*قوم اور ذاتیات کی بنا پر اپنے بچوں کی زندگی سے کھیلنے والوں سنو*
کتنا عجیب مذاق ہے، کیسی حیرت انگیز ستم ظریفی ہے کہ والدین خود کو محسنِ اعظم سمجھتے ہیں مگر اپنی اولاد کی زندگی کو اپنی انا کے شکنجے میں کس کر اسے سانس تک نہیں لینے دیتے، وہ اولاد جسے اللہ نے امانت بنایا تھا اُسے اپنی ضد، اپنی خواہشات، اپنی ناک اور اپنے خاندان کی فرضی عزت کے نام پر قربان کر دینا گویا کوئی عبادت سمجھتے ہیں، حالانکہ قرآن اعلان کرتا ہے *وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلَّا عَلَيْهَا (کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی)* مگر ہمارے والدین کا طرزِ عمل دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید یہ آیت ان پر نہیں اتری بلکہ کسی اور کہکشاں کے لوگوں کے لیے نازل ہوئی تھی، اور یہی والدین *جب نکاح کے معاملے میں ذات، قومیت، برادری اور خاندان کی دیواریں کھڑی کرتے ہیں تو صرف ظلم نہیں بلکہ اللہ اور رسول ﷺ کی شریعت پر کھلی بغاوت کرتے ہیں* حالانکہ قرآن نے صاف طور پر اعلان کر دیا *﴿هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ (وہی ہے جس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا)* مگر لگتا ہے کچھ لوگ ابھی تک اپنے خاندان کے کارخانوں سے بنے ہوئے بت چھوڑنے کو تیار نہیں۔
نکاح کے معاملے میں جبر کرنے والوں کی عجیب طنزیہ دانش ہے کہ خود تو اللہ اور رسول کے حکم کی بات کرتے ہیں مگر اسی اللہ کے صاف صاف فرمان کو روندتے ہیں جس میں فرمایا *فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ (عورتوں پر زبردستی اور روک ٹوک نہ کرو)* اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا *لَا تُنْكَحُ الْأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ وَلَا تُنْكَحُ الْبِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ(کسی بیوہ کا نکاح اسکے حکم کے بغیر نہ کرو اور کسی باکرہ کا نکاح اسکی اجازت کے بغیر نہ کرو* مگر افسوس کچھ والدین کے نزدیک شاید یہ احادیث بھی سوشل میڈیا کے فیک اسٹیٹس ہیں، یہی نہیں بلکہ قرآن نے قومیت پر فخر کرنے والوں کو جاہلیت کے اندھیرے میں ڈالا *﴿إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ﴾ (کافروں نے اپنے دلوں میں جاہلیت کی ضد بھری رکھی)* مگر آج کچھ لوگ اسی جاہلیت کو روایت، غیرت، اور خاندان، کے نام پر زندہ رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ اللہ نے اعلان کیا *﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ (اللہ کے نزدیک عزت والا وہ ہے جو زیادہ متقی ہے)* نہ کہ بڑا خاندان والا۔
اگر واقعی قومیت اور ذاتیت کا اتنا بڑا رول ہے پھر کیا کہو گے نبی کریم ﷺ، و صحابہ کرام، و تابعین عظام،اولیاء کرام وغیرہم کے بارے میں جنہوں نے دوسری قوم دوسری ذات اور دوسرے قبیلے سے شادی کی،پوری کائنات میں اگر سب سے معزز کوئی خاندان ہے وہ نبی اکرم ﷺ ہیں *قریش* لیکن بہت سی قریش کی عورتیں دوسرے قبیلے میں اور بہت سے قریشی مردوں کے نکاح میں دوسرے قبیلے کی عورتیں، تم زیادہ سمجھتے ہو شریعت کو یا اللہ کے نبی ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین،یا تم نے ٹھیکہ لے رکھا ہے جیسا تم چاہو گے ویسا کروگے کوئی شریعت تمہارے باپ کی جاگیر ہے۔
*کچھ مثالیں پیش خدمت مرد دوسرے قبیلے سے عورت دوسرے قبیلے سے* اسلام کا سب سے بڑا انقلاب یہی تھا کہ اس نے قوم، نسل، زبان، رنگ، قبیلہ سب کو پاؤں تلے روند دیا، اور انسان کو انسان ہونے کا مقام دیا، رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہونے والے کئی نکاح ایسے تھے کہ آج کی برادری زدہ سوسائٹی ہوتی تو ان شادیوں کے نام پر بھی ہنگامے کھڑے ہو جاتے، مگر رسول ﷺ نے قومیت کے سارے دروازے توڑ دیے،
*حضرت بلال حبشیؓ کا عرب خاندان میں نکاح* بلالؓ حبشہ کے سیاہ فام غلام، عرب معاشرے میں سب سے کم درجے کے سمجھے جاتے تھے، مگر اسلام نے انہیں وہ مقام دیا کہ عرب گھرانے نے انہیں داماد کے طور پر قبول کیا، یہ وہ روشن اعلان تھا کہ اسلام رنگ، نسل یا ملکیت نہیں دیکھتا، صرف تقویٰ دیکھتا ہے،
*حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ* کا مدینہ کے عرب گھرانے میں نکاح فارس کے رہنے والے، زبان الگ، ثقافت الگ، قوم الگ مگر نبی ﷺ نے انہیں اہلِ مدینہ کا حصہ بنا کر عجمی اور عرب کی دیوار جڑ سے اکھاڑ دی۔
حضرت صفیہ کا رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں آنا *ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا* بنی نضیر کے یہودی قبیلے سے تھیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کر کے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ اسلام قومیت اور نسل پر نہیں بلکہ ایمان اور انسانیت پر کھڑا ہے، *ام المومنین حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا* کا رسول اللہ ﷺ سے نکاح بنو مصطلق کا الگ قبیلہ، الگ تہذیب، مگر نبی ﷺ نے نکاح کیا اور ان کے قبیلے کے سینکڑوں لوگوں نے اسی برکت سے اسلام قبول کیا، اسلام نے کبھی قومیت کو نکاح کی رکاوٹ نہیں بنایا۔
*حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ* کا اپنی بیٹی *حفصہ رضی اللہ عنہا* کا نکاح دین دار شاگردِ نافع رضی اللہ عنہ سے کرنا نہ قریشی ہونا مسئلہ بنا، نہ آزادی اور غلامی کا فرق، حضرت عمر نے صرف دین دیکھا، نسب نہیں،
حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن کا نکاح سالم رضی اللہ عنہ مولیٰ ابی حذیفہ سے کرنا یہ اسلام کی سب سے طاقتور مثال ہے، ایک غلام نے اس خاندان میں جگہ پائی جسے جاہلیت میں شرفاء کی صف میں رکھا جاتا تھا یہ اسلام کے انقلابی مساوات کی دلیل ہے،
*حضرت فاطمہ بنت قیس* کا نکاح *اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ* سے ہونا، اسامہ غلام کے گھر پیدا ہوئے، اور فاطمہ قریشی تھیں، مگر رسولِ کریم ﷺ نے ان دونوں کا رشتہ کرایا، یہ ایک اعلان تھا کہ نکاح کا معیار صالحیت ہے، نسب نہیں۔
یہ کیسا عجیب مذاق ہے کہ والدین اپنی اولاد کے جذبات کو بچوں کی بےوقوفی اور اپنی ہر ضد کو تجربہ کہہ کر حق تلفی کرتے ہیں، یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر جبری نکاح کے نتیجے میں اولاد پوری زندگی ٹوٹتی رہی تو قیامت کے دن جواب دہ وہ ہوں گے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
*مَنْ ضَارَّ مُسْلِمًا ضَارَّهُ اللَّهُ (جس نے کسی مسلمان کو نقصان پہنچایا، اللہ اسے نقصان پہنچائے گا)* مگر یہاں نقصان پہنچانا والدین کا پیدائشی حق سمجھا جاتا ہے، جبکہ قرآن نے ایمان کو نسب پر فوقیت دیتے ہوئے فرمایا *﴿إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ﴾ (مومن بھائی ہیں)* اور یہاں بھائی چارہ ایمان سے ہوتا ہے نہ کہ برادری سے،اصل ایمان ہے، مگر ہماری سوسائٹی ایمان سے زیادہ برادری کے ٹھپے پر یقین رکھتی ہے۔
کچھ والدین اپنی انا کی عمارت کو پہاڑ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک اینٹ بھی ہٹ گئی تو دنیا ہل جائے گی، مگر قرآن چیخ کر کہتا ہے *إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِينَ (اللہ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا)* اور رسول اللہ ﷺ نے قومیت پر مبنی فخر کو یوں روند دیا *دَعُوهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ (قومیت کا جھگڑا چھوڑ دو، یہ بدبودار ہے)* اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے کسی برادری کی شرط نہیں رکھی بلکہ فرمایا *إِذَا أَتَاكُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِينَهُ وَخُلُقَهُ فَزَوِّجُوهُ (جب کوئی دین دار شخص آئے تو نکاح کر دو)* صحابہ نے قومیت توڑ کر مثالیں قائم کیں، تابعین اور اولیاء نے بھی یہی راستہ اختیار کیا، مگر آج کے والدین، یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ایمان کا معیار اللہ نہیں بلکہ ان کی برادری کا سربراہ طے کرتا ہے۔
آخر میں وہ طنزیہ حقیقت بھی سن لیجیے کہ جب جبری شادی برباد کر کے اولاد کسی دن پوچھ لے کہ آپ نے میری زندگی کیوں تباہ کی؟ تو جواب میں بڑا نورانی جملہ سننے کو ملتا ہے *ہم نے تمہاری بہتری کے لیے کیا تھا* گویا اللہ نے انہیں انسان نہیں بلکہ تقدیر لکھنے والا نبی بنا کر بھیجا، حالانکہ رسول اللہ ﷺ صاف فرما چکے *إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ (اطاعت صرف نیکی میں ہے)* ظلم، زبردستی، جذبات کا قتل، قومیت کا بت کب سے نیکی ہو گئے؟ قرآن نے قومیت کی بنیاد پر فیصلے کو جاہلیت کہا، حدیث نے اسے بدبودار کہا، صحابہ نے اسے توڑ ڈالا، تابعین نے اسے رد کیا، اولیاء نے اسے حقیر جانا، اور آج تم ہو کہ اپنی ذات کو اللہ کے حکم سے بڑا بنا بیٹھے ہو؟ جو لوگ قومیت اور برادری کی بنیاد پر رشتے روکتے ہیں، وہ ظالم ہیں، جاہلیت کے وارث ہیں، اور اللہ کی سخت پکڑ کے مستحق ہیں، افسوس کہ یہ ظلم نہ انہیں دکھائی دیتا ہے اور نہ انہیں اس کا انجام معلوم ہے۔
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*