سیاست، مسلمان اور بہار انتخابا ت
مفتی عبد القادر خالد صاحب
بہار انتخابات کے پہلے مرحلہ کی انتخابی مہم سیاست دانوں کے وعدوں اور ایک دوسرے پر شدید زبانی حملوں کے ساتھ ختم ہوچکی ویسے اس مرتبہ بہار کے عام انتخابات کو لے کر نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک میں سیاست بہت پہلے ہی شروع ہوچکی تھی ، اور جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آتا رہا اس میں تیزی آنے لگی یہاں تک کہ کچھ دنوں سے گلی کوچوں، چوراہوں، میڈیا الیکٹرانک ہو یا پرنٹ، یا سوشل ہرجگہ صرف اسی کا چرچہ ہے، ہر شخص کو اسی کی فکر ہے کہ بہار کا اقتدار کون سنبھالے گا خصوصا مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اس بات کو لے کر بے چین ہیں کہ کہیں دوبارہ NDA اتحاد کامیاب نہ ہوجائے۔
> ملک کے مسلمانوں کی سیاسی بدقسمتی کہ لیں یا پھر سیاسی شعور کی کمی کہ ان کے نزدیک ایک عرصہ سے انتخابات صرف اور صرف بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے کا سبب ہی رہا جب کہ جمہوری سیاست میں انتخابات قوموں کے مستقبل کو سنوارنے اور ترقی کے منازل طئے کرنے کا بہترین ذریعہ ہے مگر ہندوستان کے مسلمانوں کا کئی انتخابات سے چاہے ملک کے عام انتخابات ہو یا ریاستوں کے انتخابات یا کسی پنچایت یا میونسپل کارپوریشن جیسے چھوٹے الیکشن تمام میں طویل عرصہ سے اسی پر زور رہا کہ کسی طرح بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھیں۔ اس کے نتیجہ میں نام و نہاد سیکولر جماعتوں نے بھی مسلمانوں کا خوب استحصال کیا کئی خاندان اور سیاسی جماعتوں نے بشمول مسلم سیاست دانوں نے مسلمانوں کے سہارے اپنی سیاست کوچمکایا، ریاستی وزارتوں سے لے کر مرکزی وزارتوں یہاں تک کہ وزیر اعلی اور وزیر اعظم تک کے عہدوں کو حاصل کیا خوب دولت اکٹھا کی اور پھر مسلمانوں سے دوری اختیار کرلی،آزاد ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں اس کی بے شمار مثالیں مل جائے گی۔
لیکن اس کے باوجود مسلمانوں نے کبھی بھی اجتماعی طور پر اپنی اس حکمت کو بدلنے یا کسی نئی حکمت عملی کو اختیار کرنے پر غور ہی نہیں کیا البتہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے اور ملک میں ہندوتوا کے نظریہ کو فروغ ملنے کے بعد سیکولر جماعتوں کے رویہ کی وجہ سے مسلم سماج خصوصا نوجوانوں میں ایک نئے سیاسی نظریہ نے جگہ بنائی کہ *"مسلمانوں کو بی جے پی کی ناکامی کے بجائے اپنے مرکز سیاسی کے لیے ووٹ دینا چاہیے"* بہار کے موجودہ عام انتخابات میں تو یہ نظریہ سر چڑھ کر بول رہا ہے بلکہ مجلس کی زور دار انتخابی مہم نے تو اس کو ایک مستقل بحث و مباحثہ کا موضوع بنادیا اور اس کی وجہ سے ان دو مختلف سیاسی حکمت عملیوں کے موافق اور مخالف مسلم سیاست دانوں، مذہبی قائدین اور عام مسلمانوں کے درمیان الزام تراشی اور تنقیدوں کا بازار گرم ہیں۔
> جب کہ یہ دونوں نظریات بھی مناسب اور سنجیدہ حکمت عملی کے بغیر ملکی سیاست میں مسلمانوں کو کوئی خاص مقام دلانے والے نہیں ہے کیوں کہ "بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے" کی حکمت عملی تو مسلمان کئی سالوں سے اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس کے نتائج بھی مسلمانوں نے دیکھ لیا کہ اس حکمت عملی کے باوجود دس سال سے مرکز اور کئی ریاستوں کا اقتدار بی جے پی ہی کو حاصل ہے، ہاں ایسا بھی نہیں کہ مسلمانوں کی یہ حکمت عملی ہمیشہ ناکام رہی بلکہ کئی مرتبہ بی جے پی اقتدار سے بھی محروم رہی مگر مسلمانوں کو سیاست کے حقیقی فوائد کبھی حاصل نہیں ہوئے۔
> رہی بات اپنی سیاسی قیادت یا مرکز سیاست کی اس کا ایک تلخ تجربہ مسلمانوں کو آزادی سے پہلے ہی ہوچکا ہے، لیکن اس کا مطلب بھی ہرگز یہ نہیں کہ یہ نظریہ ہی غلط ہے۔
*غلطی کہاں ہورہی ہے؟*
ملک کی سیاست میں مسلمانوں سے بنیاد ہی میں غلطی ہورہی ہے کہ جن چیزوں کو بنیاد بناکر مسلمان سیاسی حکمت عملی طئے کرتے ہیں وہی موجودہ سیاست اور جمہوری نظام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوتی ہے، کیوں کہ مسلمانوں کی سیاسی حکمت عملی کی بنیاد اکثر ماضی میں بھی اور اب بھی صرف مذہبی مسائل اور مذہبی نعروں ہی پر رہی، سیاست کے ذریعہ مسلمانوں نے دیگر شعبوں جیسے معاشی، تعلیمی، سماجی اور علاقائی مسائل کو حل کرنے کی بہت کم بلکہ فکر ہی نہیں کی، *اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے سیاسی رہبر شروع ہی سے خالص مذہبی قائدین رہے، جن ہی نہ عملی سیاست کا اور نہ ہی میدانی سطح پر سماجی اور بنیادی مسائل کے حل کرنے کا کوئی خاص تجربہ ہوتا ہے ،لہذا انہوں نے خود اپنا اور عام مسلمان کا بھی یہی ذہن بنادیا کہ سیاست میں سیاست دانوں سے صرف مذہبی مسائل پر یا کسی مذہبی تقریب ہی پر بات ہوگی، جمہوری نظام میں خاص طور سے مذہبی اقلیتوں کی اس سے بڑی سیاسی غلطی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔*
اس غلطی کی اصلاح کے بغیر مسلمانوں کا کسی بھی سیاسی حکمت عملی کو اختیار کرنا بے فائدہ ہی رہے گا۔
*مذہبی رہنماؤں کا سیاست میں رہبری کرنا یہ تو غلط نہیں مگر سیاسی رہبرورہنماء وہ ہونا چاہیے جو سیاست کے اصول و ضوابط سے واقف ہو اور عملی سیاست اور سماجی خدمات کا میدانی تجربہ رکھتا ہو تب ہی قوم کی صحیح رہبری ہوسکتی ہے*
> اور جمہوری نظام میں اقلیتوں کی سیاست کی بنیاد بنیادی مسائل ہونا چاہیے نہ کہ مذہبی مسائل چوں کہ جمہوری نظام کا مدار اکثریت پر ہوتا ہے تو پھر اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی سیاست سے مذہبی اکثریت ہی کا فائدہ ہوگا جس کو ہم دیکھ بھی رہے ہیں۔
اگر مذہبی اقلیتیں بنیادی مسائل کو اپنی سیاست کا موضوع بنائیں گے تو پھر ملک کی سیاست کا رخ اس جانب ہوگا جس سے تعصبیت اور فرقہ پرستی پر بہت حد تک روک لگی گی اور مذہبی اکثریت کو یکجا ہونے کا موقع نہیں ملے گا۔
*(2)* دوسری بڑی غلطی مسلمانوں کی یہ ہے کہ مسلمانوں نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں کبھی بھی سیاست میں سنجیدگی نہیں دکھلائی، صرف انتخابات کے موقعوں پر مسلمانوں میں سیاسی گہماگہمی نظر آتی ہے اس کے بعد یہ سلسلہ تھم جاتا ہے جب کہ جمہوری نظام میں سیاست کا اصل فائدہ انتخابات کے بعد ہی حاصل کیا جاتا ہے لیکن مسلمانوں کی جانب سے اس میں ہمیشہ لاپرواہی اور غیر سنجیدگی ہی دیکھنے میں آئی، *انتخابات سے پہلے مسلمانوں کے رہبر کسی کی تائید اور کسی کی مخالفت میں خوب زور دکھاتے ہیں لیکن جب انکی تائید یافتہ پارٹی کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو ان سے اپنے مطالبات پورے کرانے اور مختلف سیاسی اور جمہوری طریقوں سے ان پر دباؤ ڈالنے کے بجائے پانچ سال کے لیے اپنے آپ کو سیاست سے دور کرلیتے ہیں۔*
یہ ایک ایسی غلطی ہے کہ جس نے انتخابات اور سیاست کے حقیقی فائدہ سے مسلمانوں کو محروم کردیا سیاسی جماعتوں اور سیاست دانوں نے تو اس کا خوب فائدہ اٹھایا مگر مسلمان کو اس سے فائدہ کے بجائے اکثرصرف نقصان ہی ہوا۔
*ملکی سیاست میں اپنی حیثیت منوانے کے لیے مسلمانوں کو کسی حکمت عملی کے اختیار کرنے سے پہلے اپنی اس غلطی کی اصلاح کرناضروری ہے اورساتھ ہی مسلمانوں میں ایک ایسے طبقہ کا مستقل ہونا ضروری ہے جو خالص سیاسی ذوق،عملی سیاست، سماجی خدمات، حالات کی نزاکتوں اور قانون سے واقفیت کی بنیاد پر صرف انتخابات کے بجائے وقتا فوقتا حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو مختلف جمہوری انداز سے مسلمانوں کے مسائل کی جانب متوجہ کرتا رہے۔*
> *(3) مسلمانوں نے ملکی سیاست کے مزاج کو سمجھنے میں بھی غلطی کی کہ ایسے دور میں جب کہ سیاست سرمایہ کے حصول کا ذریعہ اور مذہب اس کا اشتہار بن چکا ہے، مسلمانوں نے ہر مذہبی نعرہ اور مذہبی علامت اختیار کرنے والے کو اپنا محسن سمجھا۔*
اس غلطی نے مسلمانوں کو صرف سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر اتنا جذباتی بنادیا کہ مسلمان مذہبی نعرے لگانے اور مذہبی علامت اختیار کرنے والے سیاست دانوں کی عقیدت میں اندھے، گونگے اور بہرے ہوگئے، ان کی ہر برائی کو اچھائی کے طور پر پیش کرنے لگے جس کی وجہ سے سیاست دانوں کے دل سے شکست کا خوف جو کہ جمہوری نظام کی بقاء کے لیے ضروری ہے ختم ہوگیا۔
*(4)* مسلمانوں کی ایک اور غلطی سیاسی شعور میں کمی اور اس جانب توجہ کا نہ ہوناہے، مسلم سماج میں سیاسی شعور کی کمی نے مسلمانوں کو سیاست اور مذہب کے طرز فکر میں فرق سے محروم کردیا جو عقیدت مذہب کے لیے ہونی چاہیے مسلمانوں میں وہی عقیدت سیاست اور سیاست دانوں کے تعلق سے آگئی نتیجتا مسلمان جمہوری نظام میں سیاست دانوں کو قابو میں رکھنے کے اہم ذریعہ سوال کرنے کی جرات سے محروم ہوگئے اور اس محرومی نے سیاست دانوں کو اپنی من مانی کرنے پر جری کردیا، *عام مسلمانوں میں کم از کم اتنا سیاسی شعور ہونا چاہیے کہ وہ سیاسی نمائندوں اور ان کی تائید کرنے والے رہنماؤں سوال کرنے کو اپنا جمہوری حق سمجھیں۔*
یہ چند غلطیاں ہیں جس کی اصلاح کے بغیر ملک میں مسلمانوں کی سیاسی محرومی کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں۔
جہاں تک بات مسلمانوں میں پائے جانے والے موجود سیاسی نظریات کی ہی ان دونوں نظریات کو اگر اوپر ذکردہ غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ جمہوری اور سیاسی اصولوں کی روشنی میں اختیار کیا جائے تو امید ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی بے بسی میں کمی آئے۔
*(1) بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا*
یہ حکمت عملی حالات کی وجہ سے مسلمانوں کی مجبوری بن چکی ہے، لیکن اس میں اس بات کا خیال ہونا چاہیے کہ بی جے پی کو ناکام کرنے کی کوشش میں کہیں ہماری حصہ داری اور سیاسی حیثیت ہی داؤ پر لگ نہ جائے، لہذا جس کسی کی بھی تائید کی جائے تو اس سے اپنی سیاسی بقاء کا بھی مطالبہ کریں کہ ہمیں فلاں فلاں علاقوں میں مسلم امیدوار چاہیے، خود پارٹی میں مسلمانوں کو بڑے عہدہ دئے جانے چاہیے ، یہ سب اس وقت ممکن ہے جب کہ ہماری سیاسی تیاریاں صرف انتخابات کے وقت کی نہ ہو۔
*(2) مسلمانوں کی اپنی سیاسی قیادت اور مرکز سیاست کا ہونا۔۔۔*
یہ ہندوستانی مسلمانوں کی سیاست میں بنیادی اور اہم ضرورت ہے مگر اس میں بہت سی ایسی باریکیاں ہیں جس کا لحاظ کئے بغیر یہ مسلمانوں کے لیے مفید ہونے کے بجائے مضر ہوگا۔
> (1) مسلمانوں کی اپنی سیاسی قیادت اجتماعی ہو انفرادی ، خاندانی اور وراثتی نہ ہو۔ (2) نظریاتی ہو جذباتی اور سرمایہ دارانہ سونچ والی نہ ہو (3) سیاسی ذوق رکھنے والوں، جمہوری نظام، ملک کے اداروں کی حقیقتوں اور سیاسی اصول وضوابط سے واقف قوم کے ہمدردوں کی ہوں، سیاست کے نام پر تجارت کرنے والوں کی نہ ہو۔
*بہار انتخابات کے لئے مناسب حکمت عملی*
چوں کہ بہار کےاس عام انتخابات کا بھی مسلمان ہمیشہ ہی کی طرح بغیر کسی منصوبہ بند تیاری کے سامنا کررہے ہیں اسی لیے ایک مرتبہ پھر مسلمانوں کا انتخابی مقصد کسی طرح ہی بی جے پی اتحاد کو اقتدار سے دور رکھنا ہی ہیں ، ایسی صورت میں مسلمانوں کو سب سے پہلے اس بات کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے کہ کسی طرح مسلم نمائندگی میں اضافہ ہو لہذا جہاں کہیں پر بھی جس پارٹی نے مسلم امیدوار کو ٹکٹ دیا ہو وہاں اس کو کامیاب کیا جائے اگر کہیں دو مسلم امیدوار ہو تو جس سیاسی جماعت کو اقتدار میں دیکھنا مسلمانوں کو پسند ہو اس کے مسلم امیدوار کو کامیاب کیا جائے، چاہے وہ کیسا بھی ہو تاکہ حکومت بننے کی صورت میں زیادہ سے مسلمانوں کی حکومت میں شمولیت پر سیاسی جماعتوں کو مجبور کیا جاسکے، رہی بات مجلس اتحاد المسلمین کی چوں کہ یہ ایک مسلم قیادت والی جماعت تو ہے لیکن ساتھ ہی خاندانی بالادستی اور سرمایہ دارانہ سونچ کی حامل ہے اس لیے مسلم سماج میں اس کا طاقتور ہونا ڈکٹیٹرشپ کو فروغ دے گا لہذا دیگر پارٹیوں کو سبق سکھانے کے لیے کچھ سیٹوں پر کامیاب کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کو بہت زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔
یہ حکمت عملی صرف موجودہ حالات کی بنیاد پر ہونا چاہیے ورنہ مسلمانوں کا آئندہ بھی اسی طرح بغیر کسی مستقل تیاری کے انتخابات کا سامنا کرنا مسلمانوں کی رہی سہی سیاسی حیثیت کو بھی ختم کردے گا