نفسیات اور تصوف دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ "خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے"۔ ہمیشہ اپنی ذات کو اچھائی اور نیکی کے کاموں میں مصروف رکھیں۔ مصروف رہنا نفس کی فطرت میں شامل ہے؛ اگر آپ اسے اچھائی میں مشغول نہیں رکھیں گے، تو یہ خود کو برائی میں مصروف کر لے گا، کیونکہ نفسِ انسانی بالعموم برائی کی طرف ہی مائل رہتا ہے۔ خلا کے قانون سے مشتق ہے کہ نفس کبھی "خالی" نہیں رہ سکتا۔ یہ ایک برتن کی طرح ہے؛ اگر آپ اسے شہد (نیکی) سے نہیں بھریں گے، تو اس میں کڑواہٹ (بدی) خود بخود بھر جائے گی۔
قرآنِ کریم میں اللہ رب العزت نے نفس کی تین حالتیں (اقسام) بیان فرمائی ہیں:
نفسِ امّارہ: یہ وہ نفس ہے جو انسان کو برائی پر اکساتا ہے۔ یہ صرف اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اسے صحیح غلط کی پرواہ نہیں ہوتی۔
نفسِ لوّامہ: یہ وہ نفس ہے جو انسان کو برائی پر ملامت (شرمندہ) کرتا ہے۔ اسے ہم "ضمیر" (Conscience) بھی کہہ سکتے ہیں۔ جب انسان گناہ کرتا ہے تو یہ نفس اسے ٹوکتا ہے اور توبہ کی طرف لاتا ہے۔
نفسِ مطمئنہ: یہ نفس کی وہ بلند ترین حالت ہے جہاں انسان کو سکون اور اطمینان مل جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان مکمل طور پر اللہ کی رضا پر راضی ہو جاتا ہے اور گناہوں کی رغبت ختم ہو جاتی ہے۔
نفس انسان کا وہ داخلی وجود ہے جہاں سے خواہشات جنم لیتی ہیں۔ اسے "گھوڑے" سے تشبیہ دی جاتی ہے؛ اگر آپ اسے قابو میں رکھیں گے تو یہ آپ کو منزل (خدا اور نیکی) تک لے جائے گا، اور اگر یہ آپ کو قابو کر لے تو آپ کو گناہوں کی کھائی میں گرا دے گا۔
"يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ"
"اے ہمیشہ زندہ رہنے والے! اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے واسطے سے تجھ سے فریاد کرتا ہوں، میرے تمام حالات درست فرما دے اور مجھے ایک پل (آنکھ جھپکنے) کے لیے بھی میرے نفس کے حوالے نہ کر۔"
از قلم: زا-شیخ