مسلم معاشرے میں تاخیر سے شادیاں: ایک سنگین سماجی بحران اور ہماری ذمہ داریاں
(اداریہ)
تحریر: قاری محبوب الحسن مظفرنگری
اسلام نے نکاح کو انسانی زندگی کا ایک مقدس اور مبارک بندھن قرار دیا ہے۔ یہی وہ ادارہ ہے جس کے ذریعے عفت و پاکدامنی کی حفاظت، نسلِ انسانی کی بقا، خاندانی نظام کا استحکام اور ایک صالح معاشرے کی تعمیر ممکن ہوتی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیتے ہوئے فرمایا: "النکاح من سنتي"، یعنی نکاح میری سنت ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو حکم دیا:
«"اور تم میں جو بے نکاح ہوں، ان کا نکاح کر دیا کرو، اور تمہارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے جو نیک ہوں ان کا بھی۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔"
(سورۃ النور: 32)»
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ نکاح کو آسان بنائے، نہ کہ مختلف رسم و رواج اور معاشرتی بوجھ کے ذریعے اسے مشکل سے مشکل تر بنا دے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج مسلم معاشرہ جن سنگین مسائل سے دوچار ہے، ان میں نوجوان لڑکیوں کی شادیوں میں غیر معمولی تاخیر ایک انتہائی تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔ ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف اسلامی ممالک میں لاکھوں ایسی لڑکیاں موجود ہیں جن کی عمریں تیس، پینتیس بلکہ چالیس سال تک پہنچ چکی ہیں، مگر وہ نکاح کی نعمت سے محروم ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ایک خاندان یا چند افراد کا نہیں بلکہ پوری ملت کے مستقبل سے وابستہ ایک سماجی، اخلاقی اور دینی بحران ہے۔
مسئلہ کہاں ہے؟
عام طور پر اس تاخیر کا الزام معاشی حالات پر ڈال دیا جاتا ہے، لیکن اگر حقیقت کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اصل مسئلہ صرف غربت نہیں بلکہ ہماری سوچ، ہماری ترجیحات اور ہماری خود ساختہ رسومات ہیں۔
جہیز کی لعنت نے نکاح کو کاروبار بنا دیا ہے۔ اگرچہ اسلام میں جہیز نہ فرض ہے، نہ شرط اور نہ ہی اس کا مطالبہ جائز ہے، لیکن معاشرے نے اسے عزت و وقار کا معیار بنا لیا ہے۔ غریب والدین اپنی بیٹیوں کی شادی صرف اس لیے مؤخر کرتے رہتے ہیں کہ وہ لاکھوں روپے کا سامان مہیا نہیں کر سکتے۔
اسی طرح شادیوں میں فضول خرچی، بے جا نمود و نمائش، مہنگے شادی ہال، غیر ضروری تقریبات، قیمتی لباس، سونے کے زیورات اور بے شمار رسومات نے نکاح کو آسان عبادت سے نکال کر ایک مشکل معاشرتی منصوبہ بنا دیا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ ذات برادری، خاندانی تفاخر اور سماجی برتری کا احساس ہے۔ بعض اوقات دیندار، بااخلاق اور تعلیم یافتہ رشتے صرف اس لیے رد کر دیے جاتے ہیں کہ وہ کسی دوسری برادری یا معاشی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے فضیلت کا معیار صرف تقویٰ قرار دیا ہے۔
فقہِ حنفی کی رہنمائی
فقہِ حنفی کے مطابق ولی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بالغ لڑکی کے لیے مناسب، دیندار اور صاحبِ اخلاق رشتہ ملنے پر بلاوجہ تاخیر نہ کرے۔ اگر محض دنیاوی مفادات، جھوٹی انا یا رسم و رواج کی بنیاد پر نکاح میں رکاوٹ ڈالی جائے تو یہ شرعاً قابلِ مذمت عمل ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«"جب تمہارے پاس ایسا شخص رشتہ لے کر آئے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اس کا نکاح کر دو، اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوگا۔"
(جامع ترمذی)»
یہ حدیث آج کے حالات پر پوری طرح صادق آتی ہے۔ جب نکاح مشکل ہوگا تو معاشرے میں بے راہ روی، ذہنی اضطراب، غیر شرعی تعلقات اور اخلاقی انحطاط جیسے فتنے جنم لیں گے۔
تاخیر کے نقصانات
شادی میں غیر ضروری تاخیر کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔
ہزاروں لڑکیاں احساسِ محرومی، ذہنی دباؤ اور سماجی تنہائی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ والدین بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ مسلسل فکرمند رہتے ہیں۔ بہت سے نوجوان بھی مناسب رشتہ نہ ملنے کے باعث پریشان رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بعض افراد غلط راستوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں، جبکہ خاندانی نظام کمزور پڑتا جاتا ہے۔
آج یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مسلم معاشرے میں نکاح کی شرح کم اور تاخیر کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے، جو آنے والے وقت میں مزید سنگین سماجی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔
ہماری ذمہ داریاں
اس بحران سے نکلنے کے لیے صرف حکومت یا کسی ایک ادارے پر انحصار کافی نہیں، بلکہ ہر فرد، ہر خاندان اور ہر دینی و سماجی تنظیم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
والدین اپنی بیٹیوں کے نکاح میں غیر ضروری تاخیر نہ کریں اور دینداری، اخلاق اور کردار کو اولین ترجیح دیں۔
نوجوان بھی اپنی خواہشات کو حقیقت پسندانہ بنائیں اور دولت، حسن اور ظاہری معیار کے بجائے صالح شریکِ حیات کے انتخاب کو اہمیت دیں۔
علماء کرام اپنے خطبات، دروس اور بیانات میں نکاح کو آسان بنانے کی تحریک چلائیں اور جہیز و فضول رسومات کے خلاف مسلسل آواز بلند کریں۔
مساجد، مدارس، ملی تنظیمیں اور سماجی ادارے اجتماعی نکاح کی مہمات شروع کریں اور غریب بچیوں کی شادی کے لیے امدادی فنڈ قائم کریں۔
اہلِ ثروت اپنے مال کا ایک حصہ یتیم، بیوہ اور غریب خاندانوں کی بچیوں کی شادی کے لیے وقف کریں۔ یہ صدقۂ جاریہ بھی ہے اور ایک عظیم سماجی خدمت بھی۔
ایک اجتماعی عہد
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ نہ جہیز لیں گے، نہ دیں گے؛ نہ فضول رسومات اپنائیں گے، نہ دوسروں پر مسلط کریں گے؛ نہ ذات برادری کو دین پر ترجیح دیں گے اور نہ ہی نکاح کو غیر ضروری تاخیر کا شکار بنائیں گے۔
اگر مسلم معاشرہ اخلاص کے ساتھ اس سمت میں قدم بڑھائے تو یقیناً ہزاروں گھر آباد ہوں گے، والدین کی پریشانیاں ختم ہوں گی، نوجوانوں کی عفت محفوظ ہوگی اور ایک پاکیزہ، مضبوط اور خوشحال معاشرہ وجود میں آئے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت کی صحیح تعلیمات پر عمل کرنے، نکاح کو آسان بنانے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ہر قسم کے اخلاقی اور سماجی فتنوں سے محفوظ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔