وہ ایک سیاہ رات تھی
باقی راتوں کی طرح پر سکون
طلباء اکرام میں سے کچھ کھانے کی فکر میں تھے
اور
کچھ سونے کی فکر میں تھے
اور
پڑھائی میں مصروف تھے
غرض یہ کہ
مدرسہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چل رہا تھا
تقریباً
12 بجے
زور دار دھماکے ہوئے
میں وہ تھا جس کا
مشن عشاء کی نماز کے بعد سونے کی فکر
ہی تھا
ہم سوئے ہوئے تھے
اور
جب چوتھا دھماکہ ہوا
تو ہماری آنکھ کھلی تو ہم نے اردو گرد نظر دوڑائی
طلباء کو مفقود پایا
حیرانی ہوئی
جلدی جلدی ہم نیچے آئے
تو وہاں طلباء کو ایک جگہ اکٹھا پایا
پتہ چلا کہ
بزدل دشمن نے مسجد پر
اور اساتذہ کے گھروں پر بمباری کی ہے
ہمارے استاد محترم کے چار بچے شہید ہو گئے ہیں
کیوں ؟
وجہ معلوم نہیں تھی
اس وقت
مگر بعد میں کافی باتیں کھلیں
الزامات عائد کیے گئے تھے
ان کے بارے میں پتہ چلا
پھر ہمیں بھی جہاد کا شوق ہوا
میں
مسعود اظہر کو نہیں جانتا تھا
مگر میری توجہ
دشمن کے میزائل داغنے سے گئی
ابھی تک ہم
تحقیقات میں مصروف ہیں
سال ہونے کو ہے
بہرحال
اب تو شہادت کے لئیے
دل تڑپتا ہے
ہمیں زیادہ
معلومات نہیں
بہرحال
شکریہ
دشمن
کہ ہم نے
جہاد کو سمجھا
اور
آپ نے
ہماری
مدد
کی
اپنے
میزائلوں سے
شکریہ
بقلم
طوفان احمری