آج امت کو ایک مٹھی ہونا ہوگا
آج امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑی ضرورت اتحاد، یکجہتی اور اجتماعیت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم گروہوں، فرقوں اور معمولی اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک جسم کی مانند ہو جائیں۔ کیونکہ کفر اپنی سازشوں، چالوں اور منصوبہ بندی کے ساتھ امتِ مسلمہ کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے، اور افسوس کہ امت کا ایک بڑا حصہ ابھی بھی غفلت کی نیند میں ہے۔
آخر یہ گروہوں میں بٹنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
کیا آج کا وقت اس بات کا ہے کہ ہم معمولی فقہی مسائل میں الجھ کر ایک دوسرے سے دور ہو جائیں؟
ذرا ایک نظر دنیا پر ڈال کر دیکھو؛ فلسطین، عراق، شام اور کشمیر میں مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں، ان کی آہیں آسمان کو چیر رہی ہیں، اور ہم اب بھی باہمی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔
کیا یہ وقت اس بحث کا ہے کہ نماز رفع یدین کے ساتھ ہوگی یا بغیر رفع یدین کے؟
یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے ہمیں کمزور کر دیا، ہماری قوت کو پارہ پارہ کر دیا، اور دشمن کو ہم پر غالب ہونے کا موقع دیا۔
ورنہ تاریخ کے اوراق اٹھا کر دیکھو، ایک زمانہ وہ بھی تھا جب مسلمانوں کی حکومت، ان کے عدل، ان کے علم اور ان کی قوت سے کفر تھر تھر کانپتا تھا۔ بغداد، دمشق، قرطبہ اور دہلی علم و عظمت کے مینار تھے۔ مگر آج ہم فرقوں میں بٹ کر اپنی اصل طاقت کو بھول بیٹھے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بغداد پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے، اس وقت بھی کچھ لوگ معمولی مسائل میں الجھے ہوئے تھے کہ فلاں چیز حلال ہے یا حرام۔ یہی غفلت امت کے زوال کا سبب بنی۔
اے امتِ مسلمہ! اب جاگنے کا وقت ہے۔
مظلوم مسلمان پکار رہے ہیں: أين المسلمون؟
کہاں ہیں مسلمان؟
کون ان کی فریاد کا جواب دے گا؟
یہ سادہ تحریر ہے اسمیں کچھ بھی درد بیاں نہیں،وقت ہوتا ایسادرد لکھتاکہ خونکےآنسوں جاری ہوجاتے۔۔
عروہ جی
اللھم انصرالمسلمین