یہ آخری سال بھی ہو سکتا ہے!
✒️مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
آج 30 دسمبر ہے۔
کل 31 دسمبر ہوگا۔
اور پھر یہ سال۔خاموشی سےہمیں چھوڑ کر گزر جائے گا۔
سال نہیں جاتا…
ہم میں سے ایک حصہ رخصت ہو جاتا ہے۔
یہ سال اپنے ساتھ وہ لمحے بھی لے جا رہا ہے
جن میں ہم ہنسے تھے، روئے تھے، ٹوٹے تھے، سنبھلے تھے
کچھ وعدے جو پورے نہ ہو سکے
کچھ گناہ جو ہم ٹالتے رہے
کچھ نیکیاں جو کرنا چاہتے تھے مگر “کل” پر چھوڑ دیں۔
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے
کہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔
قرآن اسی حقیقت کو مختصر مگر فیصلہ کن انداز میں بیان کرتا ہے:
وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ
(سورۃ العصر: 1–2)
یہ خسارہ کسی خاص قوم یا زما تک محدود نہیں،
یہ ہر اس شخص کے لیے ہے
جو وقت کو یونہی گزرنے دے۔
ہم کامل نہیں تھے، اور یہ مان لینا
ہی اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے
غلطیاں ہوئیں۔یہ حقیقت ہے۔
مگر توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔یہ اس سے بڑی حقیقت ہے۔
جو دل ہم نے دکھائے، وہ اعمال سے زیادہ بھاری ہیں
نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ
مفلس وہ ہے جس کے پاس عبادات تو ہوں
مگر لوگوں کے حقوق پامال کیے ہوں۔
(صحیح مسلم)
دنیا میں ناکامی آخرت کی ناکامی نہیں ہوتی
اصل ناکامی یہ ہے
کہ انسان سچ پہچان لے اور پھر بھی نہ بدلے۔
آنے والا سال: محض تاریخ کی تبدیلی نہیں
نیا سال کوئی ضمانت نہیں لاتا
یہ صرف ایک نیا موقع لاتا ہے۔
اگر ہم نے نیت نہ بدلی
تو کیلنڈر بدلنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔
نماز کو “فریضہ” نہیں بلکہ “ملاقات” سمجھیں
توبہ کو عادت بنائیں، ہنگامی قدم نہیں
کسی ایک انسان کے لیے آسانی کا سبب بنیں۔
وقت کی قدر کریں، کیونکہ یہی اصل سرمایہ ہے
رشتوں میں انا کم اور ذمہ داری زیادہ رکھیں
علم، ہنر اور کردار؛تینوں پر مسلسل کام کریں
یہ بات یقینی ہے
کہ آنے والا سال ہمارے ہاتھ میں نہیں
مگر ہم آنے والے سال میں کیسے ہوں گے۔یہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
جو شخص آج کو سنوار لیتا ہے
اس کا کل خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔
اور جو شخص کل کے بھروسے بیٹھا رہتا ہے
اکثر اس کا آج بھی ضائع ہو جاتا ہے۔
اللہ ہمیں
رخصت ہوتے سال سے سبق
اور آنے والے سال کے لیے صدقِ نیت عطا فرمائے۔آمین۔