گھر کی زندگی بھی کیا خوب زندگی ہوتی ہے! صبح آنکھ کھلتی تو ماں کی آواز آتی: “اٹھ جا بیٹا، سورج سر پر آگیا ہے!” اور ہم کمبل میں ایسے چھپ جاتے جیسے دنیا کا سب سے بڑا کام نیند ہی ہو۔ کبھی ماں کے ہاتھ کا مکھن، دودھ اور دہی ملتا، کبھی گندم کی خوشبو، کبھی کیکر کے درختوں کی چھاؤں، اور کبھی گلیوں میں بہتے پانی کے نالے… سب کچھ اپنا سا لگتا تھا۔
محلے کی زندگی بھی کمال تھی۔ کبھی ہمسائیوں کی لڑائی سن کر مزہ آتا، کبھی خود ہی کسی سے روٹھ جاتے اور پھر خود ہی منوانے کے چکر میں لگ جاتے۔ کبھی کوئی ہمیں تحمل کا درس دیتا، تو کبھی ہم کسی کو محبت بانٹتے پھرتے۔ رشتہ داروں کے ساتھ ہنسی مذاق، چھوٹی چھوٹی باتوں پر قہقہے… یہی تو ہماری دنیا تھی۔
مگر پھر ایک دن آیا جب ہمیں کہا گیا: “اب تم مدرسے جاؤ گے!”
دل میں عجیب سی کیفیت تھی۔ ایک طرف ماں کی گود چھوڑنے کا دکھ، دوسری طرف ایک نئی دنیا کا شوق۔ ہم نے گھر کی دہلیز کو دیکھا، ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے، اور ہم بھی اندر ہی اندر کچھ ٹوٹتا محسوس کر رہے تھے… مگر چہرے پر بہادری کا نقاب سجائے ہم روانہ ہو گئے۔
مدرسہ… وہ جگہ جہاں پہنچ کر لگا کہ ہم کسی اور ہی دنیا میں آگئے ہیں۔ شروع شروع میں تو ہر چیز اجنبی لگتی تھی۔ نہ ماں کی آواز، نہ وہ گلیاں، نہ وہ نالے، نہ وہ جھگڑے! بس خاموشی… اور کتابیں۔
مگر آہستہ آہستہ ہمیں احساس ہوا کہ یہ مدرسہ بھی کسی ماں کی گود سے کم نہیں۔ یہاں اساتذہ ہمیں ایسے سمجھاتے جیسے باپ شفقت سے سمجھاتا ہے، اور کبھی کبھی ڈانٹ بھی ایسی ملتی کہ آنکھوں میں آنسو آ جائیں، مگر دل پھر بھی مان جاتا۔
یہاں بھی دوست بنے… اور پھر وہی کہانیاں شروع! کبھی کسی سے جھگڑا، کبھی اسی سے ہنسی مذاق۔ ایک دن لڑائی، اگلے دن دوستی۔ کبھی دل کا حال سنانا، کبھی کسی کے دکھ سننا۔ یوں لگتا تھا جیسے ہم گھر سے دور ہو کر بھی ایک نیا گھر بنا رہے ہیں۔
مدرسے کی زندگی نے ہمیں صرف کتابیں نہیں سکھائیں، بلکہ جینا بھی سکھایا۔ صبر کیا ہوتا ہے، محبت کیسے بانٹتے ہیں، بڑوں کی عزت کیسے کرتے ہیں، اور کامیابی کے لیے محنت کیسے کرتے ہیں—یہ سب ہمیں یہیں سیکھنے کو ملا۔
کبھی کبھی رات کو ماں کی یاد آتی ہے، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں… مگر پھر دل خود کو سمجھاتا ہے کہ ہم ایک اچھے مقصد کے لیے یہاں آئے ہیں۔
آج ہم ہنستے بھی ہیں، کبھی روتے بھی ہیں، مگر ایک بات ضرور ہے—
ہم گھر سے نکلے ضرور ہیں، مگر ستارہ بننے کیلیے