لفظ "افواہ" عربی زبان کے لفظ "فؤہ" سے مشتق ہے، جو اردو میں بھی کثرت سے مستعمل ہے۔ قرآنِ مجید میں اس لفظ کا بارہ (12) مقامات پر ذکر آیا ہے، جہاں اس سے مراد ایسی بات ہے جو زبانوں پر تو ہو مگر اس کی کوئی ٹھوس حقیقت نہ ہو۔ سادہ الفاظ میں: جھوٹی خبر مشہور کرنا، اڑتی ہوئی باتیں پھیلانا، یا غیر یقینی اور غیر معتبر ذرائع سے حاصل ہونے والی
معلومات کو آگے بڑھانا "افواہ" کہلاتا ہے۔
دینِ اسلام نے افواہ کو محض ایک برائی نہیں بلکہ "گناہ" اور ایک "سماجی ناسور" قرار دیا ہے۔ اسلام اس سماجی برائی کو جڑ سے ختم کرنے کی تعلیم دیتا ہے اور بغیر تحقیق کسی بھی خبر کو پھیلانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔
 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو۔" (سورۃ الحجرات: 6)
اکثر ہم نیکی سمجھ کر کسی بات کی تشہیر کر رہے ہوتے ہیں، حالانکہ ہم درحقیقت برائی پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہوتے ہیں۔
        انسانی فطرت ہے کہ جب ایک بات ایک منہ سے نکل کر دوسرے تک پہنچتی ہے، تو وقت، حالات اور بولنے والے کے لہجے کی وجہ سے اس کے معنی بالکل تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال اس قدیم بستی کے لوگوں کی ہے جو نہایت مہمان نواز تھے۔ ایک بار ان کے ہاں ایک مسافر ٹھہرا۔ دسترخوان سجا تو میزبان نے ایک بڑی سی "لاٹھی" لا کر مہمان کے سامنے رکھ دی۔ مہمان یہ دیکھ کر سہم گیا کہ شاید کھانا ختم نہ کرنے پر اس لاٹھی سے اس کی خبر لی جائے گی۔
برسوں بعد جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ دراصل دانت صاف کرنے والی ایک چھوٹی سی تنکا (Toothpick) تھی، جو نسل در نسل سفر کرتے کرتے اور لوگوں کی "اضافہ پسندی" کی وجہ سے لاٹھی کی شکل اختیار کر گئی تھی۔ یہی حال ہماری باتوں کا ہوتا ہے؛ ایک چھوٹی سی بات جب افواہ بنتی ہے تو رشتوں میں بگاڑ اور بدگمانیوں کا سبب بن جاتی ہے۔
  آج کل سوشل میڈیا پر پوسٹس، خبریں اور نام نہاد احادیث کو ہم بغیر سوچے سمجھے 'Forward' کر دیتے ہیں۔ ہمارا گمان ہوتا ہے کہ یہ صدقہِ جاریہ ہے، لیکن تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے وہ اکثر "گناہِ جاریہ" بن جاتا ہے۔
کئی ایسی باتیں منسوب کر دی جاتی ہیں جن کا اسلام یا حدیث سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
      یاد رکھیے! زبان سے نکلا ہوا لفظ یا سوشل میڈیا پر آپ کے ایک 'کلک' سے فارورڈ ہونے والی خبر صرف ایک پیغام نہیں، بلکہ معاشرے میں فساد یا اصلاح کی بنیاد ہے۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے خود سے تین سوال ضرور کریں:
کیا یہ سچ ہے؟
کیا یہ ضروری ہے؟
کیا یہ باعثِ خیر ہے؟
اگر ان میں سے کسی ایک کا جواب بھی "نہیں" ہے، تو خاموشی ہی بہترین حکمتِ عملی ہے، ورنہ ہماری نادانی ہماری نیکیوں کو لاٹھی بن کر مسمار کر دے گی۔

از قلم زا-شیخ