آخر قصوروار کون؟ نوجوان یا ہمارا معاشرہ؟
آج ہر گلی، ہر محفل، ہر مسجد اور ہر گھر میں ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے: "آج کے نوجوان بگڑ گئے ہیں۔" کوئی کہتا ہے بے حیائی عام ہو گئی، کوئی کہتا ہے ناجائز تعلقات بڑھ گئے، کوئی سوشل میڈیا کو الزام دیتا ہے، کوئی موبائل فون کو، اور کوئی مغربی تہذیب کو۔
لیکن کیا ہم نے کبھی دیانت داری کے ساتھ اپنے آپ سے یہ سوال کیا کہ آخر ان سب خرابیوں کی جڑ کیا ہے؟
کیا صرف نوجوان قصوروار ہیں؟
یا پھر اس بگاڑ میں ہمارا معاشرہ، ہماری سوچ، ہماری رسمیں اور ہمارے اپنے فیصلے بھی برابر کے شریک ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ بن چکے ہیں جہاں گناہ سے نفرت کم اور گناہ گار پر تنقید زیادہ کی جاتی ہے۔ ہم بیماری کا علاج کرنے کے بجائے مریض کو ہی مجرم بنا دیتے ہیں۔
قرآن مجید نے نکاح کو آسان بنایا، لیکن ہم نے اسے مشکل بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنْكُمْ...﴾
"تم میں جو غیر شادی شدہ ہیں، ان کا نکاح کر دو۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں غنی کر دے گا۔" (سورۂ نور: 32)
ذرا غور کیجیے! اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے: "نکاح کر دو، رزق میں برکت میں دوں گا۔" لیکن ہمارا معاشرہ کہتا ہے:
"پہلے بینک بیلنس دکھاؤ۔"
"پہلے اپنا گھر بناؤ۔"
"پہلے مہنگی گاڑی خریدو۔"
"پہلے لاکھوں روپے جمع کرو۔"
"پھر ہم اپنی بیٹی دیں گے۔"
یہ بتائیے!
ہم اللہ کی بات مان رہے ہیں یا اپنی خواہشات کی؟
ہم قرآن پر ایمان رکھتے ہیں یا معاشرے کے بنائے ہوئے قانون پر؟
پھر اگر اللہ کی برکت اٹھ جائے تو شکوہ کس سے؟
قرآن کہتا ہے: ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ﴾ "زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔"
دیکھیے! اللہ نے صرف زنا سے نہیں روکا بلکہ اس تک لے جانے والے ہر راستے سے بچنے کا حکم دیا۔
لیکن ہمارا معاشرہ کیا کر رہا ہے؟
اگر لڑکا اور لڑکی سالہا سال ناجائز تعلق میں رہیں، ایک دوسرے کے ساتھ گھومیں، گھنٹوں فون پر بات کریں، سوشل میڈیا پر محبت کے قصے لکھیں، تو اکثر لوگ خاموش رہتے ہیں۔
مگر جب وہی دونوں یہ کہیں کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے نکاح کرنا چاہتے ہیں، تو اچانک پورا معاشرہ جاگ اٹھتا ہے۔
کہیں ذات آڑے آ جاتی ہے۔
کہیں برادری۔
کہیں دولت۔
کہیں جہیز۔
کہیں جھوٹی عزت۔
کہیں خاندان کی انا۔
کہیں فضول رسمیں۔
آخر یہ کیسا معاشرہ ہے؟
حرام تعلق برداشت ہے، لیکن حلال نکاح برداشت نہیں! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔"
لیکن ہم نے کیا کیا؟
ہم نے نکاح کو عبادت سے زیادہ کاروبار بنا دیا۔
بیٹی کی شادی عزت کا نہیں بلکہ نمائش کا میدان بن گئی۔
جہیز نہ ہو تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔
مہنگا ہال نہ ہو تو لوگ طعنے دیتے ہیں۔
کھانے میں کمی ہو جائے تو برسوں چرچا ہوتا ہے۔
ایک غریب باپ اپنی بیٹی کی شادی کے لیے قرض لیتا ہے، اپنی زمین بیچ دیتا ہے، اپنی عمر بھر کی جمع پونجی ختم کر دیتا ہے، صرف اس لیے کہ معاشرہ اسے حقیر نہ سمجھے۔
کیا یہی اسلام ہے؟
کیا رسول اللہ ﷺ نے یہی تعلیم دی تھی؟
ہرگز نہیں!
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اسلام کو نہیں بدلا، لیکن اسلام پر عمل کرنے کا طریقہ ضرور بدل دیا ہے۔
ہم قرآن کی آیات پڑھتے ہیں، مگر فیصلے رسم و رواج سے کرتے ہیں۔
ہم احادیث سنتے ہیں، مگر عمل لوگوں کی مرضی پر کرتے ہیں۔
ہم کہتے ہیں ہمیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت ہے، لیکن جب ان کے حکم اور معاشرے کی روایت میں ٹکراؤ ہوتا ہے تو ہم اکثر روایت کو ترجیح دیتے ہیں۔
پھر سوال یہ ہے کہ...
ہم عزت چاہتے ہیں، مگر اللہ کے حکم کو چھوڑ کر؟
ہم برکت چاہتے ہیں، مگر سنت کو نظر انداز کر کے؟
ہم چاہتے ہیں ہماری اولاد نیک بنے، مگر ان کے لیے حلال راستہ بند کر دیتے ہیں؟
ہم چاہتے ہیں بے حیائی ختم ہو، مگر نکاح کو آسان کرنے کے لیے تیار نہیں؟
یہ کیسے ممکن ہے؟
ہم خود آگ لگا کر پھر دھواں ختم ہونے کی دعا کر رہے ہیں۔
ہم خود حلال کے دروازے بند کر رہے ہیں اور پھر حیران ہیں کہ حرام کے راستے کیوں آباد ہو گئے۔
یاد رکھیے!
جس معاشرے میں نکاح مشکل اور گناہ آسان ہو جائے، وہاں صرف افراد نہیں بگڑتے بلکہ پوری نسل برباد ہوتی ہے۔ وہاں صرف خاندان نہیں ٹوٹتے بلکہ تہذیبیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ وہاں صرف اخلاق نہیں گرتے بلکہ اللہ کی رحمتیں بھی اٹھنے لگتی ہیں۔
اس لیے اگر واقعی ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے نوجوان پاکیزہ زندگی گزاریں، ہمارے گھر سکون کا گہوارہ بنیں، اور ہمارا معاشرہ بے حیائی سے محفوظ ہو، تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا۔
نوجوانوں کو نہیں، پہلے اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔
رسموں کو نہیں، قرآن کو معیار بنانا ہوگا۔
دکھاوے کو نہیں، سنت کو زندہ کرنا ہوگا۔
ورنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ اس امت کو دشمنوں نے اتنا نقصان نہیں پہنچایا، جتنا اس کے اپنے معاشرے نے قرآن و سنت کو چھوڑ کر اپنی رسموں کو دین بنا کر پہنچایا۔
بقولِ ڈاکٹر محمد اقبال:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر
---------------
تحریر: محمد فداء المصطفیٰ قادری
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی کیرلا
جی میل: fidaulmusthafa938@gmail.com