معصوم ہاتھوں میں بستہ یا استحصال کی زنجیر؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مضمون (90)
شوال المکرم کا چاند صرف عید کی خوشیوں کا پیامبر نہیں، بلکہ دینی تعلیم کے ایک نئے سفر کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب مدارس کے دروازے کھلتے ہیں، بستے سنبھلتے ہیں، اور معصوم آنکھوں میں علم کے چراغ روشن ہونے لگتے ہیں۔ مگر اسی روشن منظر کے پس منظر میں کچھ ایسے سائے بھی گردش کرتے ہیں جو اس نورانی سفر کو دھندلا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ اس موقع پر ہم محض داخلے نہ کریں، بلکہ اپنے ضمیر کو بھی جگائیں۔ مدارس کے ذمہ داران کے لیے یہ لمحہ محض انتظامی مصروفیت کا نہیں بلکہ امانت و دیانت کا امتحان ہے۔ یاد رکھیے! آپ کے دروازے پر آنے والا ہر بچہ کسی ماں کی دعا اور کسی باپ کی امیدوں کا مرکز ہوتا ہے۔ لہٰذا داخلوں کے مرحلے میں زبان، علاقہ یا کسی بھی قسم کی تنگ نظری کو جگہ نہ دیں۔ دین کی خدمت کا میدان وسیع ہے، اس میں تعصب کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر نظم و ضبط کے لیے اصول مقرر ہیں تو وہ ضرور قائم رہیں، مگر ان اصولوں کی بنیاد انصاف اور اخلاص پر ہو، نہ کہ امتیاز اور تعصب پر۔
دوسری جانب والدین اور طلبہ کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا۔ ہر وہ جگہ جہاں “مدرسہ” کا بورڈ آویزاں ہو، ضروری نہیں کہ وہاں علم کی روشنی بھی ہو۔ کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں تعلیم کا لبادہ اوڑھ کر جہالت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جہاں بچوں کو علم نہیں بلکہ استعمال ہونا سکھایا جاتا ہے۔ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جہاں ننھے طلبہ کوگروہوں کی صورت میں لے جا کر شہروں، قصبوں اور ٹرینوں میں گھمایا جاتا ہے، اور جہاں بچوں کو محض نمائش کا سامان بنا کر ذاتی مفادات کی خاطر جمع (گھیر) رکھا جائے، اسے مدرسہ نہیں بلکہ استحصال کا اڈہ کہنا زیادہ مناسب ہے۔"ان بچوں کے معصوم وجود کو محض چند سکوں کے عوض پیش کیا جاتا ہے۔
یہ لمحہ سوچنے کا ہے:جب آپ ایک معمولی چیز خریدنے کے لی بارہا تحقیق کرتے ہیں، مختلف دکانوں کا رخ کرتے ہیں، تو پھر اپنے بچے کی زندگی اور آخرت کے فیصلے میں یہ احتیاط کیوں نہیں؟ کیوں آپ کسی کے میٹھے الفاظ یا وقتی یقین دہانیوں پر اپنے جگر کے ٹکڑے کو سونپ دیتے ہیں؟
یاد رکھیے! ایک اچھا مدرسہ اپنی پہچان خود بناتا ہے۔ وہاں طلبہ کو لانے کے لیے جال نہیں بچھائے جاتے، بلکہ اس کی علمی فضا، اخلاقی تربیت اور منظم نظام خود طلبہ کو کھینچ لاتا ہے۔ ایسے ادارے چراغ کی مانند ہوتے ہیں جن کی روشنی دور تک پھیلتی ہے، اور طالب علم خود اس روشنی کی طرف بڑھتے ہیں۔
البتہ وہ طلبہ جو اپنے اساتذہ یا ذمہ دار سرپرستوں کی نگرانی میں کسی مستند ادارے کا انتخاب کرتے ہیں، وہ یقیناً قابلِ رشک ہیں۔ ایسے خوش نصیبوں کے بارے میں اہلِ علم نے کیا خوب کہا کہ ان کے راستوں میں رحمت کے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔
آج کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ ہم تعلیم کے نام پر ہونے والے ہر فریب کو پہچانیں اور اس کے خلاف شعور بیدار کریں۔ مدارس کو چاہیے کہ وہ اپنی صفوں کو خالص کریں، اخلاص کو بنیاد بنائیں اور اپنے کردار سے اعتماد پیدا کریں۔ اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو محض ایک رسمی عمل نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک مقدس امانت کا تحفظ تصور کریں۔ اور یاد رکھیں!مدرسہ صرف ایک عمارت کا نام نہیں، یہ نسلوں کی تعمیر کی جگہ ہے۔ اگر یہاں انتخاب درست ہو جائے، تو تقدیریں سنور جاتی ہیں…اور اگر یہاں غلطی ہو جائے، تو صرف ایک بچہ نہیں، ایک پورا مستقبل اندھیروں میں کھو جاتا ہے۔.
شعر....... ہوشیار رہیں. بہت سی جگہیں.
علم کے نام پہ بازار سجا رکھے ہیں
بچے معصوم ہیں، کردار بکا رکھے ہیں
نامِ تعلیم پہ دھوکے کے جال پھیلائے
چند سکوں کے لیے ضمیر گرا رکھے ہیں
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com