ایسا مطالعہ ہی علم کو نفع بخش اور عمل کو مضبوط بناتا ہے۔
✍️ہانیہ فاطمہ قادریہ
📚بانیہ قادریہ اکیڈمی للبنات احمدآباد گجرات