خاموش صفحات، بولتا ہوا نور
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

علمِ دین دلوں کی روشنی اور زندگی کی رہنمائی
علمِ دین محض معلومات کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ نور ہے جو انسان کے باطن کو منور کرتا ہے، اس کی سوچ کو درست سمت دیتا ہے اور اس کے عمل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے قریب لے جاتا ہے۔ جب دل خواہشات، شبہات اور دنیا کی الجھنوں میں گھِر جاتا ہے تو علمِ دین ایک چراغ بن کر راستہ دکھاتا ہے، جس کی روشنی میں حق اور باطل میں فرق واضح ہو جاتا ہے۔
قرآنِ مجید نے علم کی قدر و منزلت کو غیر معمولی انداز میں بیان کیا ہے:
“کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟”
(سورۃ الزمر، 39:9)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ علم انان کو محض دوسروں سے ممتاز نہیں کرتا بلکہ اسے فکری، روحانی اور اخلاقی بلندی عطا کرتا ہے۔
کتاب :خاموش استاد اور سچا رفیق
کتاب ایک ایسا دوست ہے جو نہ تھکتا ہے، نہ شکوہ کرتا ہے اور نہ ہی بے وفائی کرتا ہے۔ وہ خاموش رہ کر بھی انسان سے گفتگو کرتی ہے، سوالات کے جواب دیتی ہے اور سوچ کے نئے در وا کرتی ہے۔ علمِ دین کی کتابیں خصوصاً انسان کے اندر خوفِ خدا، یقین، صبر اور حکمت پیدا کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی تہذیب میں کتاب کو ہمیشہ مرکزیت حاصل رہی۔ قرآنِ مجید خود “کتاب” ہے، اور اس کا پہلا حکم ہی علم کی طرف رہنمائی کرتا ہے:
“پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا”
(سورۃ العلق، 96:1)
یہ حکم اس بات کا اعلان ہےکہ اللہ تعالیٰ سے قربت کا راستہ علم اور فہم سے ہو کر گزرتا ہے۔
علم سے محبت ۔ رب کی قربت کا سفر
جو شخص علم اور کتاب سے محبت کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی معرفت کی طرف قدم بڑھا رہا ہوتا ہے۔ علمِ دین انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور اپنی زندگی کو مقصد کے ساتھ گزارے۔
قرآنِ مجید میں اہلِ علم کی عظمت یوں بیان کی گئی ہے:
“اللہ تم میں سے ایمان والوں اور علم والوں کے درجے بلند فرما دیتا ہے”
(سورۃ المجادلہ، 58:11)
یہ بلندی محض دنیاوی مقام نہیںبلکہ دل کا سکون، عمل کی درستگی اور آخرت کی کامیابی ہے۔
کتابوں سے بننے والے رشتے
کچھ رشتے آواز اور لفظوں کے محتاج نہیں ہوتے، وہ کتابوں کے ورق پلٹتے ہوئے وجود میں آتے ہیں۔ یہ رشتے انسان کو تنہائی میں سہارا دیتے ہیں، مایوسی میں امید دلاتے ہیں اور شک میں یقین عطا کرتے ہیں۔ یہی رشتے انسان کے اندر فکری پختگی اور روحانی اطمینان پیدا کرتے ہیں۔
علمِ دین کی صحبت انسان کو شور سے نکال کر سکون تک، اور اندھیرے سے روشنی تک لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین علم کی مجلس کو دلوں کی زندگی قرار دیتے تھے ۔ یہ بات ان کے اقوال میں کثرت سے منقول ہے، اگرچہ ہر قول کی سند الگ درجے کی ہے، مگر مفہوم متفق علیہ ہے۔
علمِ دین وہ چراغ ہے جو:
دل کے اندھیروں کو مٹاتا ہے
فکر کو درست کرتا ہے
عمل کو سنوارتا ہے
اور انسان کو ربّ کی قربت عطا کرتا ہے
اور کتاب وہ خاموش رفیق ہے جو:
تنہائی میں ساتھ دیتا ہے
جہالت میں رہنمائی کرتا ہے
اور زندگی کو معنی عطا کرتا ہے
یہی علم، یہی کتاب، اور یہی محبت انسان کو روشنی، سکون اور یقین کی دولت سے مالا مال کرتی ہے۔