اجتہاد، تقلید اور فکری آزادی یہ تین چیزیں دین کے فکری نظام کے تین ستون ہیں جن میں ذرا سا بھی عدمِ توازن پورے فہمِ دین کو یا تو جمود میں بدل دیتا ہے یا انتشار میں۔۔۔ اجتہاد دراصل عقل کی خودسری نہیں بلکہ وحی کے سائے میں عقل کی منظم جدوجہد ہے۔ یہ اس جگہ حرکت میں آتا ہے جہاں نص خاموش ہو یا متعدد فہمات کی گنجائش ہو اس کے لیے محض ذہانت نہیں بلکہ قرآن و سنت پر گہری نظر، اصولِ فقہ کی پختگی، لغتِ عرب کا ذوق اور مقاصدِ شریعت کا شعور شرط ہے اسی لیے اجتہاد نہ ہر شخص کا حق ہے اور نہ ہر زمانے میں ہر مسئلے کا میدان۔
تقلید جسے آج کل فکری غلامی کہہ کر مطعون کیا جاتا ہے دراصل عام انسان کے لیے علمی امانت اور تحفظ ہے جیسے مریض طب کے اسرار جانے بغیر ڈاکٹر پر اعتماد کرتا ہے ویسے ہی غیر مجتہد اپنے سے بڑے علم و بصیرت رکھنے والوں پر اعتماد کرتا ہے۔ یہ اعتماد عقل کی نفی نہیں بلکہ تخصص کا اعتراف ہے۔ ہاں جب تقلید دلیل سے فرار، مسلک کی تقدیس اور خطا کے امکان سے انکار میں بدل جائے تو وہ دین کی خدمت نہیں بلکہ دین کی قید بن جاتی ہے۔ رہی فکری آزادی تو اسلام اسے بے مہار چھوڑنے کے بجائے اخلاقی و اعتقادی حدود میں رکھتا ہے۔ یہاں سوچنے کی دعوت ہے مگر توڑنے کی اجازت نہیں، سوال کرنے کی حوصلہ افزائی ہے مگر نص سے بغاوت کی نہیں، عقل کو چراغ دیا گیا ہے مگر اسے سورج بننے کا دعویٰ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔۔۔۔۔
المیہ یہ ہے کہ آج ایک طرف ہر نو آموز ذہن خود کو مجتہد سمجھ بیٹھا ہے اور دوسری طرف بعض حلقوں میں صدیوں پرانی آراء کو حرفِ آخر بنا دیا گیا ہے حالانکہ دین کا حسن اسی میں ہے کہ نص ثابت رہے، فہم متحرک رہے اور آزادی ذمہ داری کے ساتھ جڑی رہے کیونکہ جہاں اجتہاد جری ہو مگر متواضع، تقلید مضبوط ہو مگر اندھی نہ ہو اور فکری آزادی وسیع ہو مگر باحدود ہو وہیں دین زندگی بن جاتا ہے اور علم عبادت۔۔۔۔۔۔