کہاں گئے وہ لوگ جو فیس بک ۔ انسٹاگرام پر
 نہیں بلکہ گھروں گلی محلوں میں دین کی باتیں کرتے تھے،
کہاں گئے وہ جو ہر مشکل میں ہمیں صبر اور شکر کی تلقین کرتے تھے؟
کہاں گئے وہ جو کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے تھے،
کہاں گئے وہ جو عورت کی عزت پر لمبی تقاریر کرتے تھے،
کہاں گئے وہ تاجر جو ناپ تول میں دیانت  کرتے تھے،
کہاں گئے وہ دوست جو ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے تھے،
کہاں گئے وہ رشتہ دار جو دکھ میں ساتھ دینے کا دعویٰ کرتے تھے،
کہاں گئے وہ بزرگ جن کی زبانوں پر نصیحتیں ہوتی تھیں،
کہاں گئیں وہ مائیں جن کی دعاؤں میں خلوص تھا،
اور کہاں گئیں وہ اولادیں جو ان دعاؤں کی قدر جانتی تھیں؟
کہاں گئے وہ لوگ جو نمازوں میں آنسو بہاتے تھے،
کہاں گئے وہ جو حق بات کہنے سے نہ ڈرتے تھے،
کہاں گئے وہ جو دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتے تھے،
کہاں گئے وہ لوگ جو اپنے ضمیر کی آواز سنتے تھے،
کہاں گئے وہ جو سادگی میں سکون ڈھونڈتے تھے
کہاں گئے وہ جن کے چہروں پر سچائی کی روشنی ہوتی تھی،
آخر یہ سب لوگ کہاں چلے گئے؟
کہاں ۔۔۔۔۔؟
آج بچے ہوں نوجوان یا بزرگ ہر کوئی سوشل
میڈیا پر تشریف فرما ہے
آج کے لوگ 
آج کے لوگ موقع ملتے ہی خود ہی ناجائز فائدہ اٹھانے سے نہیں چوکتے 
آج کے لوگ تنہائی ملتے ہی عورت کی عزت کو روندنے کا سوچ رکھتے ہیں؟
آج کے لوگ باہر نکلتے ہی کسی کا دل دکھانے میں دیر نہیں لگاتے
 آج کے لوگ سچ کو چھپانے میں سب سے آگے کھڑے ملتے ہیں 
 آج کے لوگ دکھاوے کی چمک میں خود کو گم کر چکے ہیں؟
 آج ہر چہرہ ایک نقاب کے پیچھے چھپا ہوا ہے؟

دینداری دیانتداری امانت داری خوش اخلاقی سب دکھلاوا رہ گیا ہے
!سب دکھلاوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عائشہ ❤