بنت محمد رافع✍️

ہمیں قبر میں موبائل کی روشنی نہیں چاہیے بلکہ قرآن کی روشنی چاہیے…
یہ دنیا ایک عارضی ٹھکانہ ہے، جہاں ہم دن رات مصروف رہتے ہیں—کبھی موبائل میں، کبھی سوشل میڈیا میں، کبھی فضول باتوں میں۔ ہاتھوں میں موبائل تو ہر وقت رہتا ہے، مگر دل قرآن سے خالی ہوتا جا رہا ہے۔ افسوس! جس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے نازل کیا، ہم نے اُسے صرف طاقوں میں سجانے یا خاص مواقع تک محدود کر دیا۔
سوچیے…
جب انسان قبر میں اتارا جاتا ہے، تو نہ کوئی موبائل ساتھ جاتا ہے، نہ کوئی دوست، نہ کوئی دنیاوی سہارا۔ وہاں اگر کوئی چیز کام آنے والی ہے تو وہ صرف اعمال ہیں—اور ان اعمال میں سب سے روشن عمل قرآن سے تعلق ہے۔
قبر اندھیری ہوتی ہے، مگر اس اندھیرے کو روشن کرنے والی چیز قرآن ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ قرآن اپنے پڑھنے والے کے لیے نور بن جاتا ہے، قبر میں راحت کا ذریعہ بنتا ہے، اور قیامت کے دن اپنے پڑھنے اور اس پر عمل کرنے والے کے حق میں سفارش کرتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے:
کیا ہم نے قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا؟
یا صرف موبائل کو ہی اپنی دنیا بنا لیا؟
ہم گھنٹوں موبائل اسکرین کو دیکھتے رہتے ہیں، مگر چند منٹ قرآن پڑھنا بھی بھاری لگتا ہے۔ ہم ہر نئی اپڈیٹ، ہر نئی ویڈیو سے واقف ہوتے ہیں، مگر اپنے رب کے کلام سے ناواقف رہتے ہیں۔
یہی تو اصل نقصان ہے…
کیونکہ دنیا کا وقت ختم ہو جائے گا، مگر آخرت ہمیشہ باقی رہے گی۔

اصل پیغام یہی ہے:
👉 موبائل میں وقت ضائع کرنے کے بجائے قرآن کے ساتھ تعلق مضبوط کریں۔
👉 روزانہ تھوڑا ہی سہی، مگر قرآن پڑھنے کی عادت بنائیں۔
👉 صرف تلاوت ہی نہیں، بلکہ سمجھ کر پڑھیں اور اس پر عمل بھی کریں۔
یاد رکھیں…
جس قرآن کو ہم نے دنیا میں نظر انداز کیا، وہی قیامت کے دن یا تو ہمارے حق میں گواہی دے گا، یا ہمارے خلاف۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن سے سچی محبت، اس کی تلاوت، سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے…

 آمین ثم آمین یا رب العالمین