محنت زندگی کی وہ روشن شمع ہے جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ اَن تھک محنت وہ قوت ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دیتی ہے۔ جو انسان مسلسل کوشش کرتا ہے، وہ آخرکار کامیابی کے آسمان پر سورج کی طرح چمکتا ہے۔
انسان کی زندگی ایک کھیت کی مانند ہے۔ اگر کسان زمین کو مسلسل ہل چلا کر، بیج بو کر اور پانی دے کر اس کی پرورش کرے تو وہ سرسبز و شاداب فصل بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر انسان اپنے ارادوں کی زمین میں محنت کے بیج بوئے تو کامیابی کے پھول ضرور کھلتے ہیں۔
محنت ایک دریا کی مانند ہے جو چٹانوں سے ٹکرا کر بھی اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ مشکلات اگر پہاڑ کی طرح بلند بھی ہوں تو اَن تھک محنت انہیں ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ جو لوگ تھکن اور ناکامی سے گھبرا جاتے ہیں، وہ منزل سے دور رہ جاتے ہیں، مگر جو چراغ کی مانند جلتے رہتے ہیں، وہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کا سبب بنتے ہیں۔
ایک طالب علم جب رات کی تاریکی میں چراغ کے نیچے بیٹھ کر پڑھتا ہے تو اس کی محنت صبح کے سورج کی طرح کامیابی بن کر طلوع ہوتی ہے۔ اسی طرح ایک مزدور کی محنت پسینے کے قطروں کی صورت میں موتیوں کی مانند چمکتی ہے، کیونکہ انہی قطروں سے رزق کے دروازے کھلتے ہیں۔
Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah کی جدوجہد ایک ایسے مضبوط پہاڑ کی مانند تھی جسے آندھیاں بھی نہ ہلا سکیں۔ Allama Muhammad Iqbal کے افکار محنت اور بیداری کے چراغ تھے جنہوں نے قوم کے دلوں میں روشنی پیدا کی۔

باالکل جسنے محنت اور سوچ سمجھ کر کی 
وہ کامیاب وکامران رہا 
اسکے برعکس 
ناکامیوں سےدوچار رہا 

اللہ ہمیں ہر نیک کام میں  خصوصا اپنے  دین ں اسلام کےکام میں محنت کرنے کی توفیق  عطاء فرمائیں