الحمدللہ رب العالمین وبہ ٖنستعین امابعد
محترم بزرگو اور دوستو
اللہ ربّ العزّت کا بہت بڑا فضل و کرم ہوا کہ اللہ پاک نے ہم سب کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا۔ ایمان بہت بڑی دولت ہے، اور ایمان کے بغیر کوئی بھی عمل بارگاہِ الٰہی میں قابلِ قبول نہیں۔
۱ ایمان کا بول ہے"لا إله إلا الله"محمد الرسول اللہ
اس کلمے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے دلوں کا یقین صحیح ہو جائے۔ ایک اللہ سے ہونے کا کامل یقین ہمارے دلوں کے اندر آ جائے اور غیر اللہ کا یقین ہمارے دلوں سے بالکل نکل جائے۔ یعنی جو کچھ بھی ہوتا ہے، صرف اور صرف اللہ کے حکم سے ہوتا ہے؛ اللہ کے حکم کے بغیر کسی سے کچھ نہیں ہوتا۔
* یقین کی مثالیں:
* آگ کے اندر جلانے کی صلاحیت ہے، لیکن وہ اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو جلا نہیں سکتی۔
* چاقو کے اندر کاٹنے کی طاقت ہے، لیکن وہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو کاٹ نہیں سکتی۔
* پانی کے اندر ڈبونے کی صلاحیت ہے، لیکن وہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر کسی کو ڈبو نہیں سکتی۔
* انبیاء کرام کے واقعات:
* جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا—جو کہ بڑی سے بڑی طاقتور چیز کو جلا کر خاک کر دیتی ہے—تو چونکہ اللہ کا حکم نہیں تھا، وہی آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے سلامتی اور سکون کا ذریعہ بن گئی۔
* حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر چھری رکھی، تو اللہ کا حکم نہ ہونے کی وجہ سے چھری نے نہیں کاٹا۔
* حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ دریائے نیل میں اترے؛ اللہ کا حکم نہیں تھا اس لیے پانی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو نہیں ڈوبایا۔ اور جب اسی پانی میں فرعون اور اس کا لشکر اترا، تو اللہ کا حکم ہوا اور وہی پانی ان کے لیے ہلاکت کا ذریعہ بن گیا۔
* اللہ پاک نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ کے اندر کھلایا، پلایا اور ان کی حفاظت فرمائی۔ اسی طرح ہر انسان کو ماں کے پیٹ کے اندر پالتا ہے۔
لہٰذا، ہمارے دلوں کے اندر پکا یقین آ جانا چاہیے کہ جو کچھ بھی دنیا میں ہو رہا ہے، صرف اور صرف اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے۔
۲. کلمہ طیبہ کا دوسرا حصہ: "محمد رسول الله"
ہمیں زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ بتاتا ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر چلنے میں ہی سو فیصد کامیابی ہے، اور غیروں کے طریقوں میں سو فیصد ناکامی ہے۔ ہماری زندگی کے اندر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت آ جائے، اس کے لیے ہمیں پوری کوشش کرنی چاہیے؛ کیونکہ اللہ پاک کا ارشاد ہے:
> ”وأنتم الأعلون إن كنتم مؤمنين“
> (اور تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے مومن ہو)۔
>
محترم بھائیو اور دوستو! ایمان کوئی پیدائشی یا زبانی چیز نہیں، بلکہ یہ سیکھنے کی اور محنت سے بنانے کی چیز ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تیرہ سال تک اسی ایمان کو سیکھا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ کرام کا ایمان اتنا مضبوط ہو گیا کہ پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہل جانا تو ممکن تھا، لیکن صحابہ کرام کے ایمان کا ہل جانا ممکن نہیں تھا۔
آج بھی اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم صحابہ کرام جیسا ایمان سیکھیں۔ علمائے کرام نے اس کے حصول کے لیے ایک بہترین شکل یہ نکالی ہے کہ اپنا جان و مال لے کر چار مہینے اور چالیس دن کے لیے اللہ کے راستے میں نکلیں اور اپنے اندر ایمان کو مضبوط بنانے کی محنت کریں۔
جب تک ہم گھر میں رہیں، اپنی مسجد اور محلے میں پانچ کاموں کا اہتمام ضرور کریں:
* روزانہ کا مشورہ کرنا: کسی بھی فرض نماز کے بعد (مثلاً عشاء کے بعد) مسجد میں جو مشورہ ہوتا ہے، اس میں ضرور بیٹھیں؛ اور اس فکر کے ساتھ بیٹھیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین ہر کچے پکے مکان تک پہنچ جائے۔ اور امت کے اندر سے دین کے مٹنے کا غم ہمارے دل میں پیدا ہو، ہر جوان مسجد سے اور ہر بچہ مکتب سے جڑ جائے، اور ہماری مائیں اور بہنیں مصلے سے جڑ جائیں۔
* دو تعلیم کا اہتمام کرنا:
* پہلی مسجد کی تعلیم کرنا: مسجد کے حلقۂ تعلیم میں باقاعدگی سے بیٹھیں
* دوسری گھر کی تعلیم کرنا: گھروں کے اندر بھی تعلیم کا اہتمام کریں۔ گھروں میں جب "قال اللہ وقال الرسول" کی صدائیں بلند ہوں گی، تو خیر و برکت اترے گی اور دین سے دوری کے فتنے دور ہو سکیں گے۔ گھر کی ہی تعلیم کے ذریعے گھر والوں میں ایمان کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
*روزانہ ڈھائی گھنٹے والی محنت کرنا
: اپنے چوبیس گھنٹوں میں سے ڈھائی گھنٹے دین کی دعوت کے لیے کے لیے نکالیں۔ یہ بہت اونچا کام ہے، کیونکہ اللہ پاک نے اس امت کی تعریف ہی اسی بنیاد پر فرمائی ہے: ”كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنکر“ (تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہو، تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔)
: ہفتہ وار دو گشتوں کا اہتمام کریں—ایک اپنی مسجد کا گشت اور دوسرا پڑوسی مسجد کا گشت۔ یہ گشت بہت اونچا عمل ہے اور دین کی محنت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
* مہینے میں ستائیس دن اپنی روزمرہ کی مصروفیت میں کام کریں اور تین دن اپنا جان و مال لے کر اللہ کے راستے میں نکلنے کے لیے فارغ کریں۔
آئیے! تمام ساتھی نیت کریں کہ ان پانچ کاموں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے اور موقع ملنے پر اللہ کے راستے میں
وقت بھی لگائیں گے۔ ان شاء اللہ
دعاؤں کا طالب: محمد مسعود رحمانی (ضلع ارریہ، بہار)