🥹*اے ماہِ مبارک کی ساعتوں ذرا آہستہ چلو*🥹
رمضان المبارک کی یہ پرنور ساعتیں، یہ رحمتوں کی برکھا اور مغفرت کی ٹھنڈی ہوائیں، جب رخصت ہونے لگتی ہیں تو ہر صاحبِ ایماں کا دل اداس اور آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں، اے ماہِ صیام کی مقدس گھڑیو! ذرا اپنی رفتار تھام لو، ابھی تو گناہگاروں نے ندامت کے آنسوؤں سے اپنے دامن کو پوری طرح نہیں دھویا، ابھی تو سجدوں کی حلاوت باقی ہے، ابھی تو سحر کے نور اور افطار کی برکتوں سے روح سیر نہیں ہوئی، تم تو ربِ کائنات کے انعام کا وہ عظیم الشان دسترخوان ہو جس کی خوشبو سے مومن کا انگ انگ مہکتا ہے، تم تو وہ مہینہ ہو جس کی ہر شب عرشِ الٰہی سے صدا آتی ہے کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا جس کی توبہ قبول کی جائے؟ جب تم تشریف لاتے ہو تو فضاؤں کا رنگ بدل جاتا ہے، مسجدوں کی رونقیں لوٹ آتی ہیں، اور دلوں کی بنجر زمین ذکرِ الٰہی سے شاداب ہو جاتی ہے، لیکن تمہارے جانے کی یہ خاموش دستک دلوں کو تڑپا دیتی ہے کہ کیا معلوم اگلے برس زندگی ہمیں اس بہارِ جاں فزا تک پہنچنے کی مہلت دے گی یا نہیں؟
اے ماہِ قرآن! تیری جدائی کا تصور ہی روح کو لرزا دیتا ہے، کیونکہ تو محض ایک مہینہ نہیں بلکہ تزکیۂ نفس کا ایک مکمل مدرسہ ہے، تیرے رخصت ہوتے ہی وہ سحر کے نورانی لمحے، وہ تلاوتِ قرآن کی دلنشین صدائیں، وہ تراویح کا تقدس اور راتوں کی تنہائی میں اپنے رب سے کی جانے والی سرگوشیاں سب رختِ سفر باندھ لیں گی، کتنا بخت آور ہے وہ شخص جس نے ان لمحوں کی قدر کی اور اپنی جھولی کو رب کی رضا سے بھر لیا، اور کس قدر محروم ہے وہ بدنصیب جس نے اس موسِمِ رحمت کو پا کر بھی اپنے گناہوں کی بخشش نہ کروائی۔
اے ماہِ صیام، اے روح کے گلستاں میں بہار لانے والے مقدس مہمان! اب جبکہ تیرے رختِ سفر باندھنے کی گھڑی قریب آ پہنچی ہے، تو جاتے جاتے ہمارے ان ٹوٹے پھوٹے اعمال کی گواہی اپنے ساتھ لے جانا، تو گواہی دینا کہ ہم نے تیرے تقدس اور احترام کی خاطر تپتی دوپہروں کی شدت میں اپنی پیاس کو بھی صبر کا رنگ دیا، اور حلق میں کانٹے چبھنے کے باوجود محض اپنے رب کی رضا کے لیے لبوں کو سی لیا، تو گواہی دینا کہ ہم نے اپنی نیندیں اور اپنی راتوں کا سکون تیرے خالق کو منانے کے لیے قربان کیا، اور مصلوں پر کھڑے ہو کر ان تھکی ہوئی آنکھوں سے ندامت کے آنسو اس امید پر بہائے کہ شاید ہمارا نام بھی اس مہینے میں جہنم سے آزاد ہونے والوں کی فہرست میں لکھ دیا جائے، تیری ہر ساعت موتیوں سے زیادہ قیمتی اور تیرا ہر پل انمول ہے، کیونکہ تو وہ مہینہ ہے جس میں کائنات کا ذرہ ذرہ تسبیح خواں ہوتا ہے اور آسمان سے رحمتیں بارش کی طرح برستی ہیں۔
وقت کی بے رحم لہروں کو کوئی نہیں روک سکتا، مگر یاد رکھیے کہ ان آخری ایام میں اب بھی توبہ کا در کھلا ہے اور رحمتِ الٰہی پکار رہی ہے، جو چند لمحے باقی ہیں انہیں غنیمت جانیے، اپنے شکستہ دلوں کو بارگاہِ رب العزت میں پیش کیجیے، اور ان الوداعی گھڑیوں میں اپنی، اپنے پیاروں کی اور پوری امتِ مسلمہ کی سربلندی کی دعا مانگیے، اگرچہ یہ مبارک مہینہ ہم سے جدا ہو رہا ہے، لیکن اس مہینے کا رب ہمیشہ رہنے والا ہے، ان ساعتوں کے جانے کا غم ہمیں اس پختہ عہد کی طرف لے جائے کہ ہم رمضان کے بعد بھی تقویٰ، پرہیزگاری اور بندگی کے اسی راستے پر گامزن رہیں گے جو ہمیں اس ماہِ عظیم نے سکھایا ہے، اے اللہ! ہمیں ان آخری ساعتوں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے اور ہماری ان ناچیز عبادتوں کو قبول فرما کر ہمیں جہنم کی آگ سے نجات عطا فرما آمیـــــــــــــــــن یــــا رب الــــــــعـــــــالــــــمـــــیــن بجاہ النبی الکریم ﷺ🤲🏻
*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*