(47)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"نتائج نہیں، پیغام دیکھو — استقامتِ ایمان اور اتحاد کی نئی پکار"

--------------------

"وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم بکھراؤ چھوڑ کر ایک ملت بن کر اٹھیں — ورنہ نتائج بدلیں گے نہیں، صرف دہرائے جائیں گے"

      تمہید

الیکشن محض ووٹوں کی گنتی نہیں ہوتا _ یہ قوموں کی سوچ، شعور اور باہمی یکجہتی کا آئینہ ہوتا ہے۔

ہر چناؤ کے بعد نتیجہ جو بھی آئے، اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اس امتحان میں اپنے کردار، ایمان اور اتحاد کو کہاں کھڑا پایا؟

بہار اسمبلی انتخابات کا نتیجہ سامنے آگیا۔ جس پارٹی کا مقدر تھا، وہ جیت گئی۔ لیکن ایک ہوش مند قوم نتائج کو صرف سیاسی جیت اور ہار کی عینک سے نہیں دیکھتی، بلکہ اسے عبرت اور اصلاح کا دروازہ سمجھتی ہے۔

قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے:

> “قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ”

یعنی حکومتیں تو اللہ کے فیصلے سے بدلتی ہیں، انسانوں کے شور سے نہیں۔

اصل پیغام: تو استقامت اور اتحاد ہے 

   عزیزانِ ملت!

آپ سے گلہ ہے، شکوہ ہے _آپ اتحاد سے دور اور بکھراؤ کے بہت قریب ہیں۔

جس قوم کے دل بٹے ہوں، اس کے ووٹ بھی بکھر جاتے ہیں، اور پھر وہ خود حیران کھڑی رہ جاتی ہے کہ نتیجہ ایسا کیوں آیا۔

   یاد رکھیے!

کوئی سیاسی پارٹی خدا نہیں، اور خدا کسی پارٹی کا محتاج نہیں۔

ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ:

اپنے ایمان پر جم جائیں، اپنی صفوں کو مضبوط کر لیں، اور اپنی اجتماعی طاقت کو پہچان لیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

> “المؤمن للمؤمن كالبنيان يَشُدُّ بعضُه بعضًا”

مؤمن مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ہر حصہ دوسرے کو سہارا دیتا ہے۔

لیکن یہاں حالت یہ ہے کہ ہم نے دیوار کی اینٹیں تو بنا لیں، مگر انہیں جوڑنے کا گارا_ یعنی اتحاد. چھوڑ دیا۔

نتیجہ وہی آیا جو بکھری ہوئی امت کا مقدر ہوتا ہے۔

اگرچہ کچھ سیٹوں پر ہمیں خوشیاں بھی ملی، مگر یہ ادھوری ہے اور اس کے ذمہ دار بیشک ہم نہیں، بلکہ وہ پارٹی ہے جو سیکولر کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے اور اپنی کمزوری چھپانے کے لیے الزام ہمارے سر تھوپ کر بچنا چاہتی ہے۔ یاد رکھیں! ہم کسی پارٹی کو جتانے کا ٹھیکہ نہیں لیے ہوئے۔ ہمیں بس اپنا سبق یاد کرنا ہوگا اور حالات کو سمجھنا ہوگا، تبھی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔

نتائج سے گھبرائیں نہیں _ یہ ایک نوشتۂ دیوار ہے

الیکشن کا نتیجہ ناکامی نہیں _

بلکہ اللہ کی طرف سے یاد دہانی ہے کہ:

اپنے کردار کو بہتر کرو

اپنی صفوں کو جوڑو

اور ایمان پر استقامت سے جم جاؤ

کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> “إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ”

اگر تم اللہ کے دین کو مضبوطی سے تھام لو، وہ تمہیں سربلند کر دے گا۔

اور ایک اور وعدہ:

> “وَالْعَاقِبَةُ لِلمُتَّقِينَ”

آخر کار کامیابی تو اہلِ تقویٰ ہی کی ہوتی ہے۔

لہٰذا، جو قوم ایمان پر ثابت قدم ہو جائے

اور باہمی رنجشوں کو چھوڑ کر ایک جماعت بن جائے _

اسے دنیا کی کوئی طاقت کمزور نہیں کر سکتی۔

از سرِ نو تعمیر کا وقت

یہ نتیجہ ہمیں بتا رہا ہے: 

اپنی صفیں درست کرو

اپنی ترجیحات سیدھی کرو

ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لو

قوم کی اجتماعی آواز ایک کرو

"اگر ہم آج سنبھل جائیں تو کل کی تاریخ ہمارا انتظار کرے گی_ اور اگر بکھرے رہے تو نتائج پھر وہی لکھے جائیں گے۔"

    اختتامیہ

اے اہلِ ایمان!

رات کے بعد اجالا آتا ہے یہ اللہ کی سنت ہے۔

اگر ہم واقعی مؤمن ہیں، تو اس کے وعدے سچے ہیں۔

اللہ وہ قادرِ مطلق ہے جو کبھی اپنے بندوں کو بے سہارا نہیں چھوڑتا۔

لیکن شرط یہ ہے کہ ہم سچے ایمان، پختہ استقامت اور مضبوط اتحاد کے راستے پر ثابت قدم رہیں۔

یاد رکھیں:

> “وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ”

اگر تم سچے مؤمن ہو تو تم ہی سربلند رہو گے۔

نتیجہ آیا، گزر گیا _

اب وقت ہے کہ ہم خود کو بدلیں، سنبھلیں اور ایک متحد قوم بن کر آگے بڑھیں۔

اللہ ہماری کمزوریوں کو طاقت میں بدل دے،

ہماری بکھری صفوں میں اتحاد پیدا کرے،

اور ہماری قوم کو ایمان، حکمت اور بصیرت عطا فرمائے۔

آمین۔

   بقلم محمودالباری mahmoodulbari342@gmail.com