Translation unavailable. Showing original.
علم و قلم کا آفتاب غروب ہوگیا
22 مئی، 2026
تحریر: محمد شاہد رحمانی
بروز جمعہ، ۲۲ مئی ۲۰۲۶ء
وقتِ طلوع دیکھا، وقتِ غروب دیکھا
اب فکرِ آخرت ہے، دنیا کو خوب دیکھا
ہندوستان میں دو سو برس سے علماءِ ربانیین اور صاحبانِ ارشاد و تلقین کا جو ایک طویل سلسلہ چلا آرہا ہے، انہی نفوسِ قدسیہ کے آخری دور کے ایک فرد حضرت مولانا زبیر صاحب اعظمی بھی تھے۔ آہ! کہ وہ بھی امت کے ہزاروں افراد کو سوگوار چھوڑ کر مالکِ حقیقی کی آغوشِ رحمت میں پہنچ گئے، اور پون صدی تک روشنی دکھانے کے بعد ایک شمعِ فروزاں خاموش ہو گئی۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ
اب قلم میں کہاں یہ طاقت ہے کہ ان کے ابدی فراق سے ایک دو نہیں، بلکہ بے شمار افراد کے دل میں جو اضطرابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے، اس کی ٹھیک ٹھیک بلکہ عشرِ عشیرہ بھی عکاسی کرسکے۔ حضرت مرحوم علم و فضل اور کمال کے لحاظ سے کیا کچھ تھے، اس کا صحیح علم و ادراک تو اہلِ دل اور صاحبانِ رشد و ہدایت ہی کر سکتے ہیں۔ اہلِ ہند کے لیے بھی اللہ کی ایک نعمتِ عظمیٰ، ایک انمول سوغات، ایک لاثانی عطیہ، ایک تابناک ہیرا، ایک بیش قیمت تحفہ اور فضل و کمال کا ایک مجسمہ تھے۔
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے، مولانا زبیر اعظمی کے اوصاف و کمالات پر اربابِ فضل و کمال ہی روشنی ڈال سکتے ہیں۔ مجھ جیسا کم علم کچھ تبصرہ کرنا بھی چاہے تو سوائے اس کے اور کیا کہہ سکتا ہے کہ: وہ ایک ایسی سطحِ آب تھے، جس پر بڑے بڑے جہازوں، بھاری بھرکم سفینوں، بادبانی کشتیوں اور شہتیروں کو ہی نہیں، بے حقیقت اور بے وقعت تنکوں کو بھی تیرنے کے لیے جگہ مل جاتی تھی، اور انہیں بھی سرفرازی اور عزت کا احساس ہونے لگتا تھا۔
مولانا اعظمی صاحب کی پیدائش موناتھ بھنجن ضلع کے مشہور و معروف قصبہ پورا معروف میں ۱۹۳۱ء میں ہوئی۔ پورا معروف اہلِ علم کے درمیان پورے طور پر معروف و مشہور ہے۔
مولانا محمد زبیر صاحب اعظمی ۱۹۵۰ء میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے شرفِ تلمذ حاصل کر کے دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوئے۔ بعد ازاں مغربی بنگال، کلکتہ میں پندرہ سال رہے۔ یہیں رہتے ہوئے آپ نے نو سال میں میٹرک سے لے کر ایم اے علی گڑھ سے پاس کیا۔ بعد ازاں شبلی کالج اعظم گڑھ سے بی ایڈ کیا۔
ایم اے، بی ایڈ ہونے کے بعد آپ نے قاضی اطہر صاحب مبارک پوری رحمۃ اللہ علیہ کی ایماء پر منماڑ کی ایک ہائی اسکول میں تدریس کا آغاز کیا۔ آٹھ سالہ منماڑ کی تدریس کے بعد آپ ایولہ منتقل ہوگئے۔ ایولہ میں چودہ سال ہائی اسکول کے اندر تدریسی خدمات انجام دیتے ہوئے آپ سبکدوش ہوئے۔ ہائی اسکول کی تدریس کا زمانہ سن ۱۹۶۵ء تا سن ۱۹۸۹ء ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے جامعہ اسلامیہ اشاعت العلوم اکل کوا اور معہد اعجاز العلوم کرن ضلع احمد نگر میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔
مولانا زبیر اعظمی صاحب "ما احسن الدین والدنیا اذا اجتمعا" (دینی و عصری تعلیم) کے قِران السعدین، یعنی بہترین سنگم تھے۔ دارالعلوم دیوبند کے زمانۂ طالب علمی ہی میں آپ نے زبان و ادب کی بیشتر کتابوں کا مطالعہ کر کے اپنے دل و دماغ کو مجلّٰی و مصفّٰی بنا لیا تھا۔ اس کا فائدہ بعد کے دور میں نظم و نثر کے ذریعہ خدمتِ دینِ متین نیز خدمتِ زبان و ادبِ اردو کی صورت میں ظاہر ہوا۔ نثر و نظم پر مولانا مرحوم کو یکساں قدرت حاصل تھی، جس پر آپ کی نثری و منظوم تخلیقات شاہد ہیں۔
اکل کوا کے دورانِ قیام آپ نے جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا کی تاریخ بہ نام "ذرے سے آفتاب" تحریر فرمائی۔ علاوہ ازیں نعتیہ نظموں کا مجموعہ "سلام اس پر"، نعتیہ رباعیوں کا مجموعہ "ذکرِ شاہِ انبیاء"، آزادیِ وطن و حبِّ وطن پر لکھی گئی نظموں کا مجموعہ "اے وطن تیرے لیے" اور "سوانحِ یوسفی" (منظوم) بھی چھپ کر عوام و خواص سے خراجِ تحسین حاصل کرچکی ہے۔
مدارس سے متعلق لکھے گئے ترانوں نیز غزلوں اور مرثیوں کا مجموعہ بھی مولانا عبدالرحیم صاحب فلاحی نے مرتب کیا، اور مکتبہ السلام جامعہ اکل کوا سے شائع ہوا۔ نیز یہ مجموعۂ مضامین مع "میری زندگی کی دھوپ چھاؤں"، جن کے صفحات کی مجموعی تعداد تقریباً تین سو ہے، راقم نے اول تا آخر لفظ بہ لفظ پڑھا ہے۔
اس مجموعۂ مضامین کو راقم اپنے ناقص گمان میں اردو زبان و ادب میں بیش بہا اضافہ تصور کرتا ہے۔ ان چھپن مضامین میں تنوع اور رنگارنگی بھی ہے، دین و شریعت اور زبان و ادب کا لذیذ ذائقہ بھی ہے۔ جملہ مضامین عوام و خواص میں مقبول، گوہرِ نایاب نسخۂ مطالعہ ہیں۔
ابھی باتیں بہت ہیں، لیکن میں مجبور ہو کر قلم کو روک رہا ہوں۔ ان کا سوانحی خاکہ انہی کے ہاتھوں لکھا ہوا "رفتارِ قلم" سوانحی نیز علمی مضامین کا دلکش مجموعہ ہے، اور افکارِ زبیری کے درد و الم نیز فرح و طرب کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
افکارِ زبیری ہیں ظاہر رفتارِ قلم سے
آثارِ ادبی ہیں باہر رفتارِ قلم سے
وہ علومِ دینیہ کی نشر و اشاعت میں اس درجے متحرک اور فعال تھے کہ ایک لمحہ بھی اس کی طرف سے غافل نہیں رہے۔ وہ طلبہ کی علمی صلاحیت بڑھانے کے لیے بے چین رہا کرتے تھے، اور اضطراب و بے چینی کی کیفیت اساتذہ میں بھی دیکھنا چاہتے تھے۔
اک مدت تک زندگی کا دور تعلیم و تدریس سے آزاد نہیں رہا۔ اس تعلیمی شغف کے باعث انہیں اطراف و اکناف کے تمام ہی مدارس کی مجالسِ شوریٰ کا نمایاں رکن، مدت العمر کے لیے بغیر طلب و سعی کے بنایا گیا، اور ہر موڑ پر ان کے مشورے کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور تسلیم کیا گیا۔
قرآن و سنت کی تعلیمات کو چلتی پھرتی شکل میں دیکھنے کے شیدائی کو میدانِ تعلیم کے قیس و فرہاد کا نام نہ دیا جائے تو پھر کیا دیا جائے؟ آج جب وہ نہیں رہے تو کتنے ہی تعلیمی گلستاں پر ویرانی چھا گئی، بلکہ یتیمی کا سایہ پڑگیا۔
وہ ایک ایسی روشن فانوسِ علم و عمل تھے، جس سے بے شمار کرنیں نکلتی تھیں، اور عشق و محبت کے سرشار دیوانے ان پر پروانہ وار نثار ہوتے تھے۔
وہ علم کے بے پایاں سمندر تھے، جس کی تہہ میں کتنے ہی گوہرِ آبدار ایسے بھی ہوں گے جن کا لوگوں کو علم ہی نہیں ہوا ہوگا، اور وہ انہیں کے ساتھ قبر کی آغوش میں پہنچ گئے۔
إِنَّ لِلّٰهِ مَا أَخَذَ وَلَهٗ مَا أَعْطٰى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهٗ بِأَجَلٍ مُّسَمًّى‘‘
یقیناً اُن کی رحلت علم و قلم کے ایک روشن باب کا اختتام ہے، لیکن اُن کے افکار، خدمات اور نقوشِ قلم ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آخرت میں حضرت مولانا زبیر اعظمی کو اپنی رضائے خاص عطا فرما کر ردائے رحمت میں ڈھانک لے اور پسماندگان، متعلقین، تلامذہ اور اہلِ علم کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین