احمد ایک اچھا شہری تھا
اس نے کبھی بھی کوئ قانون نہیں توڑا تھا
ایک روز اس کی والدہ کی اچانک طبیعت خراب ہو گئی 
تو وہ اپنی والدہ کو ہسپتال لے کر گیا
راستے میں ایک جگہ پر
 سیکیورٹی فورسز کا ناکہ لگا ہوا تھا
احمد یہ ناکہ دیکھ کر بہت ہی پریشان  ہوا
بہرحال وہ سیکیورٹی فورسز کی جانب بڑھنے لگا
اسی اثناء میں کسی نے دہشت گرد کا شور مچایا 
احمد یہ شور سن کر گھبرا گیا
ابھی وہ حالات کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ کسی نے اس کی گردن دبوچ لی
اور اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا 
جب اسے ہوش آیا تو وہ ایک کوٹھری میں بند تھا
تھوڑی ہی دیر گزری تھی 
کہ دو لمبے تڑنگے آدمی اس کی بیرک میں داخل ہوئے 
ایک نے آتے ہی مارنا شروع کر دیا جب کہ دوسرا بتیسی نکالے ہنس رہا تھا
اس سے پوچھ گچھ شروع کردیا
بلآخر وہ دو ماہ بعد ہی 
باہر آگیا۔اسے باہر آکر پتہ چلا کہ میری ماں وقت سے ہسپتال نہ پہنچنے کی وجہ سے وفات پا گئ ہے
اب اس نے تحقیقات شروع کی 
تو پتہ چلا کہ اس دن کوئ وزیر آرہا تھا 
جس کی وجہ سے اس کی ماں وفات پاگئ تھیں 
اور وہ دو ماہ جیل کی ہوا بھی کھا چکا تھا
اب اس نے انتقام کا سوچا
کیوں کہ اس کی کل کائنات اس کی ماں ہی تھی 
وہ والدین کا اکلوتا بیٹا تھا 
نہ کوئی بہن نہ بھائی 
باپ بچپن ہی میں چل بسا تھا
اب اس نے انتقام کا راستہ اختیار کیا 
سینکڑوں افراد کو قتل کیا
گزشتہ روز اس کے مرنے کی خبر دیکھی 
حیرانی ہوئی 
کہ اتنا شریف سیدھا سادہکیسےچور ہو سکتا ہے
تو کسی نے اس کی داستان سنائی 
بہر حال سوال یہ ہے کہ آخر 
اسے انتقام اور شدت پسندی کی طرف میلان کیا ہے 
تو کیوں ؟
آخر اس کو باغی کس نے بنایا ؟