“مولانا عبد اللہ سالم قمر چتر ویدی کی گرفتاری: انصاف یا ایک اور ظلم؟”
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (92)
آج کے دور میں جب انصاف، مساوات اور قانون کی بالادستی کے دعوے زور و شور سے کیے جاتے ہیں، مگر واقعات ایسے سامنے آتے ہیں جو ان دعووں کی حقیقت پر سوالیہ نشان لگا دیتے ہیں، جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا واقعی انصاف سب کے لیے برابر ہے یا نہیں. مولانا عبد اللہ سالم قمر چتر ویدی کی گرفتاری محض ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ ایک ایسی شخصیت، جس کی جانب منسوب بات پر وضاحت بھی آچکی ہو، صفائی بھی پیش کی جا چکی ہو—اس کے باوجود اچانک سول ڈریس میں گرفتاری…! یہ انصاف ہے یا کسی انا کی تسکین؟ کیا واقعی جرم کا تعین ثبوت سے ہوتا ہے یا پھر شناخت سے؟ کیا پولس کی آنکھیں واقعی بند ہیں یا صرف مخصوص چہروں کو ہی دیکھتی ہیں؟
یہ سوال صرف ایک فرد کا نہیں، ایک پورے نظام کا ہے۔ آخر وہ لوگ کہاں ہیں جو آئے دن کھلے عام نفرت اُگلتے ہیں؟ جو سرِعام قانون کو پامال کرتے ہیں، گنڈہ گردی کو اپنا حق سمجھتے ہیں؟ کیا کبھی ان کے دروازوں پر بھی ایسے ہی اچانک دستک دی گئی؟ کیا انہیں بھی اسی برق رفتاری سے قانون کے شکنجے میں جکڑا گیا؟
یا پھر پولس کی تیزی صرف وہاں جاگتی ہے جہاں مزاحمت کمزور ہو؟ یہ کیسا معیار ہے کہ ایک طرف وضاحت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، اور دوسری طرف کھلی بدمعاشی بھی نظر نہیں آتی؟ اگر یہی روش رہی، تو انصاف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔
یاد رکھنا چاہیے—یہ ملک کسی ایک کا نہیں، ہم سب کا ہے۔اس کی مٹی میں ہر طبقے کا خون شامل ہے، اس کی فضا میں ہر قوم کی سانس ہے۔ مسلمانوں نے بھی اس وطن کو اپنے لہو سے سینچا ہے، اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا ہے، اس کے حسن کو سنوارا ہے۔ یہ وطن ہم سب کا ہے…اور ہم یہیں تھے، یہیں ہیں، اور یہیں رہیں گے۔ اور انصاف کی آواز کو کبھی دبنے نہیں دیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ انصاف کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بنایا جائے۔ جب تک قانون کا ترازو سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، ایسے سوالات جنم لیتے رہیں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سچائی کو جگہ دی جائے اور انصاف کو واقعی زندہ رکھا جائے۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com