امام شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت آی اور اس نے کہا" امیر المومنین ! میرے شوہر جیسا نیک آدمی شاید دنیا میں کوئی نہیں ۔ وہ دن بھر روزہ لکھتے اور رات بھر نماز پڑھتے رہتے ہیں " یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گیٔ ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کی بات کا منشا پوری طرح نہ سمجھ پاۓ اور فرمایا: "اللہ تمہیں برکت دے اور تمہاری مغفرت کرے ۔ نیک عورتیں اپنے شوہر کی ایسے ہی تعریف کرتی ہیں ۔"
عورت نے یہ جملہ سنا ، کچھ دیر جھجکی ، رکی اور پھر واپس جانے کے لیے کھڑی ہو گئی ۔
کعب بن سوار رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ انہوں نے عورت کو واپس جاتے دیکھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : " امیر المومنین ! آپ اس کی بات نہیں سمجھے ، وہ اپنے شوہر کی تعریف نہیں شکایت کرنے آی تھی ۔ اس کا شوہر جوش عبادت میں زوجیت کے پورے حقوق ادا نہیں کرتا۔ "
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: " اچھا یہ بات ہے۔ بلاؤ اسے"۔ وہ عورت واپس آی اس سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ واقعی حضرت کعب بن سوار رضی اللہ عنہ کا خیال صحیح تھا ۔ حضرت عمر نے ان سے فرمایا کہ" اب تم ہی اس کا فیصلہ کرو۔ "
حضرت کعب نے کہا: " امیر المومنین! آپ کی موجودگی میں کیسے فیصلہ کروں ؟؟"
حضرت عمر نے فرمایا: " ہاں ! تم نے ہی اس کی شکایت کو سمجھا تم ہی اس کا ازالہ کرو ۔"
اس پر حضرت کعب نے کہا: " امیر المومنین اللہ تعالیٰ نے مرد کو ذیادہ سے ذیادہ چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دی ہے ، اگر کوئی شخص اس اجازت پر عمل کرتے ہوئے چار شادیاں کرے تو بھی ہر بیوی کے حصہ کے میں چار میں سے ایک دن رات آتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر چوتھا دن رات ایک بیوی کا حق ہے ۔ لہٰذا آپ فیصلہ دیجیے کہ اس عورت کا شوہر تین دن عبادت کر سکتا ہے لیکن چوتھا دن لازماً اسے اپنی بیوی کے ساتھ گزارنا چاہیے ۔"
یہ فیصلہ سن کر حضرت عمر پھڑک اٹھے اور فرمایا : " یہ فیصلہ تمہاری پہلی فہم و فراست سے بھی زیادہ عجیب ہے۔"
اس کے بعد حضرت عمر نے حضرت کعب کو بصرہ شہر کا قاضی بنا دیا ۔