سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹر 8485884176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
*تنزلی سے نہ گھبرائیں*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، انسان کی زندگی میں ہمیشہ سے وقت کے ہر دو پہلو نمایاں ہوتے ہیں ، بلندی و پستی ، انسان نے ہر دو صورت میں اسے قابو کرنے کی صلاحیت رکھنا چائیے ورنہ ذہنی توازن پر اثر ہوتا ہے ،
ہمارے لئے ہر دو پہلو نمایاں ہے ، ایک نظر کے لئے بلندیوں پر اونچے مقام پر تو دوسرے ہی لمحے ایک دم سے تنزلی میں ، شاید اس طرح کے حالات کا بھی کچھ نام ہوگا ، ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی بہانے سے وقت کی مناسبت سے اپنے لئے کوئی راستے کا تعین کرے تاکہ اس کے لئے ترقی کی راہیں ہموار ہو جائیں ، ہماری محنت اور لگن سچی ہو تو ہمیں آگے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ، وہی انسان ذہین اور قابل ہوتا ہے جو وقت پر صحیح فیصلہ لیں ، حالات کی مناسبت سے صحیح راستے کا تعین ہی انسان کی اصل کوشش ہوتی ہے ، اصل جیت ہوتی ہے ، ہماری تھوڑی سی ڈگمگاہٹ بھی ہمیں بہت پیچھے لے جاتی ہے ، زندگی کا جو بھی فیصلہ ہو اس میں جلد بازی نہ کریں ، اپنے فیصلے کو ہر زاویہ میں رکھ کر اس کے عکس پر غور کریں ، ہم اپنے نزدیک اس کام کے ردعمل ، نقصانات اور فائدے کو مدنظر رکھیں ، کسی بھی کام کا دارومدار نیت اور عمل پر ہوتا ہے ، صاف نیت ، صحیح عمل ہو تو اللہ کی مدد آجاتی ہے ، بلندیوں کے راستے خود بخود کھلتے ہیں ،
آج کا ڈیجیٹل دور ہو یا کتنا بھی آگے تک کی دوڑ لگائیں ، اصل حاصل تو صرف قرآن سے ہی ہے ، نئی ٹیکنالوجی میں گم ہو کر بھی وہ حاصل نہیں ہو سکتا جو قرآن کریم میں ہیں ، قرآن کو صحیح معنوں میں پڑھو گے تو آسمان تک پہنچنے کی کھوج لگاؤ گے ، انسان اور حیوان کا فرق واضح ہوگا، روزانہ کی مسلسل گردش قرآن پر منحصر ہے ، قرآن سے ہی اسلام اور دیگر مذاہب کا فرق سمجھ میں آئے گا ، صرف ٹکنالوجی میں گم رہوگے تو قرآن کی تحقیق واضح نہیں ہوگی ، سب سے اہم یہ ہے کہ موجودہ حالات کے ذکر کا حل قرآن میں ڈھونڈ لیں ، خود نئی تکنیک قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے ، ہمارے فیصلے صرف قرآن کی تعلیم پر منحصر ہونا چاہیئے ، وقت کے ساتھ اللّٰہ کے فیصلے جو بھی ہو قبول کرتے رہیں ، اگر ہم سے کبھی کبھی انجانے میں غلط فیصلہ بھی ہو جائے تو اللہ کی مدد آجاتی ہے اور نقصان سے بچ جاتے ہیں ، دوسرے کو مات دینا ، دوسرے کی بربادی کے لئے کوشش ، دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں آگے بڑھنے کے لئے طاقت لگائی جارہی ہے تو اللہ تعالیٰ نیتوں کا حال جانتا ہے ، صحیح فیصلوں میں بھی بھاری نقصان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے ، اللہ کو حاضر ناظر جان کر صرف دوسرے کو نقصان نہ پہنچاتے ہوئے کام کرلیں ، فیصلے تو وہی طئے کر کے دے گا ، ہار اور جیت مقدر ہے ، آپ قرآن کی تعلیم کو مدنظر رکھ کر فیصلے کا قدم اٹھائیں ، ہر دو صورت میں کامیابی رہے گی ، کامیابی کا مطلب بلندیوں پر جانا ہی نہیں ہے بلکہ نقصان سے بچا جانا بھی کامیابی ہی ہے ،
اگر نقصانات کا اندیشہ ہو تو کم نقصان والے فیصلے کو قابل قبول کرنا یہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے ، زندگی جن زخموں سے بھری پڑی ہے ان کا علاج صرف سجدوں میں ہیں ، ہمارا بہترین دوست اور کار ساز مددگار بھی بس اللّٰہ ہی ہے ، ہم سب کے لئے بس اللّٰہ ہی کافی ہے ،
فیصلوں پر منحصر سیکھ چاہیئے تو سب سے بہترین فیصلہ ,, صلح حدیبیہ ،، کی مثال ہے ، قابلِ قبول عمل فتح مبین ہے ، بعض فیصلے قیامت تک کے لئے ایک پیغام ہوتا ہے ، جسے سیکھنے کے لئے بتایا گیا ہے ، وقت اور تقدیر کے فیصلے اٹل ہیں ، مصلحت اور حکمت کے تحت دیکھو گے تو دور تلک روشنی کی لکیر نظر آئے گی ، اللّٰہ رب العزت نے ہمیں اشرف المخلوقات میں رکھا ہے ، ہمیشہ دوسروں کو فائیدہ پہنچانے کی کوشش کریں ، صحیح فیصلے تمھارے لئے دامن پھیلائے کھڑے رہیں گے ، صرف صبر کا دامن تھامے رہیں ، جس کے دل میں سچی انسانیت ہو اس کی سوچ ہمیشہ یہی رہے گی کہ ، اے رب کائنات مجھے ملنے والا غم کسی کو نہ ملے اور جو خوشی مجھے ملی ہے وہ سب کو ملے ، دلوں میں وہی زندہ رہتے ہیں جو محبتیں اور آسانیاں پیدا کرتے ہیں ، جتنا ہماری زندگی میں دین ہوگا ، اتنا ہی ہماری زندگی میں سکون ہوگا ، جن گھروں میں دین نہیں ان گھروں میں سکون نہیں ، تم اللّٰہ کے احکامات کی حفاظت کرو وہ تمھاری حفاظت کرے گا ، اگر اللہ تعالٰی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے ، تمھارے مسئلے بہت چھوٹے ہیں رب کا جلال اور اس کی عنایت نا ختم ہونے والی ہے ،
ایمان والوں کو اللہ تعالٰی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے ،
(سورہ آل عمران: 160)
*حَسۡبُنَا اللہُ وَ نِعۡمَ الۡوَکِیۡلُ*•
اللّٰہ میرے لیے کافی ہے کیونکہ وہ بہترین انتظام کرنے والا ہے ،
اللّٰہ پر توکّل ، اور اسی کے سامنے گڑگڑانے والے کے ساتھ اللّٰہ کافی ہے ، وہی دہشت زدہ کو امن نصیب فرماتا ہے ، طالبِ پناہ کو پناہ دیتا ہے ، وہی بہترین والی ہے ،
بہترین مدد گار ہے ، لہذا جو بھی اسے اپنا والی بنائے ، اسی سے مدد طلب کرے ، اسی پر توکل ہو ، اور مکمل طور پر اسی کی طرف یکسو ہو جائے ، تو اللّٰه بھی اس کا والی بن کر اس کی مکمل حفاظت فرماتا ہے ، جو صرف اللّٰه سے ڈرے اور تقوی اختیار کرے ، اسے ہر دہشت و ڈر سے امن فراہم کرتا ہے ، اور اس کی ضرورت کے مطابق ہر مفید چیز مہیا کرتا ہے
اے پروردگار ہم کو صرف تجھ سے ہی امیدیں وابستہ ہیں اور تو ہی ہمارا حاجت رواں اور تو ہی ہمارا مشکل کشاں ہے ، ہم سب کو تو ہی معاف کرتاہے ہم سب کو معاف کر دے
اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہوجائے ،
آمین ۔