اِس وقت وطن عزیز کے حالات جس رخ پر جا رہے ہیں؛ بل کہ جا چکے ہیں اور روزانہ جو کچھ یہاں ہورہا ہے ان کو دیکھ کر ذہنی طور سے بہت الجھن ہوتی ہے، اور ہر درد مند دل رکھنے والا اس الجھن کو محسوس کرتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر مساجد کا انہدام، مدارس پر تالا بندی، شکوک وشبہات اور نفرت وتعصب کی بنیاد پرمسلمانوں کی لنچنگ، بہانے بہانے سے مکانات پر بلڈوزر کاروائی اور تعلیم و دیگر شعبہائے زندگی میں امتیازی سلوک۔ اس پر مستزاد یہ کہ دین اسلام سے برگشتہ کرنے؛ بالخصوص بچیوں کو اِرتداد تک لے جانے کی منظم سازش، جس کے نتیجہ میں آئے دن ارتداد کی خبریں بھی کانوں سے ٹکراتی اور نظروں سے گزرتی رہتی ہیں۔
ایسے سخت اور مشکل حالات کے باوجود عام مسلمانوں کا معاملہ دوسرے رخ پر ہے، حالات کی سنگینی کا یا تو اندازہ نہیں ہے، یا اندازہ ہے لیکن اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں ہے۔
اپنے یہاں عام مسلمانوں بالخصوص نئی نسل کے حالات کا تجزیہ کرنے والے جانتے ہیں کہ ہمارے اندر حقیقی اور بنیادی ترجیحات نہیں ہیں، جو چیزیں غیر اہم اور نظر انداز کرنے کی ہیں اسی میں مسلم قوم اور نئی نسل کا بڑا طبقہ مشغول ہے، نسل نو کے لیے کھیل اب بطور کھیل نہیں؛ بل کہ وقت گزاری اور مادی منافع کے حصول کا ذریعہ ہے، ڈھابے اور ریسٹورینٹ محض کھانے پینے کے وقتی مراکز نہیں؛ بل کہ فضول خرچی، وقت کی بربادی اور دل لگی کی جگہیں بن چکے ہیں، موبائل اور انٹر نیٹ اہم ضرورت کے لیے نہیں؛ بل کہ زندگی کے لیے جزو لاینفک بن چکے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان میں حد سے زیادہ مشغول رہنا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔
اخلاق انسانی اور اقدار عالیہ اس سطح تک نیچے جا چکے ہیں کہ نئی نسل کے لیے دوسروں کی بہن بیٹیوں پر نظریں جمانا اور ان کو غلط مقصد سے دیکھنا عیب ہی نہیں رہا، بل کہ اب یہ فن بن چکا ہے۔ اسی طرح گھر میں رہنے والی خواتین اور بچیوں میں بھی بہت سوں کے حالات الگ نہیں ہیں، ان کی بھی گھریلو مصروفیات کے ساتھ اپنے محبوب مشاغل ہیں، جن میں موبائل میں لگے رہنا، وقت کا یوں ہی ضائع کرنا، غیروں سے چیٹنگ اور دوستی کرنا شامل ہے۔ آج صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بہت سی نابلد اور انجام سے بے خبر لڑکیاں مادی منافع یا لذتوں کے حصول کے لیے اپنوں کو غیروں کے حوالے کر رہی ہیں، جس کے نتیجہ میں دنیا وآخرت دونوں برباد ہوتی ہے۔
آج نئی نسل کے بڑے طبقے میں روپیہ پیسہ خرچ کرنے کا کوئی حساب اور اندازہ نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہر خواہش کی تکمیل زندگی کا مقصد بن چکا ہے، دوستی یاری کے نام پر غلط امور اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں شریک ہونا اور والدین واہل خانہ سے غلط بیانی کرنا عام سی بات ہو چکی ہے، شراب اور نشہ کی لت بہت سے جوانوں میں سرایت ہے، بڑی عمر والوں کو وقت گزاری کرنے اور ہوٹلوں میں ایران توران کے علاوہ کچھ نہیں آتا ہے۔ مجموعی طور سے ہر ایک کو دین ودنیا کے تئیں جو مثبت فکر ہونی چاہیے وہ ناپید یا کم پید ہے۔
جب کہ ان سخت اور مایوس کن حالات میں عزم واستقلال کے ساتھ منصوبہ بند طریقے سے خدا ورسول کی طرف پلٹنے اور ان کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت ہے، اسی کے ساتھ خاکہ بندی کرکے تعلیم پر توجہ دینا، معاشیات کو مفید امور کے لیے مضبوط کرنا، سسٹم میں خود کو شامل کرنا اور حالات کے مطابق مسلم معاشرے کو ڈھالنا اور ان کو لے کر چلنا وقت کا تقاضا ہے۔ اس کی شروعات ہر فکر مند شخص سے ہوگی، خواہ وہ کسی میدان کا ہو، یہاں سوشل میڈیا پر محض رونے، واویلا کرنے اور ماتم کرنے سے مطلوبہ نتائج کا حصول نا ممکن ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی محدود ذات تک ان کاموں میں لگے جو اس کو بہتر اور مفید معلوم ہوں، تجربہ کے بعد دوسروں سے بھی اس کو بیان کرے تاکہ ان کے لیے عمل کرنا اور اس کے مطابق اپنے ارد گرد والوں کو لے کر چلنا آسان ہو۔
محمد سالم سَرَیَّانوی