ایک درست انتخاب، نسلوں کی سمت بدل دیتا ہے

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی

ذرا تصور کریں…
یہ محض ایک خیال نہیں، ایک مکمل نقشۂ حیات ہے۔

اگر آپ کی شادی ایک نیک لڑکی سے ہو،
اور آپ خود بھی اس کے لیے نیک شوہر ہوں
یعنی صرف نام کے نہیں، عمل کے بھی۔
نماز میں، معاملات میں، نگاہ میں، نیت میں،
اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھنے والے۔
پھر اللہ کے فضل سے آپ کو نیک اولاد عطا ہو
ایسی اولاد جو صرف تعلیم یافتہ نہ ہو
بلکہ تربیت یافتہ ہو،
جس کے کان میں پہلی صدا اذان کی ہو
اور آنکھ کھلتے ہی ماں باپ کا کردار اس کے سامنے ہو۔
وہ اولاد جب جوان ہو،
تو وہ چمک دمک، دولت یا وقتی فائدے کے بجائے
دین، اخلاق اور تقویٰ کو معیار بنائے۔
وہ نیک لوگوں سے رشتہ جوڑے،
اور پھر وہی سلسلہ آگے بڑھے
ایک نسل، پھر دوسری نسل، پھر تیسری نسل…
جن کے دلوں میں اللہ کا خوف ہو
اور جن کے ہاتھوں سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔
اب ذرا رک کر موجودہ معاشرے کو دیکھیں۔
ہم شکوہ کرتے ہیں کہ
اخلاق ختم ہو گئے،
امانت ناپید ہو گئی،
رشتوں میں خود غرضی آ گئی،
بچے نافرمان ہو گئے،
معاشرہ بگڑ گیا۔
مگر ہم یہ سوال کم ہی کرتے ہیں کہ
ہم نے بنیاد کہاں رکھی تھی؟
ہم نے رشتہ کرتے وقت کیا دیکھا تھا؟
چہرہ؟
آمدنی؟
عہدہ؟
یا دل کا دین؟
حقیقت یہ ہے کہ
معاشرے ایک دن میں نہیں بگڑتے،
اور نہ ہی ایک دن میں بنتے ہیں۔
وہ گھروں سے بنتے ہیں،
بیوی شوہر کے رشتے سے بنتے ہیں،
اور ماں باپ کی گود سے پروان چڑھتے ہیں۔
ایک نیک شوہر اپنی بیوی کو تحفظ دیتا ہے،
ایک نیک بیوی اپنے گھر کو جنت بناتی ہے،
اور دونوں مل کر ایسی اولاد تیار کرتے ہیں
جو نہ صرف اپنے لیے،
بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت بن جاتی ہے۔
ذرا سوچیں!
اگر ہر گھر میں
دین کو ترجیح دی جائے،
کردار کو اہمیت دی جائے،
اور اللہ کی رضا کو مقصد بنایا جائے
تو ہمیں شکایتیں کم
اور سجدے زیادہ کرنے پڑیں گے۔
یہ کوئی انقلابی نعرہ نہیں،
یہ خاموش انقلاب ہے
جو شادی کے ایک درست فیصلے سے شروع ہوتا ہے
اور نسلوں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
ہاں،
آپ اکیلے پورا معاشرہ نہیں بدل سکتے،
لیکن یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ
آپ سے ایک دیندار معاشرہ شروع ہو۔
کیونکہ
اللہ کے ہاں
ایک نیک گھر
ہزار نعروں سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔