سعدیہ فاطمہ عبدالخالق
ناندیڑ مہاراشٹر 8485884176
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

,, *اے کہ تیری گود میں پلتی ہے تقدیر اُمم* ،،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور ساری نعمتیں اسی کی دی ہوئی ہیں ، ہر دن اور ہر لمحہ اللّٰہ تعالیٰ کا عطاء کردہ ہے ، ہر ,, وقت ،، کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ خاص ہوتی ہے ، جس کا کوئی بدل نہیں ، لیکن پھر بھی انسان اپنی ہی دماغ کی اپج کو نام دینے کی کوشش کرتا ہے ، 8 مارچ کو یوم عالمی خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے ، کیا ماں ، بہن ، بیٹی ، بیوی کا بھی کوئی دن ہوتا ہے ، معاشرے میں نسل نو کی تربیت عورت ہی کے ہاتھوں ہوتی رہتی ہیں ، ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ کے تصور نے عورت کی حیثیت اور کردار کو مزید مستحکم اور مستند بنادیا ہے ، ایک مرد کا تعلیم حاصل کرنا خود کو سنوارنا ہے اور ایک عورت کا تعلیم حاصل کرنا پورے خاندان کو سنوارنا ہے ، انسانیت کے ایک حصّے کی ترجمانی مرد کرتا ہے تو دوسرے حصّے کی عورت کرتی ہے ، آج تک کوئی معاشرہ ایسا نہیں ہے جو کہ صرف مردوں پر مشتمل ہو اور نہ اس کے برعکس ہے ، دونوں میں لازم و ملزوم کی نسبت ہے ، ہر مذہب نے عورت کے مقام کو سراہا ہے ، ہندو صحیفے خواتین کے حوالے سے مختلف النوع اور متضاد نظریات پیش کرتے ہیں جو بحثیت دیوی اور نسوانی قیادت سے لے کر بہ حیثیت فرمانبردار بیٹی ، گھریلو عورت اور ماں ، ایسے محدود کرداروں پر مشتمل ہیں ،
ہندو مت کے صحیفہ رگ وید (Rigveda) کے دسویں منڈل (10.125) میں شامل
دیوی سکتا( Devi Sukta) ایک انتہائی اہم بھجن اعلان کرتا ہے کہ نسوانی توانائی کائنات کا ایسا نچوڑ ہے جو تمام مادے اور شعور ، لافانی اور لا محدود مابعد الطبیعیاتی اور تجربے پر مبنی حقیقت ( برہمن ) ہر چیز کی روح (شعور اعلیٰ) پر مشتمل ہے ، بعض ہندو اپنیشدوں ، شاستروں اور پرانوں میں خاص طور پر دیوی اپنیشد ، دیوی مہاتما اور دیوی بھاگوت پران میں عورت کو سب سے زیادہ طاقتور اور توانائی بخش قوت کے طور پر جانا جاتا ہے ، (ماخوذ)
ہر مذہب میں عورت کا اونچا مقام ہے ،
*مذہب اسلام* نے عورت کو ایک ایسے بلند مقام پر پہنچا دیا جس کا اس تاریک دور میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا ، عورت کی پیدائش پر جنت کی خوشخبری دی گئی ، اس کی پرورش کرنے والے کو جنت کا مستحق قرار دیا گیا ، عورت کے لئے وراثت میں ، حق مقرر کیا گیا ، اس کو مہر کا حق بھی دیا گیا ، قرآن مجید میں جگہ جگہ عورت کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، ماں کے درجے کو اس قدر معزز بنا دیا گیا ہے کہ اس کے قدموں کے نیچے جنت کی بشارت دی گئی ہے،
یوں تو جنت سے نکلوانے کا الزام ہے ، لیکن جنت کو ماں کے قدموں تلے کہا گیا ہے ، بشرطیکہ اس کے لئے واحد لاشریک کی طرف جانے والا راستہ اپنائیں اور ہمارے آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی رہنمائی کو ہی پسند فرمائیں ،
8 مارچ کو عالمی یوم خواتین کا نام دیا گیا ہے ، ۔۔۔۔۔ اسلام ایک ایسا مذہب ہے کہ اس کے کسی دنوں کو ہم اپنے طور پر کسی نام سے جوڑ نہیں سکتے ،
اس طرح کے کسی بھی دن کو ، کوئی بھی نام دے کر مغربیت والے مناتے ہیں ، کسی بھی دن کو اہمیت دے کر منانا مغربی شیوہ ہے ، ان کے یہاں خاندان کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہی رشتوں کو نام دیا جاتا ہے اس لئے کوئی بھی ایک دن کو نام دے کر تسلی کے طور پر وہ کوئی بھی دن منا لیتے ہیں ،
عورت کے ہر روپ اتنے حسین و جمیل اور خوبصورت ہیں کہ اس کی اسی خوبصورتی کی وجہہ سے اسے صنف نازک کہا گیا ہے ، ہر نازک چیز کی حفاظت کی جاتی ہے ، اسی صنف نازک کے لئے حفاظتی طور پر ، پردے کا حکم دیا گیا ہے ، پتہ ہے ہر قیمتی چیز کو ڈھانک کر حفاظت سے رکھا جاتا ہے ، قرآن مجید کو بھی کپڑے میں لپیٹ کر رکھا جاتا ہے ، ہیرے جواہرات کو چھپا کر رکھا جاتا ہے ، بالکل اسی طرح عورت کو بھی غیر محرم سے چھپائے رکھنے کا حکم ہے ، سورہ احزاب اور سورہ النور میں پردہ کی آیت اتاری گئی ہیں ، وہ عورت ہی تو ہے جو ہمارے نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لائیں وہ حضرت خدیجہ رض تھیں اور جنھوں نے اپنا مال اسلام کی راہ میں دیا ،
فرعون کے گھر رہ کر جنت پانے والی عورت ، حضرت آسیہ رض بہت دلیرانہ انداز رکھتی تھیں ،
سب سے پہلے اسلام کی راہ میں شہید ہونے والی خاتون حضرت سمعیہ رض نڈر و بے باک تھیں ۔۔۔
سب سے پہلے ، جو سب کی مخالفت کے باوجود ، بیت المقدس میں داخل ہونے والی خاتون حضرت مریم علیہ السلام ہی تو تھیں ۔۔۔
قصر یزیدی کو لرزا دینے والی خاتون ، حضرت زینب بنت علی رض ہی تھیں ،
عورت کا ہر روپ بہت حسین ہوتا ہے ،
بیوی کا روپ۔۔۔۔۔۔ ماشاءاللہ ،
عورت وہ ہے جسے جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کا سلام آیا تھا ، حضرت خدیجہ رض ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے غار حرا میں کچھ میسر غذائی اشیاء دے آتی ہیں ، اسی دوران فرشتے سے خدا کا سلام آیا ، سبحان اللہ
ایک ماں کا روپ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں کا درجہ وہ ہے ۔۔۔ جیسے
اویس قرنی ۔۔۔۔ جنھیں ماں کی خدمت کے بدلے یہ درجہ دیا گیا ہے کہ ان سے دعا کی تاکید کروائی جائے ، تاکہ اسے قبولیت کا حق حاصل ہو ، اللّٰہ اکبر ۔۔۔۔
موسی علیہ السلام کا جنت میں پڑوسی ، قصائی ، وہ انسان ٹہرا جس نے کاروبار کے دوران بھی بوڑھی ماں سے غفلت نہیں برتی ، صرف
ایک بہن کا روپ وہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔
موسی علیہ السلام کی بہن ، مریم ۔۔۔۔جنھیں ۔۔۔۔ ہارون کی بہن مریم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے ۔۔۔۔ بھائی ( موسیٰ علیہ السلام ) کو دریا میں چھوڑنے کے بعد وہ تعاقب میں دریا کے کنارے کنارے چلتی رہی اور بادشاہ کے محل سے بچے کے لئے اس کی ماں کے دودھ کا انتظام کروایا ،
عورت بیٹی کے روپ میں وہ ہے جو ۔۔۔۔
حضرت فاطمہ رض ۔۔۔۔۔ خاتون جنت ۔۔۔۔ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونگی ، ماشاءاللہ
عورت وہ ہے جس کی تقلید میں ساری دنیا صفا و مروہ میں دوڑتی ہیں ، سبحان اللّٰہ

عورت وہ ہے جسے وقت کے فرعون نے بی بی سارہ علیہا السلام کو بندی بنا لیا تھا ، فرشتوں نے مدد کی ، فرعون نے کہا کہ ضرور یہ کوئی خاص شخصیت سے جڑی ہے ،
عورت وہ ہے جو ۔۔۔۔۔ حضرت عائشہ صدیقہ رض نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد 43 سال زندہ رہی اور ساری زندگی لوگوں کے لئے ہدایت میں گذار دی ، جن کی براءت میں سورہ النور کی 18 آیت نازل ہوئیں ،

ویسے ہمارے پاس کسی بھی یوم کا تصور نہیں ہے ، صرف ایک ہی یوم قابلِ عمل و ذکر ہے وہ ہے یوم بندگی ، جو ہم سب کی زندگی میں بہت ہی ادب و احترام اور بے پناہ خوشی کے ساتھ ہر دن منایا جاتا ہے یعنی اللّٰه تعالیٰ کی بندگی کا دن ۔۔۔
مذہب اسلام میں عورت کو جتنی عزت و وقار عطاء کیا گیا ہے اس کی مثال کسی اور مذہب میں نہیں ملتی ، چنانچہ ,, ماں کے قدموں کے نیچے جنت ،، کا درجہ سب سے بڑی عظمت کی نشانی ہے ، عورت کا کوئی دن نہیں ہوتا ، عورت سے ہی ہر دن ہے ، کوئی عالمی یوم خواتین نہیں ، بلکہ خواتین ہر عالم میں اہمیت کی حامل ہے ، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ,, عالمی یوم خواتین ،، منانے کے بجائے اس بات کی کوشش کریں کہ ہماری مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ، اپنے مقاصد و مرتبے کو پہچانیں اور اس پیارے نظام کو اپنے اوپر نافذ کریں جس کے ذریعے ان کو معاشرے میں ایک با عزت مقام حاصل ہو سکے ،
اس لئے ہر عورت کو چاہیئے کہ مغرب کے تصور کو چھوڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے گئے راستے کو اپناتے ہوئے ، صحیح راہ اختیار کریں ، رحمت اللعالمین کے بتائے گئے راستے پر چلو گے تو رب العالمین کو پاؤ گے ، الحمدللہ
اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہوجائے ، آمین ۔

وجو زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ ،

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں ،