مضمون (57)
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا خدا کا وجود ہے؟ — عقل، فطرت اور وحی کی روشنی میں ایک فکری مکالمہ
***************
انسان جب یہ سوال اٹھاتا ہے کہ
“کیا خدا کا وجود ہے؟”
تو وہ دراصل کائنات کی سب سے بنیادی حقیقت کو چیلنج کرتا ہے۔
یہ سوال اگرچہ نیا نہیں، مگر اس کا جواب ہمیشہ عقل، فطرت اور وحی کے امتزاج سے ہی مکمل ہوتا ہے۔
سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جو شخص خدا کے وجود کو ہی نہیں مانتا، وہ قرآن کو بطور دلیل قبول نہیں کرے گا۔
لہٰذا پہلے مرحلے میں اس سے صرف عقل اور مشاہدے کی بنیاد پر گفتگو کی جا سکتی ہے.
تاکہ وہ اس حقیقت کے دروازے تک آ سکے جہاں سے وحی کی روشنی شروع ہوتی ہے۔
چلیے، بات یہیں سے شروع کرتے ہیں۔
ہر انسان کے دل میں ایک خاموش سوال ابھرتا ہے:
میں کہاں سے آیا؟
اس دنیا کو کس نے بنایا؟
پھر مجھے مرنا ہے—موت کے بعد کیا ہوگا؟
کیا مجھے کوئی دیکھ رہا ہے؟
اگر دیکھ رہا ہے تو کون دیکھ رہا ہے؟
یہاں سے سوال آگے بڑھتا ہے:
کیا کوئی ایسی ذات ہے جس نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا؟
اور اگر ہر چیز اسی نے بنائی ہے تو کیا بنانے والے کو بھی کسی نے بنایا ہوگا؟
اور پھر اسے بھی کسی نے بنایا ہوگا؟
یہ ایک لامتناہی سلسلہ بن جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔
لہٰذا عقل فیصلہ کرتی ہے کہ:
ایک ایسا وجود ضرور ہے جو غیر مخلوق ہے.
جسے کسی نے نہیں بنایا،
اور وہی سب کو بنانے والا ہے۔
مگر جب انسان کی عقل کسی مقام پر ٹھہرتی ہی نہیں،
جب ہر سوال پر وہ اپنی عقل کا گھوڑا دوڑاتا ہی رہتا ہے،
تو وہ ضد اور کنفیوژن کا شکار ہو جاتا ہے،
اور کائنات کے وجود کو مانتے ہوئے بھی خدا کا منکر بن کر
یہ دعویٰ کرنے لگتا ہے کہ
“سب کچھ خود بخود ہو گیا”۔
یہ سوچ علم نہیں—یہ دھوکا ہے،
یہ محض ایک فرضی مفروضہ ہے۔
ذرا انصاف سے.سوچیے:
کیا مشینیں خود بخود بن جاتی ہیں؟
کیا کتاب اپنے الفاظ خود لکھ لیتی ہے؟
کیا موبائل کے پرزے خود بخود جڑ جاتے ہیں؟
کیا گھڑی خود بن جاتی ہے؟
کیا عمارت خود کھڑی ہو جاتی ہے؟ ہرگز نہیں۔
ہر انسان کی عقل مانتی ہے:
“ہر وہ چیز جو وجود رکھتی ہے، اس کا کوئی سبب ہوتا ہے۔”
تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کائنات جیسی عظیم،منظم اور بے مثال تخلیق
خود بخود وجود میں آ جائے؟. ہرگز نہیں.
لہٰذا عقل گواہی دیتی ہے کہ
ایک ایسا وجود ضرور ہے جو وجود کا آغاز کرنے والا ہے،
جسے کسی نے پیدا نہیں کیا،
اور وہی ہر شے کا خالق ہے۔؛ اسی وجود کو ہم اللہ کہتے ہیں۔
آج جدید سائنس بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
Fine-Tuning
کائنات کا ہر زاویہ انتہائی ناپ تول کے ساتھ قائم ہے۔
اس میں محفوظDNA معلومات کسی عظیم پروگرامر کے بغیر ممکن نہیں۔خود سائنس یہ اعتراف کر رہی ہے کہ “کائنات کے پیچھے. ایک عظیم ذہن موجود ہے "
یہی وہ مقام ہے جہاں سوال ابھرتا ہے:میں کون ہوں؟کائنات کیسے وجود میں آئی؟
اور وجود میں لانے والا کون ہے؟
یہ سوال دراصل خدا کی تلاش کا فطری اعلان ہے۔
> ﴿ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ﴾
(الروم: 30)
یہ فطرت کی آواز ہے.
اور فطرت کا پکارنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اندر کوئی حقیقت بیدار ہو رہی ہے_یہی خدا کا شعور ہے۔ایسے موڑ پر عقلمندی یہی ہے کہ
انسان اپنی حد کو پہچانے،
بے جا اٹکلیں نہ گھڑے،
کیونکہ بعض سوالات انسانی عقل کی حدود سے باہر ہیں۔
مثلاً :بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟
اس کا جواب نہ سائنس کے پاس ہے
اور نہ انسانی ذہن میں اس کی سکت ہے۔کیوں کہ یہ انسانی عقل کے حدود سے باہر ہے.
یہاں صرف وحی کی روشنی رہنمائی کرتی ہے۔
قرآن ہمیں خالق کا پیغام سناتا ہے:
> ﴿ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ﴾
(الذاریات: 56)
یہی تخلیق کا مقصد ہے_
اور اسی پر عمل کر کے انسان
اپنی شناخت،
اور کائنات کا مقصد پا لیتا ہے۔
اسلام میں خالق (اللہ) کو
ازلی اور ابدی مانا جاتا ہے.
جسے کسی نے پیدا نہیں کیا_،وہ خود وجود کا سبب ہے
قادرِ مطلق اور غیر مشروط وجود ہے ۔
اب ذرا آگے بڑھ کر سوال کیجیے:
نیکی اور بدی کا شعور کس نے دیا؟اگر خدا نہیں،
تو انصاف، جرم، اخلاق، خیر و شر کا معیار کیا ہوگا؟
ایک قاتل یا دہشت گرد بھی کہہ سکتا ہے:
“میری نظر میں یہ درست ہے۔”
پھر فیصلہ کون کرے گا؟
انسان کا اخلاقی شعور؛ اس کا باطنی ضمیر،
اور انصاف کی طلب
چیخ چیخ کر گواہی دیتی ہے کہ
ایک اعلیٰ ترین اخلاق عطا کرنے والا وجود موجود ہے۔
قرآن اعلان کرتا ہے:
> ﴿ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾
(الزمر: 62)
اور فرماتا ہے:
> ﴿ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ ﴾
(آل عمران: 190)
بلکہ خود انسان کی تخلیق میں:
> ﴿ وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُونَ ﴾
(الذاریات: 21)
قرآن خود اس بات کی زندہ دلیل ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی رسالت محض دعویٰ نہیں بلکہ اللہ کی قائم کردہ حجت ہے۔
> ﴿ وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ... فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ ﴾
(البقرہ: 23)
یہ چیلنج آج تک قائم ہے۔اور قائم رہے گا.
اور اللہ خود فرماتا ہے:
> ﴿ لَّـٰكِنِ اللَّـهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ﴾
(النساء: 166)
پس قرآن دلیل ہے،
اور رسول ﷺ اس دلیل کی عملی تفسیر۔
بہر کیف—خدا کو نہ ماننا عقل کی نہیں،
دل کی بیماری ہے۔
جو سچ چاہے، وہ پا لیتا ہے؛
اور جو ضد پر ہو،
وہ سورج کی روشنی میں بھی کچھ نہیں دیکھتا۔
کائنات کے ہر ذرے پر،
ہر توازن میں،ہر حسن میں.
ایک ہی حقیقت لکھی ہے:“خالق موجود ہے!”
اس کا انکار
نہ سائنس کر سکتی ہے،نہ منطق؛ نہ فطرت؛
لہٰذا :خدا کا وجود ؛عقل سے بھی ثابت،
سائنس سے بھی ثابت،
فطرت سے بھی ثابت،
اور قرآن سے بھی قطعی طور پر ثابت ہوا
صاحب تفسیر ابن کثیر لکھتے ہیں :بعض آسمانی کتابوں میں ہے :اے ابن آدم مین نے تجھے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے پس تو اس سے غفلت نہ کر؛ تیرے رزق کا میں. ضامن ہوں تو اس میں بے جا تکلیف نہ کر؛ مجھے ڈھونڈ. تاکہ مجھے پالے َجب تو نے مجھے پا لیا یقین مان کہ تو نے سب کچھ پا لیا _اور اگر میں تجھے نہ ملا تو سمجھ لے کہ تمام بھلائیاں تو کھو چکا _یعنی
آخرکار وہی انسان کامیاب ہے
جو فطرت کی آواز سنتا ہے۔
اے اللہ!
ہمیں حق کو حق دیکھنے اور اسے قبول کرنے کی توفیق عطا فرما،
اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی ہمت دے۔
ہمیں فطرت کی آواز سننے والا،
اور وحی کی روشنی میں چلنے والا بنا۔
آمین یا رب العالمین۔
مزید سمجھنے کیلئے یہ بطورِ حوالہ جات پڑھیں .کتاب.اسلام اور سائنس. . ایس ایم شاہد پروفیسر عبداللہ ہارون ص 41 /186 /187/188. تفسيرِ مظہری. تفسیر ابن کثیر. ص 137/سورہ الذاریات آیت 56 /10/نیز منطق. فلسفہ کی کتابوں میں خاص طور پر علم کے اقسام میں (جیسے تجربی علم اور عقلی علم) وغیرہ
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com