*جامعہ اشرفیہ مبارکپور کی سرکاری منظوری کی معطلی*


ایک علمی ادارہ، ایک آئینی سوال، اور ایک اجتماعی امتحان ہے، *جامعہ اشرفیہ مبارکپور* کی سرکاری منظوری کی معطلی محض ایک تعلیمی ادارے کے خلاف انتظامی کارروائی نہیں، بلکہ یہ فیصلہ علمی روایت، اقلیتی تعلیمی حقوق، آئینی وعدوں اور جمہوری طرزِ حکمرانی کے لیے ایک سنجیدہ آزمائش بن چکا ہے، اس مسئلے نے ہزاروں طلبہ کے مستقبل، سینکڑوں اساتذہ کے روزگار، اور ایک پورے طبقے کے اعتماد کو غیر یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے،یہ معاملہ اب کسی ایک مدرسے یا شہر کا نہیں رہا، بلکہ پورے ملک کے تعلیمی، سماجی اور سیاسی منظرنامے پر سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔*جامعہ اشرفیہ* ایک ادارہ نہیں، ایک روایت،جامعہ اشرفیہ مبارکپور گزشتہ چھ سے سات دہائیوں سے دینی و عصری علوم کی ایک مضبوط علمی روایت کا امین رہا ہے، یہ وہ ادارہ ہے جس نے ہزاروں علماء، مفتیان اور مبلغین تیار کیے، جنہوں نے ملک و بیرونِ ملک دین، تعلیم اور سماج کی خدمت کی، اہلِ سنت و الجماعت کی فکری و علمی شناخت کے تحفظ میں اس ادارے کا کردار کسی تعارف کا محتاج نہیں،ایسے تاریخی ادارے کی منظوری کی معطلی دراصل ایک فرد یا انتظامیہ نہیں، بلکہ ایک مکمل علمی وراثت کو متاثر کرتی ہے۔سرکاری فیصلے کا سیاسی و آئینی پہلو تعلیم جمہوری معاشروں میں محض انتظامی موضوع نہیں ہوتی، بلکہ یہ سماجی توازن، فکری آزادی اور قومی یکجہتی سے جڑی ہوتی ہے، آئینِ ہند اقلیتی طبقات کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے، چلانے اور محفوظ رکھنے کا حق دیتا ہے، جامعہ اشرفیہ جیسے ادارے اسی آئینی روح کا عملی اظہار ہیں،ایسے میں منظوری کی اچانک معطلی یہ سوال کھڑا کرتی ہے کہ کیا فیصلہ شفاف اور متناسب تھا؟ *اگر خامیاں تھیں تو اصلاح کی مہلت کیوں نہ دی گئی؟*کیا اس معاملے میں وہی پیمانہ اپنایا گیا جو دیگر اداروں کے لیے اختیار کیا جاتا ہے؟ یہ سوالات اب انتظامی نہیں رہے، بلکہ سیاسی جواب دہی اور آئینی تشریح کا تقاضا کرتے ہیں۔خاموشی بھی ایک مؤقف ہےاس معاملے میں سیاسی قیادت، عوامی نمائندوں اور ذمہ دار حلقوں کی خاموشی تشویشناک ہے،جمہوریت میں نمائندے صرف ووٹ لینے کے وقت نظر نہیں آتے، بلکہ ایسے نازک مواقع پر ان کی موجودگی، آواز اور کردار قوم کا حوصلہ بنتے ہیں، خاموشی غیر جانبداری نہیں ہوتی یہ بھی ایک سیاسی مؤقف ہوتا ہے، اور تاریخ اسے اسی طرح محفوظ رکھتی ہے۔اس فیصلے کے ہمہ گیر اثرات یہ ہوں گے کہ ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا، اساتذہ اور ملازمین کا روزگار اور وقار متاثر ہو جائے گا،دینی تعلیم کے اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے، اقلیتی طبقے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہےیہ اثرات محض وقتی نہیں بلکہ دور رس ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا کسی بھی ذمہ دار حکومت یا معاشرے کے لیے ممکن نہیں *اب ہمیں کون سا قدم اٹھانا چاہیے؟* یہ مرحلہ جذباتی ردِعمل کا نہیں بلکہ منظم، آئینی اور اجتماعی اقدام کا ہے:قانونی راستہ فوری اختیار کیا جائے،ماہر وکلاء کے ذریعے معاملے کا مکمل آئینی و قانونی جائزہ لیا جائے، عدالت اور متعلقہ تعلیمی و سرکاری فورمز سے فوری رجوع کیا جائے، تاکہ طلبہ کے مستقبل کو قانونی تحفظ حاصل ہو سکے۔متحدہ قیادت اور مشترکہ پلیٹ فارم علماء، دینی اداروں کے ذمہ داران، سماجی شخصیات اور تعلیمی ماہرین پر مشتمل ایک متحدہ نمائندہ کمیٹی تشکیل دی جائے، تاکہ آواز منتشر نہ ہو بلکہ مضبوط اور مؤثر بنے۔سیاسی نمائندوں سے براہِ راست مکالمہ مقامی، صوبائی اور قومی سطح کے عوامی نمائندوں سے ملاقات کی جائے،ان سے واضح طور پر پوچھا جائے کہ وہ اس آئینی اور تعلیمی مسئلے پر کہاں کھڑے ہیں۔مہذب اور آئینی عوامی دباؤپرامن اجتماعات، تحریری عرضداشتیں، اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے آواز بلند کی جائے، کسی بھی غیر ذمہ دارانہ یا جذباتی اقدام سے مکمل اجتناب کیا جائے، *میڈیا اور عوامی بیانیہ* حقائق پر مبنی، متوازن اور باوقار انداز میں معاملہ میڈیا اور عوام کے سامنے رکھا جائے،افواہوں، اشتعال انگیزی اور منفی بیانیے سے خود کو دور رکھا جائے۔طلبہ کو مرکزِ توجہ رکھا جائےہر قدم میں یہ اصول سامنے رہے کہ کسی بھی صورت میں طلبہ کا مستقبل قربان نہ ہو،یہ معاملہ اداروں یا افراد کی انا کا نہیں، بلکہ ایک نسل کے مستقبل کا ہے،یہ صرف ایک ادارے کا سوال نہیں،جامعہ اشرفیہ مبارکپور کا معاملہ آج ایک فائل ہے،مگر کل یہ جمہوری شعور، آئینی عمل اور اجتماعی ذمہ داری کا معیار بنے گا،اصل امتحان یہ نہیں کہ فیصلہ کیا ہوا،بلکہ یہ ہے کہ ہم نے اس فیصلے کے مقابلے میں شعور، اتحاد اور بصیرت کا مظاہرہ کیا یا نہیں۔

اللہ اس ملک کو انصاف، توازن اور حکمت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے،اور علم و تعلیم کے چراغ ہمیشہ روشن رکھے،میرے مادر علمی الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور کی ہر حفاظت فرمائے: آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ۔

*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*