"یہ مدرسہ ہے ، کوئی عقوبت خانہ نہیں":
     (اہلِ مدارس ایک بار ضرور پڑھیں) 
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
مضمون (101)
تعلیم انسان کو شعور بخشتی ہے اور مدرسہ وہ مقدس جگہ ہے جہاں قرآن اور حدیثِ رسول ﷺ کی صدائیں گونجتی ہیں۔ مدرسے کا قیام اس لیے عمل میں لایا جاتا ہے تاکہ وہاں سے ایسے افراد تیار ہوں جو معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بنیں، جن کے اخلاق میں نرمی اور گفتگو میں دلکشی ہو۔ لیکن افسوس کہ آج کل کچھ مدارس سے ایسی خبریں اور ویڈیوز سامنے آتی ہیں جنہیں دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ معصوم بچوں پر بے رحمانہ تشدد نے مدارس کے تشخص کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
تعلیم اور تشدد کا تضاد
اسلام نے تعلیم کو فرض قرار دیا ہے اور استاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا ہے۔ کیا کوئی باپ اپنے بچے کو اس طرح مار سکتا ہے کہ اس کا جسم نیلگوں (نشان زدہ) ہو جائے یا ہڈیاں ٹوٹ جائیں؟ ہرگز نہیں۔ مدرسہ علم حاصل کرنے کی جگہ ہے، کوئی مذبح خانہ یا عقوبت خانہ نہیں جہاں بچوں کو جانوروں کی طرح ہانکا جائے یا ان پر اپنی انا کی بھڑاس نکالی جائے۔ جب ایک استاد بچے پر بے جا تشدد کرتا ہے، تو وہ اسے علم سے دور اور مذہب سے بیزار کر رہا ہوتا ہے۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق، بچپن میں جھیلا گیا تشدد انسان کی شخصیت کو مسخ کر دیتا ہے۔ جو بچہ مدرسے میں پِٹ کر سبق یاد کرتا ہے، وہ مستقبل میں ایک خود اعتماد انسان نہیں بن پاتا۔ اس کے اندر خوف، نفرت اور انتقام کے جذبات جنم لیتے ہیں۔ وہ بچہ جسے پیار سے دین سکھانا چاہیے تھا، وہ مار کے ڈر سے جھوٹ بولنے اور منافقت کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔مدرسہ کوئی "مضرب خانہ" نہیں
اگرچہ لفظی طور پر "مضرب" کے معنی تجارت یا سفر کے ہیں، لیکن اگر اسے "ضرب" (مارنے) کے معنی میں بھی لیا جائے، تو بھی مدرسہ کوئی مضرب خانہ یا مار پیٹ کا اڈہ نہیں کہ جہاں دنادن بچوں پر لاٹھیاں برسائی جائیں۔ مدرسہ تو وہ گلشن ہے جہاں پھولوں جیسی نازک طبیعتوں کی آبیاری کی جاتی ہے۔ استاد کا کام بچے کے دل میں علم کی تڑپ پیدا کرنا ہے، نہ کہ اس کے جسم پر زخموں کے نشان ڈالنا۔ مدارس کے منتظمین اور معاشرے کو اس سنگین مسئلے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ کی تربیت ہونی چاہیے کہ وہ نفسیاتی طور پر بچوں کو کیسے سنبھالیں۔ سزا کے بجائے جزا اور پیار کا راستہ اختیار کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: " إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا".تم میں سے بہترین وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو۔"(صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3559) کیا معصوم بچوں پر ہاتھ اٹھانا اچھے اخلاق کی علامت ہے؟وقت آ گیا ہے کہ ہم مدارس کے ماحول کو دوستانہ اور پرامن بنائیں۔ والدین اپنے بچوں کو مدارس میں اس لیے بھیجتے ہیں تاکہ وہ دین کے خادم بنیں، اس لیے نہیں کہ وہ کسی کے ظلم کا نشانہ بنیں۔ ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ خوف سے سر تو جھکائے جا سکتے ہیں، لیکن دل نہیں جیتے جا سکتے۔ علم کی شمع محبت سے روشن ہوتی ہے، تشدد کی لاٹھی سے نہیں۔ یاد رکھیں اسکولوں،مدارس اور تمام تعلیمی اداروں میں بچوں کو جسمانی سزا دینا قانونی جرم ہے۔ اگر تشدد سے بچے کو شدید چوٹ آئے، تو دفعات اور ایکٹ کے تحت استاد کو جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔بچوں کے حقوق کا تحفظ: قانون کے مطابق تعلیم کا مقصد بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما ہے، اور کوئی بھی ایسا عمل جو بچے کی صحت یا عزتِ نفس کو مجروح کرے، وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔دینِ اسلام اور ملکی قانون دونوں ہی بچوں پر تشدد کی نفی کرتے ہیں۔ جہاں احادیثِ مبارکہ ہمیں شفقت اور نرمی کا درس دیتی ہیں، وہاں جدید قانون بھی جسمانی سزا کو جرم قرار دیتا ہے۔ لہٰذا، اساتذہ کو چاہیے کہ وہ قانونی گرفت اور آخرت کی جوابدہی دونوں سے ڈریں اور تشدد کے بجائے تربیت کا راستہ اپنائیں۔"
اور یہ بھی ذہن نشین رہے کہ تعلیم صرف کتابی سبق یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی ہمہ جہت نشوونما کا عمل ہے۔ مدارسِ اسلامیہ کا مقصد ایسے نفوس تیار کرنا ہے جو دین و دنیا میں توازن پیدا کر سکیں۔ لیکن افسوس آج کل کچھ مدارس کا ایک تاریک پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ وہاں تعلیم کے نام پر بچوں کی فطری آزادی اور معصومیت کو سلب کیا جا رہا ہے۔تفریح سے محرومی اور جبری مصروفیت بہت سے مدارس میں بچوں کے کھیلنے کودنے اور تفریح کے لیے کوئی مناسب جگہ یا وقت میسر نہیں ہوتا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض اساتذہ اور منتظمین خود کو "بڑا صوفی اور پارسا" ثابت کرنے کے چکر میں اس اوقات میں بھی جو کھیلنے کودنے کا ہے بچوں کو وظائف اور تسبیحات کے حصار میں جکڑے رکھتے ہیں۔ خاص طور پر عصر سے مغرب کا وہ قلیل وقت، جو بچے کی ذہنی تازگی اور کھیل کود کے لیئے 
مخصوص ہونا چاہیے، وہاں بھی اسے آزاد نہیں چھوڑا جاتا۔ نگرانی کے نام پر اسے مسلسل کسی نہ کسی کام میں مشغول رکھنا دراصل اس کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج کرنا ہے۔ جب بچے کا دماغ فری (Free) ہی نہیں ہوگا، تو وہ دین کی گہرائی کو کیسے سمجھے گا؟ یہ عمل تربیت نہیں بلکہ ایک ذہنی جرم ہے۔اور انسانی فطرت کے ساتھ کھلواڑ ہے دینِ اسلام فطرت کا دین ہے، جو انسان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع کرتا ہے۔؛؛ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ہمیں وعظ و نصیحت کے لیے مخصوص دن مقرر فرماتے تھے تاکہ ہم اکتا نہ جائیں۔(مشكوة المصابيح/كتاب العلم/حدیث: 207) 
: اللہ کے رسول ﷺ نے بچوں کے ساتھ کھیلنے اور ان کی دلجوئی کرنے کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: "نبی کریم ﷺ سب سے زیادہ بچوں پر مہربان تھے" (صحیح مسلم: 6026) مسلسل عبادت اور اسباق میں جکڑے رکھنا اس نبویؐ طریقے کے خلاف ہے جس میں اعتدال کی تعلیم دی گئی ہے۔ بچہ اگر کھیلے گا نہیں تو اس کے اندر چھپی تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیں گی۔مزید یہ کہ بھارت کا آئین اور قوانین بچوں کے حقوق کے تحفظ میں بہت واضح ہیں:
رائٹ ٹو ایجوکیشن (RTE) ایکٹ: یہ قانون ہر بچے کو ایسے ماحول میں تعلیم کا حق دیتا ہے جو خوف، صدمے اور اضطراب سے پاک ہو۔
جووینائل جسٹس ایکٹ (JJ Act): بچوں کو کسی بھی ایسی جگہ رکھنا جہاں ان کی ذہنی یا جسمانی آزادی متاثر ہو یا انہیں "قیدیوں" جیسا ماحول ملے، قانونی طور پر سنگین جرم ہے۔کھیل کا حق: اقوام متحدہ کے کنونشن (UNCRC) جس پر بھارت نے دستخط کر رکھے ہیں، ہر بچے کو کھیل کود اور تفریح (Right to Play and Leisure) کا بنیادی حق دیتا ہے۔ کسی بھی ادارے کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ بچے کو 24 گھنٹے ذہنی مشقت میں مصروف رکھے۔
لہٰذا... مدرسہ کوئی مذبح خانہ یا عقوبت خانہ نہیں ہے کہ جہاں بچوں کو مار مار کر یا ذہنی دباؤ میں رکھ کر "ولی" بنانے کی کوشش کی جائے۔ تقویٰ زبردستی مسلط نہیں کیا جاتا، بلکہ یہ محبت اور نرمی سے دل میں اتارا جاتا ہے۔ اگر ہم نے بچوں کو عصر کے بعد تھوڑی سی سیر یا کھیل کی آزادی بھی نہیں دی، تو ہم تعلیم یافتہ افراد نہیں بلکہ "ذہنی مریض" پیدا کریں گے۔ مدارس کے ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ صوفیانہ لبادے میں بچوں پر ظلم بند کریں اور انہیں وہ کھلی فضا دیں جہاں ان کا دماغ آزادانہ سانس لے سکے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان مدارس کو ان کے اصل مقام پر واپس لائیں—جہاں علم ہو، حلم ہو، اور انسانیت کی خوشبو ہو۔کیونکہ..... شعر...
محبت سے سنورتا ہے دلوں کا ہر اک اجالا
؎ تشدد سے فقط بڑھتا ہے ظلمت کا اندھیرا
؎ معلم ہے وہی جو درد کو مرہم بنا سکے
؎ نہ کہ وہ جو ضرب دے کر دل کو پتھر بنا دے
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com