علم روشنی ہے، ناخواندگی اندھیرا
قاری محبوب الحسن مظفرنگری
ماہ ستمبر کی آمد آمد ہے دنیا بھر میں ہر سال 8 ستمبر کو عالمی یومِ خواندگی (International Literacy Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور معاشروں کو ناخواندگی کے اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی سے منور کیا جائے۔ ناخواندگی صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی، سماجی اور اخلاقی زوال کی جڑ ہے۔ جو قومیں علم میں پیچھے رہ جاتی ہیں وہ ترقی کی دوڑ میں کبھی کامیاب نہیں ہوتیں۔
اسلام نے تعلیم کو اولین ترجیح قرار دیا۔ سب سے پہلی وحی کا آغاز لفظ "اقرأ" یعنی "پڑھ" سے ہوا (سورۃ العلق، آیت 1)۔ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کی اصل پہچان اور ترقی علم سے وابستہ ہے۔
قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا گیا:
"کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟" (سورۃ الزمر، آیت 9)۔ اس آیت کا پیغام یہ ہے کہ علم انسان کو بلندی عطا کرتا ہے، جبکہ جہالت ذلت اور اندھیروں میں رکھتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی ارشاد فرمایا:
"علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے" (ابن ماجہ)۔
یہ تعلیم کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔
علم کے بارے میں کہا گیا ہے:
روشنی علم سے ہے، جہالت ہے اندھیرا
علم کے اجالے میں سنور جاتا ہے دھیرا
کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
علم وہ دولت ہے جو چرائے نہ کوئی
علم وہ جوہر ہے جو چھپائے نہ کوئی
اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی تقریباً 77 کروڑ آبادی ناخواندہ ہے۔ ان میں نصف سے زیادہ خواتین ہیں۔ ہمارے ملک بھارت میں بھی لاکھوں بچے غربت، سہولیات کی کمی یا معاشرتی پابندیوں کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال لمحہ فکریہ ہے کیونکہ تعلیم کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتی۔
دیہی علاقوں میں اسکولوں کی کمی، اساتذہ کی قلت اور والدین کی غفلت ناخواندگی کو بڑھا رہی ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ نوجوان طبقہ ہنر اور شعور کے بغیر عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے، جس سے غربت، بے روزگاری اور جرائم بڑھتے ہیں۔
اسلام نے عورت کو تعلیم کا حق دیا ہے۔ دراصل ایک عورت کے تعلیم یافتہ ہونے سے پوری نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔ اگر ماں پڑھ لکھی ہو تو گھر کا ماحول علم و شعور سے روشن ہو جاتا ہے۔ اس لیے خواتین کی تعلیم کو عام کرنا انتہائی ضروری ہے۔
ہمیں اپنے گھروں سے یہ عہد کرنا چاہیے کہ کوئی بچہ ناخواندہ نہ رہے۔
غربت زدہ اور یتیم بچوں کے تعلیمی اخراجات میں حصہ لینا چاہیے، یہ حقیقی صدقۂ جاریہ ہے۔
مساجد اور مدارس کے ذریعے بنیادی خواندگی کی کلاسیں چلائی جا سکتی ہیں تاکہ بڑے اور چھوٹے سب فائدہ اٹھا سکیں۔
دینی اور عصری علوم کا حسین امتزاج قائم کر کے ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا چاہیے جو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی کا ضامن ہو۔
عالمی یومِ خواندگی ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تعلیم انسان کا بنیادی حق ہے۔ اگر ہم نے ناخواندگی کو ختم نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلیں غربت، جہالت اور غلامی کے اندھیروں میں بھٹکتی رہیں گی۔ ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ اپنے حصے کی شمع ضرور جلائیں۔ خواہ کسی ایک بچے کو تعلیم کے راستے سے جوڑنے ہی کا عمل کیوں نہ ہو، یہ اللہ کے ہاں ہمارے لیے عظیم نیکی شمار ہوگا۔
اندھیروں سے ہے نفرت، ہمیں روشنی عزیز
تعلیم ہی ہے ذریعہ، ترقی کی ہر راہ عزیز
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق دے کہ ہم اپنے معاشرے سے ناخواندگی کے اندھیروں کو دور کر کے علم و شعور کی روشنی عام کریں۔
آمین یا رب العالمین۔
🖊️ قاری محبوب الحسن مظفرنگری