*اگر عدالتوں کے بس میں نہیں انصاف تو انکو تالا لگایا جائے*😡

ظلم کی زنجیریں یکے بعد دیگرے پر ٹوٹ رہی ہے اور اس کی پہلی کڑی *مولانا قمر غنی عثمانی اور شرجیل امام* جیسے افراد پر پڑی، اور اب یہ ضرب زیادہ شدت کے ساتھ *عبداللہ سالم چترویدی* تک پہنچ چکی ہے، یہ تینوں واقعات الگ الگ خانوں میں رکھنے لائق نہیں، بلکہ ایک ہی سوچ، ایک ہی ایجنڈے اور ایک ہی منظم سیاسی انتقام کا تسلسل ہیں، جس میں پولیس، حکومت، میڈیا اور کچھ منافق طبقے سب شامل ہیں،
*مولانا قمر غنی عثمانی* کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ حکومت کے سامنے جھکنے والے لوگوں میں سے نہیں تھے، انہوں نے سوال اٹھائے، آئین کی بات کی، اور ظلم کے خلاف آواز بلند کی، بدلے میں ان پر ایسے مقدمات مسلط کیے گئے جن کا مقصد ان کی آواز کو خاموش کرنا تھا، یہی انجام شرجیل امام کا بھی ہوا، ایک محقق اور طالب علم ہونے کے باوجود انہیں برسوں سے ایسے الزامات میں بند رکھا گیا جن میں آج تک کوئی عملی ثبوت عدالت میں پیش نہ ہوسکا، نہ انہوں نے آگ لگائی، نہ ہنگامہ کیا، نہ کسی تشدد میں ملوث پائے گئے، پھر بھی قید، پھر بھی تعصب، پھر بھی سیاسی انتقام، یہ آرٹیکل 21 زندگی اور آزادی کے بنیادی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اور اب ظلم کی تازہ مثال *عبداللہ سالم چترویدی* ہیں دو سال پرانے ویڈیو پر اچانک گرفتاری؟ دو سال تک پولیس سوئی رہی، لیکن جیسے ہی سیاسی ضرورت پڑی، فوراً کارروائی ہوگئی، نہ صرف گرفتاری بلکہ پولیس کے ذریعے تشدد، لنگڑا کر ویڈیو بنوانا، اور پھر اسے وائرل کرنا یہ صرف ظلم نہیں، یہ تذلیل ہے، یہ صرف کارروائی نہیں، یہ تماشہ ہے، یہ کھلا اسلاموفوبیا ہے، عبداللہ چترویدی نے وضاحت بھی کی، معافی بھی مانگی، یہاں تک کہ صاف صاف کہہ دیا کہ وہ یوگی آدتیہ ناتھ کی نسبی ماں کی بات نہیں کر رہے تھے، بلکہ گائے کو *ماتا* کہنے کے مذہبی نظریے پر تبصرہ تھا، پھر بھی گرفتار؟ پھر بھی مارپیٹ؟ پھر بھی ویڈیو وائرل؟ اگر واقعی ان کے بیان پر اعتراض تھا تو پولیس نے دو سال پہلے کارروائی کیوں نہیں کی؟ دو سال بعد اچانک جاگنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ یہ سب سیاسی حکم پر ہوا ہے۔
قانونی طور پر بھی یہ سراسر ظلم ہے: آرٹیکل کہتا ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہندو نیتاؤں کے کھلے عام نفرت انگیز بیانات پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی، جبکہ ایک مولوی وضاحت دے دے تب بھی گرفتار کرلیا جاتا ہے، آرٹیکل 19 آزادی بیان صرف اکثریت کو ملی ہوئی ہے، اقلیت اگر بولے تو غدار ٹھہرتا ہے، آرٹیکل 21 زندگی اور آزادی پولیس تشدد اور ویڈیو لیک کرکے پامال ہوتا ہے، آرٹیکل 22 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر پیشگی نوٹس، بغیر پروسیجر کے دو سال پرانے کیس پر اچانک کارروائی کی جاتی ہے، یہ سب آئین کے ساتھ کھلا کھیل ہے،اور جب یہی کھیل کھیلنا ہے تب عدالتیں کس لیے ہیں ان عدالتوں کو تالا لگاؤ، ہمارا پیسہ برباد نہ کرو، ہم نے عدالت قائم کی ہوئی ہے انصاف کے لیے جب انصاف نہیں تب انہیں تالا لگاؤ۔
سوال یہ ہے کہ عدالتیں خاموش کیوں ہیں؟ جب پولیس تشدد کرتی ہے، جب بے گناہوں کو بدنام کیا جاتا ہے، جب ہر اصول روند دیا جاتا ہے، تو عدالت کہاں ہے؟ کیا کرسی قضا پر بیٹھے لوگ اس وقت بھی اہل کہلائیں گے جب ان کے سامنے ظلم ہوتا رہے اور وہ اسے دیکھ کر بھی آنکھیں بند کرلیں؟ ججز کیوں نہیں پوچھتے کہ دو سال بعد کارروائی کیوں؟ پولیس تشدد کا ذمہ دار کون؟ ویڈیو کس نے لیک کیا؟ یوگی آدتیہ ناتھ کے نفرتی بیانات پر کیوں کوئی کیس نہیں بنتا؟ جہاں تک ایم آئی ایم کا معاملہ ہے، کچھ لوگ اس پوری کارروائی کو ایم آئی ایم سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر یہ بے بنیاد ہے، عبداللہ چترویدی کا ایم آئی ایم سے اختلاف ضرور تھا، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پارٹی نے انہیں گرفتار کروایا، یہ یوگی حکومت، اس کی پولیس اور منافق طبقے کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے، امید ہے کہ یہی سیاسی لوگ، یہی آوازیں، انہی اختلافات کے باوجود چترویدی صاحب کی رہائی کا ذریعہ بھی بنیں گی۔
اور صاف بات یہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ قانون کی کھلی خلاف ورزی کر رہا ہے، اور عدالتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں،جب انصاف کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی جائے، تو ظلم خود کو قانون سمجھنے لگتا ہے، اور آج بھارت میں ٹھیک یہی ہو رہا ہے، جب عدالتیں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں، تو پھر ان پر لگا ہوا قومی نشان بھی شرمندہ ہوتا ہے، اگر عدالتیں مظلوم کی چیخ نہیں سن سکتیں، تو پھر ان کے بلند ستونوں پر وہی سیاہ الفاظ کندہ کر دینے چاہییں *یہاں انصاف فروش نہیں صرف حکمِ حکومت چلتا ہے* جس عدالت میں انصاف مر جائے، اس کے دروازوں پر تالے لگانا بہتر ہے، کیونکہ وہاں انصاف نہیں، صرف بددعائیں جنم لیتی ہیں،اور اگر جج قانون کو نہیں بلکہ حکومت کے چہرے کو دیکھ کر فیصلے لکھنے لگیں، تو پھر اس عمارت کو عدالت نہیں بلکہ *ظالم کا دفتر* کہنا چاہیے، جب عدالتیں ظالم کے سامنے جھک جائیں، تو قوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کہے یہ اب عدالت نہیں ایک کھوکھلی عمارت ہے۔ تالا لگا دو، شاید خاموشی ہی کوئی سچ بول دے، جہاں انصاف نہ ہو، وہاں عدالتیں نہیں ہوتیں، صرف بےجان دیواریں ہوتی ہیں، اور ایسی دیواروں پر تالے لگانا ہی بہتر ہے،
اگر عدالت ظالم کی زبان بولنے لگے اور مظلوم کی فریاد کو شور سمجھ لے، تو ایسا نظام قابلِ نفرت ہے، اور ایسے دروازے بند کر دینا ہی مناسب ہے۔ انصاف کے بغیر عدالت ایک مردہ جسم ہے، اور مردہ جسم کو قائم رکھنا صرف تعفن پھیلاتا ہے، اس پر تالا لگا کر قوم کو اس بدبو سے بچانا ضروری ہے، جو عدالت انصاف نہیں دے سکتی، وہ خود سب سے بڑا ظلم ہے—ایسی عدالت کا بند رہنا کھلے رہنے سے بہتر ہے، اور جب عدالتیں فیصلے نہ دیں بلکہ فیصلوں کو دفن کریں، تو پھر یقینی طور پر ان کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا وقت آ چکا ہے۔
*ہمارا مطالبہ مولانا قمر غنی عثمانی، شرجیل امام مولانا عبد اللہ سالم چترویدی اور تمام بے قصوروں کو رہا کیا جائےاگر نہیں ہو سکتا تب عدالت کو تالا لگایا جائے، آئین ہند کے مطابق*
 
                   *✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*