*میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہو* 

(سفرنامہ )

✍🏻 *گل رضاراہی ارریاوی*
_________________________________ 

       امروہہ شاعروں کا نگر ، ولیوں کا شہر ،ادیبوں کا جگر علماء کا مرکز ،یادوں کا سفر ہے ،یہ علمی ،ادبی ،ثقافتی زمین تاریخ ہند میں جلی عنوان ہے ،اس شہر میں ایک کشش ہےجو اپنے صحن ودامن میں مقیم و مسافر کو اپنا گرویدہ بناتی ہے،سرزمین امروہہ شائقین علم و ادب کےلیے محتاج تعارف نہیں،یہاں کی گلی کوچے سراۓ ، چوراہے اور چوپال بلند وبالا قدیم تاریخی عمارت، آسمان سے لمس کرتی عید گاہ ومساجد ماضی کی تاریخ کو بڑے عشوہ طرازی سے بیاں کرتی ہے-

     امروہہ میری یادوں کا نگر ، عزیمتوں کا سفر ہے، وہاں بیتے شب و روز کتاب زیست کا ایک مستقل عنوان ہے ،وہاں کا تعلیمی سفر زبان و بیان ،قلم و قرطاس کےلیے دلیل ہے، مطالعہ و کتب بینی کا شوق وہیں کی ذرہ نوازی ہے، جب ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں داخلہ ہوا تو یہاں آگیا مگر وہاں کے خیالات کا دریچہ ہمیشہ وا رہتاہے، اس کی یادوں میں مچلتا رہتاہوں ،اس کی خوابوں میں مسکراتا رہتا ہوں ؛مگر مصروفیت اور دوری کی وجہ سے اس کو برطرف رکھ کراپنے مقصد کی تکمیل میں لگاہوں، اسی خیالوں میں کئی دنوں سے امروہہ کےلیے عازم سفر تھا ،چونکہ پرانے ادارے ،پرانے اساتذہ ، پرانے احباب، پرانی یادیں ،پرانی باتیں سب ذہنوں کے روشن دان میں جھانک رہی تھی ، اسی تپش وتڑپ کو بھڑکانے کا کام کرنے والی خبر ملی کہ ہمارے کچھ استاذ محترم علیل ہیں ،احباب کے ذریعے اطلاع مل رہی تھی ،دل کو قرار تھا نہ سکون چونکہ راقم نالائق ہی سہی پر اساتذہ کا احترام اور محبت دل میں خوب رکھتا ہے ؛گرچہ فطری شرارت کی وجہ سے عملاً اس کا اظہار نہ کرسکے ؛مگر اعتقادا الحمدللہ اس میں کوئی خفت نہیں ہے ،اساتذہ کی زیارت وملاقات کے اشتیاق میں تعلیمی سرگرمی حجر ثقیل بنی  رہی ، اسی شش وپنج میں مدرسہ کی جانب سے انعامی پروگرام کی اطلاع ملی ،یاران باصفا نے مشورہ کیا کہ ہم اسی بہانے سے چلتے ہیں عیادت وزیارت بھی ہوجاۓ گی اور انعام بھی وصول ہوجاۓ گا ،ورنہ تنہا سفر فی الحال مناسب نہیں ،کئی روز مشورہ کے بعد احباب نے یہ طے کیا بدھ کے روز شام کے وقت نکلیں گے اور پھر جمعہ کے روز شام کے وقت واپسی کرلیں گے ،احباب نے اس فیصلہ پر مہر ثبت کردیا-
اسی نظام کے تحت ہم احباب نے رخت سفر باندھا تھا ،عصر کے وقت چھٹی ہوتے ہی ہم لوگ پابہ رکاب ہوۓ، گاڑی وقت پر تھی ، آٹو کھڑی تھی فوارا سوار ہوۓ اور اسٹیشن پہونچے، نشست پر عارضی مالکانہ حیثیت حاصل تھی ،احباب فورا اپنی نشست گاہ پر بیٹھ گیے، راقم اوپر والی نشست پر دراز ہوگیا تاکہ کسی طرح کا کوئی خلل واقع نہ ہو،کچھ دیر مطالعہ کچھ دیر دل لگی کے ساتھ سفر طے کرتا رہا ،اسی بدلتے حرکت کے ساتھ ہم شب دیجور کے نصف پہر میں امروہہ کے آنچل میں سماگیے،ٹرین سے اترے تو دکھا کہ احباب کی ایک جم غفیر ہمارے ساتھ آئی ہوئی ہے ،سبھی کے چہرے پہ مسکان چھائی ہوئی تھی ،مسکراتے لہلہاتے مہر و ماہ خوشیوں کے قصے بیان کررہے تھے ،ہونٹ تبسم سے معمور تھی ایسی خوشی کہ جس طرح کوئی بچھڑے یار سے ملتا ہے اور واقعہ بھی یہی ہے کہ بہت سے احباب جو سال گزشتہ بچھڑگیے تھے ، درمیان میں ان سے کوئی ملاقات نہ تھی ،اسی بہانے سبھی جگر پارے سے ملاقات ہوگئی ،یہ لمحہ دیدنی تھی -
خاموش رات ،لائٹوں سے چمکتا دمکتا شہر ،قمقموں سے لہلہاتی سڑکیں ہمارے خوشی میں ترقی دے رہی تھی 
ایک ہفتہ قبل رفیق درس مولوی صادق صاحب نے آنے کے سلسلے میں معلوم کیا اور کہا کہ امروہہ تو آئیں میزبانی کا موقع ہمیں دیجیے گا اس وقت کوئی خاص ارادہ نہ تھا اسباب و وسائل کی فکر جاری تھی، جس کی وجہ سے حتمی بات نہ کہہ کر احتمال کے ساتھ نفی کردی ؛مگر امروہہ آمد سے قبل راقم نے اطلاع دے دی کہ راقم امروہہ آرہا ہے کیا آپ کے پاس آسکتاہے؟ تو انہوں پرتپاک وترحیب کے ساتھ آنے کا التماس کیا، جب متعینہ مقام پر سواری سے اترا تو انہوں نےقیام گاہ کی رہبری کےلیے کچھ بچوں کو بھیجا ماشاءاللہ بچے بہت با اخلاق اور مہذب و تربیت یافتہ معلوم ہوۓ ،علیک وسلیک کے بعد سامان اپنے ہاتھ میں لے لیاحالانکہ میں منع کیا مگر بہت مصر ہوۓ تو سامان دینا پڑا ،بات چیت کرتے کرتے قیام گاہ پہونچے ،میزبان محترم نے محبت کے آداب بجالاۓ، خوشی سے ملے ،سلام دعا کیا پھر ہم نے عشاء کی نماز پڑھی ،پھر بہترین ضیافت کے بعد کورٹ چوراہے کا پرلطف ،دلچس اور پرکشش چاۓ پلائی جس سے پرانی یادیں تازہ ہوگئی ، چونکہ اکثر جمعرات کو وہاں جانا ہوتا تھا گھومتے پھرتے آرام گاہ پہونچا ،پھر بستر استراحت پر دراز ہوگیا -

 صبح اٹھ کر فجرکی نمازپڑھی ،احباب درس لینے مدرسہ چلے گیے اور میں مزید آرام کےلیے لیٹ گیا، آٹھ بجے مولوی سہیل کو فون کیا وہ بیدار تھے بات ہوئی اور ان کے قیام گاہ پر گیا وہاں کئی احباب قیام پزیر تھے ،سلام دعا ہوئی حال احوال دریافت کیا پھر ہم احباب عید گاہ کی طرف گھومنے کےلیے نکل گیے، وہاں کی عیدگاہ کافی بلند وبالا اور وسیع و عریض ہے ،اس کی ایک تاریخی حیثیت ہے چنانچہ وہاں ہم احباب نے مل کر کافی بات چیت ہسنی مذاق کی اور پرانی چیزوں کو یاد کیا، پھر کچھ دیر بعد دوبارہ قیام گاہ پر آکر ڈھیر ہوگیا ،یہاں تک کہ ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا نماز پڑھنے کے بعد ظہرانہ سے لطف اندوز ہوا تھوڑی دیرقیلولہ کےلیےمیزبان محترم لیٹ گئے تو میں بھی ان کی موافقت میں لیٹ گیا، کچھ دیربعد تیز بارش ہونے لگی ، تو نکلنا مشکل ہوگیا بارش جیسے ہی ہلکی ہوئی تو عصر کی نماز کے بعد میں مدرسہ کے لیے نکل پڑا تو نشیبی زمین کی وجہ سے راستہ پانی سے بھرا ہوا تھا جیسے تیسے کرکے رفیق درس مولوی فیصل کے پاس پہونچا، سلام دعا ہوئی اور مغرب کی نماز انہی کی امامت میں پڑھی، پھر مغرب بعد گہوارۂ علم وفن ، شاگرد نانوتوی کے چمن ،فریدی کے گلشن ،اعجاز وطاہر کے مخزن ، قاسم وطارق کے انجمن اور ذاکر کے وسیع عریض صحن میں خوبصورت و دلکش بلند بالا مسجد کو محبت بھری نگاہ سے دیکھتے ہوۓ حاضری دی،یکے بعد دیگرے احباب ملتے رہے اور سلام دعا ہوتی رہی، پھر میں کمرہ نمبر 100میں گیاجو میرا قدیم مسکن تھا، پرانے احباب تھے، جن سے دیرینہ رفاقت تھی سبھی نےخوشی کے پھول برساۓ ،پھر رفیق درس مولوی توصیف کے کمرہ میں گیا اور مزاحا کہا کہ کیا میں اندر آسکتا ہوں ؟ چونکہ کچھ احباب میرے تئیں چہرے پہ ترشی لیے ہوئے تھے کہ میں نے انہیں اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی ، وہ اس بات سے ناراض تھے اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ میں نے انہیں پرایا کردیا حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں ہے،میرے تمام ساتھی میرے بھائی کی طرح ہیں اور محبت ہی تھی جس کی وجہ سے میں نے انہیں اپنے آنے کی اطلاع نہیں دی یہ ایک رازہاۓ سربست ہے جس کا اخفاۓ حال ضروری ہے-

گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنا محال ہے

ایک دن کہہ لیجیے جو کچھ ہے دل میں آپ کے
ایک دن سن لیجیے جو کچھ ہمارے دل میں ہے

بہرحال یہ ناراضگی بھی محبت کا قرینہ ہے جس کو میں شکریے کے ساتھ اپنی یادوں کے لفافے میں محفوظ رکھوں گا-

   پروگرام شروع ہوچکا تھا احباب جوق در جوق پروگرام کی طرف رواں دواں تھے اور مارے خوشی کے پھولے نہ سمارہے تھے؛ کیوں کہ انعام ملنا تھا، چاہے وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو انعام ہے یہی کافی ہے وہ بہت اہمیت رکھتا ہے ،یہ تو پھر بھی کتابیں تھی جو اساتذہ کرام کے دست مبارک سے ملنے والی تھی بھلا اس کو کیسے چھوڑا جا سکتا ہے؟ تو راقم بھی جدید وسیع و عریض مسجد کی طرف انعامی اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوا، پہونچا تو دیکھا کہ استاذ محترم شیخ الحدیث حضرت مولانا و مفتی محمد شاہد صاحب دامت برکاتہم العالیہ وعظ ونصیحت سے پر جامع خطاب فرمارہے ہیں اور ہم طلبہ کو علم دین کی اہمیت اور اس کے سیکھنے کے آداب بتارہے ہیں ، علم دین میں محنت کےفوائد بیان کررہے تھے، اس راہ میں رکاوٹ ڈالنے والی چیزوں سے بچنے کی تلقین کررہے تھے بطورِ خاص معاصی سے اجتناب،-
موبائل سے دوری کی ترغیب اور اس طرح کے قیمتی اور کار آمد باتیں اسلاف کے زندگی کی روشنی میں ارشاد فرماکر ہماری رہنمائی فرمارہے تھے -
گویا حضرت کہہ رہے تھے

تو شاہیں ہے پرواز ہے کام تیرا 
تیرے سامنے آسماں اور بھی ہے 

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے 
خدا بندے سے پوچھے کہ بتا تیری رضا کیا ہے ؟

استاذ محترم کی بصیرت افروز، قیمتی ارشاد سے ہم طلبہ مستفید ہوۓ 
فجراھم اللہ خیرا احسن الجزاء -

   حضرت الاستاذ کے خطاب کے بعد استاذ محترم حضرت مولانا و مفتی سالم صاحب نے انعامات کی تفصیلات بتلائیں ، پھر تقسیم انعامات کی کارروائی مکمل کی 
یہ منظر قابل دید تھی کہ سب اپنے انعامات اپنے استاذ محترم کےدست مبارک سے وصول کررہے تھے اور خوشیوں سے جھوم رہے تھے-

     پروگرام کے بعد مولوی عادل کچھ خورد و نوش کےلیے مصر ہوۓ ،میرے بہت منع کے باوجود نہ مانے بلکہ چیں بہ جبیں ہونے لگے چونکہ پرانے خفگی کے آثار پہلے سے نمایاں تھے اس لیے میں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ اس کےحکم پر سرتسلیم خم کیا جاۓ تو دل بستگی کی خاطر ایک پیالہ دودھ پر اتفاق کیا ،پھر ہم اپنے کمرے میں آۓ ،مابقیہ ساتھیوں سے ملے ،ایک ساتھی کے اصرار پر چند نوالہ عشائیہ کھایا ،پھر حضرت الاستاذ مولانا ومفتی فرقان صاحب کے فون پر فوراً ہی کتابیں لےکر حضرت الاستاذ کے گھر کی طرف روانہ ہوا ، علیک وسلیک حال و احوال کی دریافتگی کے بعد کچھ دیر کتاب ولائبریری اور مطالعہ پر بات چیت ہوئی حتی ان کہ رات کا نصف حصہ گزرگیا ،ایک ساتھی مولوی امیر حمزہ نے شام کی دعوت کی تھی ،پر وقت زیادہ ہوگیا تھا تو دعوت میں شریک نہ ہوسکا اور یونہی مدرسہ آنا پڑا ،جب آیا تومدرسے کا گیٹ بند ہوگیاتھا ، وہاں کا دربان کھڑوس مزاج ہے،کچھ ضابطے مدرسہ کے ہیں ،کچھ تملق بازی بھی ہے ، مہتمم صاحب کے مزاج میں بھی کچھ سختی ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوۓ اور باہر کھڑے کچھ لوگ مجھے دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مہتمم صاحب باہر کھڑے ہیں ،کچھ طلبہ کا اخراج بھی اسی بنیاد پر ہوا ہے، یہ عجیب بات ہے مانو اخراج نہیں کوئی مذاق ہو،میں تو اپنے ساتھی کے حوالہ سے ڈر گیا کہ کہیں میری وجہ سے ان کا اخراج نہ ہوجاۓ ،میں وہاں سے نکل گیا ،(ضابطے اچھی چیز ہے اور یہ اعتدال کی راہ پر گامزن کرتاہے مگر یہ حد سے بڑھ جاۓ تو پھر قید بن جاتی ہے جومزاج میں ترشی ، دل میں سختی اور بدگمانی پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے)خیر ایک ساتھی پہ نظر پڑی تو گیٹ کھولنے کا التماس کیا اللہ تعالیٰ اس کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ بیچارے نے دروازہ کھلوایا جب اندر آیا تو کھڑوس دربارن نے ویڈیو گرافی کرنے کی کوشش کی ،خیر جو بھی ہوا اور ہورہاتھا وہ درست نہیں تھا مجھے برا لگا پر کیا کرسکتے ہیں "جس کی لاٹھی اس کی بھینس "کسی طرح اندر گیا - 
پھر مولوی توصیف نے مچھلی تیار کیا تھا ایک معتد بہ ساتھی نے ان  کے یہاں کھانا کھایا گویا اس نے پرانے تمام ساتھیوں کا انتظام کیا ہو، کھانا لذیذ تھا تو میں نے شکم سیر ہوکر کھانا کھایا-
جزاکم اللّٰہ خیراً واحسن الجزاء آمین 

  کچھ دیر بات چیت اور ہنسنی مذاق کرنے کے بعد ہم بستر استراحت پر لیٹے اور نیند کا سرمہ آنکھوں میں لگایا ،نماز فجر میں ایک طالب علم نے جگایا، وضو کرکے مولوی ہشام کی دل آویز امامت میں فجر کی نماز ادا کی-

   فجر بعد دوبارہ بقیہ نیند پوری کی، نو بجے استاذ محترم کا فون آیا تو تیار ہوکر استاذ کے گھر کی طرف روانہ ہوا ، پر تکلف ناشتہ وہیں ہوا ، پھر مولوی امیر حمزہ کے یہاں بھی ناشتہ کا انتظام تھا، وہاں بھی ناشتہ ہوا،خیر اسی چکر میں گیارہ بج چکا تھا ،جلدی سے کمرہ میں آیا تو مولوی عبد القادر نے بھی ناشتہ کی دعوت دی تو ان کی دعوت کو قبول کرتے ہوۓ کچھ نوش کرلیا-

   جمعہ کا وقت ہوا جارہا تھا تو اول وقت میں جمعہ کی نماز ادا کرلی ،پھر کچھ دیر تفریح کے بعد کھانے پینے کی تیاری میں مصروف ہوگیا ،مولوی عادل نے کھانے کا اصرار کیا تو ان کے ساتھ کھانا کھایا، پھر کچھ دیر بعد استاذ محترم حضرت مولانا ومفتی زاہد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی عیادت کے لیے گیا ،بیماری کی کیفیت معلوم کی ،زخم کی حالت دریافت کی ،دیگر بیماریاں کیسی ہے؟ یہ معلوم کیا تو استاذ محترم نے اطمینان کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اب بہتری کی طرف مائل ہے، پہلے سے بہت بہتر ہے ،ہم شاگردوں کو تسلی ہوئی کہ اب استاذ محترم ان شاءاللہ بہت جلد صحت یاب ہو جائیں گے اور پھر علمی موتی بکھیریں گے،کچھ دیر گفت وشنید ہوئی، تعلیمی سرگرمی کے حوالے سے بات چیت ہوئی، ان کے اساتذہ کا تذکرہ ہوا تو بہت خوش ہوۓ اور پھر اخیر میں ایک جامع ومفید نصیحت فرمائی جس پر عمل ہمارےلیے باعث و خیر و برکت تھی ، دعاؤں سے نوازا اور سلام و دعا کے ساتھ وہاں سے رخصت ہوۓ-
   پھر اس کےبعد استاذ محترم مفتی شہزاد صاحب سے ملاقات کی ،انہوں نے خوشی کا اظہار کیا ، محبتوں سے نوازا ،اوقات کی پابندی،امتحان کی تیاری کے طریقے اور اچھے نمبرات حاصل کرنے کے لیے جد وجہد کی ترغیب دی ،کچھ اپنی سنائی اور کچھ استاذ جی کی سنی اور سلام و دعا کے ساتھ مجلس برخاست ہوئی -

   عصر بعد استاذ محترم حضرت مولانا و مفتی رسالت حسین صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے ملاقات کےلیے رابطہ کیا کچھ دیر بعد ان کا جواب آیا کہ میں گھر پہ ہوں آجائیں ، ہم شاگرد گیے -علیک سلیک ہوئی ،حال و احوال دریافت کیا ، استاذ جی مسلسل کئی روز سے بیمار چل رہے ہیں ،
پوچھنے پر انہوں نے بیماری کی کیفیت بتائی ،سن کر بہت دکھ ہوا اللہ تعالیٰ استاذ جی کو جلد شفایاب فرمائے آمین 
پھر موضوع بدلا تو تعلیمی سرگرمی اور دگر موضوعات پر بات چیت ہوئی تفریحی باتیں بھی ہوئی ،استاذ محترم نے پُرتکلف ناشتہ کا انتظام کیا حالانکہ ہم احباب ایک دو بار منع کیا مگر حضرت نے ضیافت فرماہی دی 
خیر مغرب کا وقت ہوا جارہا تھا ہمیں رخت سفر بھی باندھناتھا تو ہم نے اجازت چاہی تو استاذ محترم نےدعا دیتے ہوۓ ہم سب کو رخصت کیا-

 اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے اور پریشانیوں کو دور فرمائے آمین -
کئی استاذوں سے ملاقات نہ ہو سکی اس کا بہت ملال ہوا -

نہ جی بھر کے دیکھا نہ کچھ بات کی 
بڑی   آرزو    تھی   ملاقات  کی 

    پھر مغرب بعد آنے کی تیاری شروع ہوئی ،ہم نے صادق بھائی کی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی اور سامان لے کر مدرسہ آیا ،سامان مرتب کرکے بیگ میں ڈالا، کتابیں ایک تھیلے میں رکھا ،احباب سے ملے ،اکثر ساتھی اسباق کےلیے درسگاہ چلے گیے تھے ،جو ساتھی کمرہ میں تھے،مل کر ہم مدرسہ کو الوداع کہتے ہوۓ نم آنکھوں کے ساتھ چلے گیے-

اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں

   اللہ تعالیٰ تمام ساتھیوں بہترین بدلہ عنایت فرمائے آمین -

میں لوگوں سے ملاقاتوں کے لمحے یاد رکھتا ہوں 
میں باتیں بھول بھی جاؤں تو لہجے یاد رکھتا ہوں 

    مولوی سہیل امیر سفر طے پاۓ اور سرپرستی مولوی عیان کی تھی ان دونوں کی رہنمائی میں ہم دیوبند کی طرف روانہ ہوۓ تھے ،گاڑی تاخیر کررہی تھی ،بیس منٹ کے تاخیر سے گاڑ آئی ہم سوار ہوۓ ،میرٹھ پہونچے ،وہاں سے گاڑی تبدیل کی اور رات کے آدھی پہر میں ہم بعافیت دیوبند کی آغوش میں پہونچ کر مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں راحت کی سانس لی 

    اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کو صحت وعافیت کے ساتھ عمر میں برکت عطا فرماۓ ،احباب و متعلقین کی خدمت کا بہترین جزا عطاء فرمائے آمین ثم آمین