عصرِ حاضر کے اس پُرآشوب اور فتنہ خیز
 ماحول میں، جہاں اقدارِ حیا و عفّت کو مٹانے کی کوششیں عروج پر ہیں، میرے دل میں یہ داعیہ پیدا ہوا کہ میں ایک ایسی تالیف پیش کروں جو نہ صرف حجاب کی حقیقت کو واضح کرے بلکہ اس کی عظمت و اہمیت کو بھی دلنشیں انداز میں اجاگر کرے۔ چنانچہ اسی جذبۂ ایمانی کے تحت میں نے "حجاب عزّت کی پہچان" کو مرتب کرنے کی سعادت حاصل کی۔
میری یہ کاوش محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری و روحانی پیغام ہے—ایک آئینہ جس میں میں نے اسلامی تہذیب کی اصل روح اور نسوانی وقار کی حقیقی تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے اپنے محدود علم اور ادنیٰ بصیرت کے مطابق یہ واضح کرنے کی سعی کی ہے کہ حجاب صرف ظاہری پردہ نہیں، بلکہ عزّتِ نفس کا حصار، عصمت کی پاسبانی، اور وقارِ نسواں کی پہچان ہے۔
اس کتاب کے صفحات میں جہاں میں نے دلائل و شواہد کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے، وہیں ایک دردِ دل بھی شامل ہے—یہ احساس کہ موجودہ دور میں حجاب کو جس طرح غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، اس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔ میری یہ تحریر دراصل اسی اصلاحی فکر کا مظہر ہے۔
میں نے حتی الوسع کوشش کی ہے کہ اسلوب میں لطافت و تاثیر پیدا ہو، تاکہ قاری نہ صرف اسے پڑھے بلکہ محسوس بھی کرے۔ اگر میری یہ ادنیٰ کاوش کسی کے دل میں حجاب کی عظمت پیدا کر دے، کسی بہن کے اندر حیا کا چراغ روشن کر دے، یا کسی گھر میں غیرتِ ایمانی کو بیدار کر دے—تو میں اسے اپنی کامیابی سمجھوں گا۔
بالآخر، میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا گو ہوں کہ وہ اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اسے نافع بنائے، اور اسے احیاءِ حیا و عفّت کا ذریعہ بنا دے۔
محمد مصعب پالنپوری پ