جوں جوں حج کے مبارک ایام قریب آتے جا رہے ہیں، میرے دل کی بے قراری بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ اِن دنوں جب بھی میری نگاہ خانۂ کعبہ کی کسی تصویر پر پڑتی ہے، دل ایک عجیب سی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے، روح میں ایک عجیب سی کسک جاگ اٹھتی ہے، نہ جانے کیوں دل بے اختیار بھر جاتا ہے اور آنکھوں میں نمی اتر آتی ہے، آنکھیں تصویر کو دیکھتی رہ جاتی ہیں، مگر روح خود کو وہاں محسوس کرنے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے میرا دل بھی ان لاکھوں خوش نصیبوں کے ساتھ مطاف میں کھڑا ہو، اور زبان پر بے اختیار یہ صدا جاری ہو: لبیک اللّٰھم لبیک۔
مگر حقیقت.....
حقیقت تو کچھ اور ہوتی ہے۔
ان خوش نصیب لوگوں پر رشک کرنے لگتی ہوں جو اس وقت اللہ کے گھر کے سامنے کھڑے ہیں، جن کی نظریں بیت اللہ پر جمی ہوئی ہیں، جن کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں، اور جن کی آنکھیں کعبہ کو دیکھ کر نم ہیں،
کتنے سعادت مند ہیں وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنے گھر کی حاضری کے لیے چن لیا، جن کے قدم اس مقدس سرزمین کو چھو رہے ہیں، اور جن کے دل دنیا کی تمام مصروفیات سے آزاد ہو کر صرف اپنے رب کی یاد میں محو ہیں۔
دل میں یہی خیال آتا ہیکہ اس وقت کوئی پہلی نظر میں خانۂ کعبہ کو دیکھ کر رو پڑا ہوگا،
کوئی دعائیں مانگ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر رہا ہوگا،
کوئی سجدے میں اپنی پوری زندگی اللہ کے حوالے کر کے برسوں کی تھکن آنسوؤں میں بہا رہا ہوگا۔
کوئی آبِ زمزم پی کر اپنی روح کو سکون دے رہا ہوگا۔
کوئی اپنے گناہوں کو یاد کرکے لرز رہا ہوگا،
اور کوئی اپنے رب کی رحمت کو سوچ کر امید سے مسکرا رہا ہوگا۔
کوئی دعا کے دوران اپنے آنسو چھپا نہیں پا رہا ہوگا۔
تو کوئی ہجوم میں بھی اپنے رب کے ساتھ ایک عجیب سکون محسوس کر رہا ہوگا،
اور ان سب کا تصور میرے دل میں ایک ایسی تڑپ پیدا کرتا ہے جسے الفاظ میں بیان کرنا شاید مشکل ہو۔
میں کعبہ کی تصویر کو دیکھتی ہوں اور خاموشی سے اپنے رب سے کہتی ہوں: "یا اللہ! میں بھی تیرے گھر کے دیدار کی آرزو اپنے دل میں لیے بیٹھی ہوں۔ میں بھی اس دن کی منتظر ہوں جب میری آنکھیں پہلی بار خانۂ کعبہ کو دیکھیں گی، اور میری زبان پر بھی بے اختیار لبیک اللھم لبیک " کی صدا ہوگی۔"
اس وقت کی کیفیت کیا ہوگی وہ محسوس کرنا چاہتی ہوں،
شاید آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے،
شاید دل زور زور سے دھڑک رہا ہوگا،
شاید زبان خاموش ہوگی مگر روح سجدۂ شکر ادا کر رہی ہوگی۔
شاید پہلی نظر کعبہ پر پڑتے ہی دنیا کی ہر خواہش بھول جاؤں،
شاید وہاں پہنچ کر احساس ہو کہ بندہ لاکھ گناہوں میں ڈوبا ہو، لیکن رب کے گھر کا راستہ پھر بھی اس کے لیے کھلا رہتا ہے۔
اور شاید وہ مقدس فضا یہ احساس دلائے کہ یہاں آکر انسان اپنے رب کے سب سے قریب ہوجاتا ہے۔
شاید........
مدینہ منورہ کا تصور اس تڑپ کو اور بھی بڑھا دیتا ہے۔ سبز گنبد کو دیکھ کر اس مبارک شہر کی فضاؤں میں سانس لینا چاہتی ہوں،
روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑی ہو کر ادب سے سلام عرض کرنا چاہتی ہوں۔
اور اپنے محبوب نبی ﷺ کے شہر میں بیٹھ کر دل کا سکون پانا چاہتی ہوں۔
ان دنوں میری ہر دعا میں ایک ہی خواہش شامل ہوتی ہے: "یا اللہ! جن خوش نصیب لوگوں کو تو نے اس سال اپنے گھر کی حاضری عطا فرمائی ہے، ان میں کسی سال میرا نام بھی لکھ دے۔ مجھے بھی وہ لمحہ نصیب فرما جب میری نگاہ خانۂ کعبہ پر پڑے، میری آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہیں، اور میرا دل سجدۂ شکر میں جھک جائے۔"
میں محسوس کرنا چاہتی ہوں ان مقدس زمین کے لمس کو، جہاں پر ہمارے محبوب آقا حضورِ پاک ﷺ کے مبارک قدم پڑے تھے،
ان راستوں کو، جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ ﷺ کے ساتھ قدم ملائے ہوۓ تھے،
ان فضاؤں کو جن میں کبھی اذانِ بلالؓ گونجی ہوگی…
وہ وہی مکہ ہوگا جس کی گلیوں میں رحمتِ عالم ﷺ نے تکلیفیں بھی سہیں اور انسانیت کی ہدایت کیلئے راتیں دعاؤں میں گزار دیں،
وہی جگہ ہوگی جہاں آپ ﷺ نے بھوک و تکلیف برداشت کی، مگر اُمت کو ایمان کی دولت عطا فرمائی۔
وہی شہر ہوگا جہاں آپ ﷺ نے طعنوں اور مخالفتوں کے باوجود لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا نہ چھوڑا۔
وہ یقیناً وہی شہر ہوگا جہاں آپ ﷺ نے اپنے آنسو چھپا کر اُمت کے چہروں پر سکون بکھیرنے کی فکر کی۔
وہی سرزمین ہوگی جہاں رحمۃٌ للعالمین ﷺ نے اپنے آرام کی نہیں، بلکہ اُمت کی نجات کی فکر فرمائی۔
میں ایک ایک جگہ کو محسوس کرنا چاہتی ہوں، شاید یہاں حضور ﷺ نے آرام فرمایا ہوگا…
شاید اس مقام پر کسی صحابیؓ نے محبت سے آپ ﷺ کی بات سنی ہوگی…
شاید یہ ہوائیں اُن مقدس لمحوں کی خوشبو اپنے اندر سمیٹے ہوۓ ہوگی۔
اور پھر یہ سب سوچ کر دل کی کیفیت عجیب ہو جاتی ہے…
دل بے اختیار بول اٹھتا ہے۔
یا اللہ..!
بس ایک بار اس سیاہ غلاف کو اپنی آنکھوں کے سامنے لہراتا دیکھ لوں،
ایک بار مطاف کی زمین پر بیٹھ کر رو لوں،
اب میری آنکھوں کو بھی خانۂ کعبہ کا دیدار، میرے لبوں کو بھی لبیک کی صدا، اور میرے دل کو بھی اپنے گھر کی حاضری کا سکون عطا فرما دے میرے مولا۔