حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی روح لینے کے لیے ملک الموت آئے انہوں نے فرمایا:

"ھل رأیت خلیلا یقبض روح خلیلہ"

کیا آپ نے کسی ایسے دوست کو دیکھا جو اپنے خلیل کی روح کو قبض کر رہا ہو، انہوں نے کہا کہ اچھا اللہ تعالیٰ سے پوچھتا ہوں، ملک الموت نے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کیا اللہ نے فرمایا: کہ جاؤ میرے حبیب کو پیغام دے دو 

"ھل رأیت خلیلا یکرہ لقاء خلیلہ"

کیا تم نے کسی دوست کو دیکھا کہ اپنے دوست کی ملاقات سے انکار کر رہا ہو، تو جیسے ہی ان کو پتہ چلا کہ موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا طریقہ ہے، کہنے لگے ملک الموت "عجل عجل" جلدی کر جلدی کر روح قبض کر، مجھے اپنے مالک سے واصل کر دے، یہ تھی تمنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کہ اب تو جلد سے جلد اپنے پیارے اللہ کے حضور جا پہنچیں اور ملاقات حبیب سے لطف اندوز ہوں۔ اسی لیے حدیث پاک میں فرمایا حدیث قدسی سے: 

﴾اَلَا طَالَ شَوْقُ الْاَبْرَارِ اِلَی لِقَائِی وَاَنَا اِلَیْھِمْ لَاَشَدُّشَوْقًا﴿

ملاقات کر کہ میرے نیک لوگوں کا شوق میری ملاقات کے لیے بڑھ گیا اور میں ان کی ملاقات کے لیے ان سے بھی زیادہ مشتاق ہوں۔ (تمنائے دل ص ٢٣٩)

الفت میں جب مزا ہے کہ ہوں وہ بھی بے قرار 
دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی 

-ماخوذ: اہل دل کے تڑپا دینے والے واقعات-